فلسطین نیوز کو موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق غزہ میں حج وعمرہ ٹورآپریٹرز کی مشترکہ تنظیم کے چیئرمین عوض ابو مذکور نے بتایا کہ غزہ کے شہریوں کے عمرہ کامسئلہ ہنوز حل طلب ہے اور ابھی تک اس سلسلے میں کوئی مؤثر پیش رفت نہیں ہوسکی ہے۔
ابو مذکور کا کہنا تھا کہ غزہ کے شہری عمرہ کی ادائیگی سے مسلسل کئی سال سے محروم ہیں۔ اس سلسلے میں مصری حکام سے بات چیت کی گئی ہے۔ ہم نے شہریوں کو اطمینان دلایا ہے کہ عمرہ کا مسئلہ جلد ہی حل کرلیا جائے گا تاہم اس سلسلے میں کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا ہے۔
انہوں نے سوشل میڈیا اور دیگر ذرائع ابلاغ میں شائع ہونے والی ان افواہوں کی تردید کی جن میں کہا گیا تھا کہ غزہ کی پٹی کے شہریوں کے عمرہ کی ادائیگی میں حائل رکاوٹیں دور کردی گئی ہیں۔
ابو مذکور نے کہا کہ مصری حکام سے بات چیت جاری ہے اور قاہرہ سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ غزہ کے شہریوں کو سعودی عرب عمرہ کے سفر کے لیے جانے کے لیے ہرممکن سہولت فراہم کرے۔
انہوں نے کہا کہ فلسطینی وزیر برائے مذہبی امور یوسف ادعیس نے مصر میں متعین فلسطینی سفیر اور رام اللہ میں فلسطینی وزیر مذہبی امور کو ایک مکتوب ارسال کیا ہے جس میں ان سے کہا گیا ہے کہ وہ غزہ کے شہریوں کے عمرہ کے مسئلے کا جلد ہی کوئی حل نکالیں۔
