فلسطینی علاقے غزہ کی پٹی میں ایک ماہ اسرائیلی فوج کی وحشیانہ بمباری کے نتیجے میں ہونے والی تباہ کاری کے بعد فلسطین میں غزہ کی پٹی کو آفت زدہ علاقہ قرار دینے اور جنگ زدہ عوام کو ٹیکسوں سے مستثنیٰ قرار دینے کے مطالبات میں مزید شدت اختیار آگئی ہے۔
مرکز اطلاعات فلسطین کے مطابق فلسطین میں عوامی اور ابلاغی حلقے اس سے قبل بھی یہ مطالبہ کر چکے ہیں۔ فلسطین کے ایک ممتاز دانشور اور اقتصادی امور کے ماہر ’’محمد خالد ابو جیاب ‘‘ نے فلسطین کی قومی حکومت اور رام اللہ میں فلسطینی اتھارٹی سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ غزہ کی پٹی کو آفت زدہ علاقہ قرار دے کراس کے تمام ٹیکس معاف کردیں۔
ابو جیاب کا کہنا ہے کہ فلسطینی اتھارٹی کے سربراہ محمود عباس پہلے ہی غزہ کی پٹی کو آفت زدہ علاقہ قرار دے چکے ہیں۔ جب فلسطینی صدر یہ تسلیم کر چکے ہیں کہ غزہ کی پٹی تباہ حال اور آفت زدہ علاقہ ہے تو وہاں کے عوام کو یہ ریلیف ضرور دیا جانا چاہیے کہ انہیں کچھ عرصہ کے لیے ٹیکسوں سےمستثنیٰ قرار دیا جائے۔
خیال رہے کہ فلسطینی اتھارٹی کے سربراہ محمود عباس نے 30 جولائی کو اپنے ایک بیان میں غزہ کی پٹی کو آفت زدہ علاقہ قرار دے کر عالمی اداروں بالخصوص اقوام متحدہ سے شہرکی تعمیرنو کے لیے ہنگامی امداد کی فراہمی کا مطالبہ کیا تھا۔
غزہ میں ایک نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے فلسطینی دانشور ابو جیاب کا کہنا تھا کہ صہیونی قاتل اور فلسطینیوں کے جانی دشمن سے یہ توقع ہرگز نہیں کی جا سکتی کہ وہ جنیوا میں طے پائے امن معاہدوں کی پاسداری کرے گا۔ غزہ کی پٹی میں اسرائیل نے تباہی اور بربادی کا جو کھیل کھیلا ہے وہ عالمی برادری کے لیے بھی لمحہ فکریہ ہے۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
