مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق الشیخ صبری نے اپنے ایک بیان میں عالمی برادری سے پرزور مطالبہ کیا کہ وہ صہیونی ریاست کی جانب سے غزہ کی پٹی پر مسلط معاشی ناکہ بندی کے فوری خاتمے کے لیے موثر اقدامات کرے۔
علامہ عکرمہ صبری کا کہنا تھا کہ اسرائیل نے ایک منظم اور طے شدہ منصوبے کے تحت دو ملین کے قریب فلسطینیوں کو اجتماعی سزا دے رکھی ہے۔ غزہ کی ناکہ بندی کا کوئی اخلاقی اور قانونی جواز نہیں۔ غزہ پرپابندیاں بین الاقوامی اصولوں کی خلاف ورزی کے ساتھ ساتھ سنگین جرم ہے۔
انہوں نے کہا کہ غزہ کی پٹی میں اسرائیلی ناکہ بندیوں کے شکار لاکھوں شہری شدید برف باری کی وجہ سے مزید مشکلات کا شکار ہوئے ہیں۔ غزہ کی پٹی میں سردی اور بھوک سے بچوں کی اموات اسرائیلی کی گردن پر ہیں۔
علامہ عکرمہ صبری نے فلسطینی قومی حکومت کی طرف سے غزہ کے عوام کی مشکلات کے حل میں ناکامی پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ قومی حکومت بھی محصورین غزہ کو ریلیف فراہم کرنے میں بری طرح ناکام رہی ہے۔ قومی حکومت کوغزہ کے عوام کے مسائل کے حل کے حوالے سے اپنی ذمہ داریاں پوری کرنی چاہئیں۔
انہوں نے کہا کہ غزہ کی پٹی کے عوام کو برفانی طوفان اور بارشوں کے باعث سنگین مشکلات کا سامنا ہے۔ متاثرین کو بنیادی سہولیات بھی میسرنہیں ہیں۔ شہریوں کو ریلیف فراہم کرنے کے لیے جنگی بنیادوں پر کام کی ضرورت ہے۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
