مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق عالمی بنک کی جانب سے جمعہ کے روز جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ غزہ کی پٹی کو درپیش معاشی اور مالیاتی بحران کے حل کا واحد راستہ یہی ہے کہ عالمی برادری، فلسطینی اتھارٹی اور اسرائیل غزہ کی پٹی کی امداد فوری طورپر جاری کردیں۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اسرائیل کی معاشی پابندیوں اور بار بار کی جنگوں کے نتیجے میں غزہ کی پٹی بدترین تباہی سے دوچارہوئی ہے۔
عالمی بنک نے خبردار کیا ہے کہ اسرائیل کی جانب سے غزہ کی پٹی پرمسلط معاشی پابندیاں نہ اٹھائی گئیں تو گنجان آباد علاقے میں بے روزگاری اور غربت کی شرح میں خطرناک حد تک اضافہ ہوسکتا ہے۔
رپورٹ میں عالمی برادری اور اسرائیل سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ باہمی رابطے کے ذریعے غزہ کی پٹی میں ممکنہ مالیاتی بحران کو روکنے کے موثر حکمت عملی وضع کریں۔
خیال رہے کہ عالمی بنک کی جانب سے یہ رپورٹ ایک ایسے وقت میں تیار کی گئی ہے جب پچھلے سال غزہ کی پٹی پرمسلط اسرائیلی جنگ کے ایک سال پورے ہونے کے موقع پر عالمی امدادی اداروں کی ایک کمیٹی کا اجلاس ہونے جا رہا ہے جس میں جنگ سے تباہ حال غزہ کی پٹی میں تعمیراتی کاموں کا جائزہ لیا جائے گا۔
عالمی بنک کاکہنا ہے کہ غزہ کی پٹی کی درآمدات وبرآمدات کو جہاں اسرائیل کی باربار کی جنگوں نے تباہ کن حد تک متاثر کیا ہے وہیں سنہ 2007 ء سےمسلط معاشی پابندیوں نے بھی غزہ کی معیشت کو تباہ کردیا ہے۔ اسرائیلی پابندیوں اور جنگوں کے نتیجے میں غزہ کی پٹی کی 50 فی صد سے زیادہ معیشت تباہی سے دوچار ہوچکی ہے۔
عالمی بنک کی جانب سے فلسطینی اتھارٹی سے بھی پرزور مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ غزہ کی پٹی میں اقتصادی شرح نمو میں اضافے کے لیے موثر اقدامات کرے اور ممکنہ مالیاتی بحران کو ٹالنے کے لیے عالمی برادری سے رابطے کرے۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
