مرکز اطلاعات فلسطین کے مطابق فلسطینی واٹر اتھارٹی کی جانب سے جاری ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ سنہ 2013ء میں 103.34 ملین معکب فٹ پانی استعمال کیا گیا۔ غزہ کے عوام کو فی کس 90 لیٹر ماہانہ پانی میسر ہے جوکہ عالمی صحت کے معیار کے مطابق نہیں بلکہ آلودہ ہے۔رپورٹ کے مطابق عالمی اداروں کے مقرر کردہ معیارات کے مطابق غزہ کے عوام کو میسر 96 فی صد پانی آلودہ ہے۔ سنہ 2013ء اور 2014ء کے درمیان غزہ کے پانی کی آلودگی میں مزید اضافہ ہوا۔رپورٹ کے مطابق غزہ کی پٹی میں زیرزمین 55 سے 60 ملین میٹر پانی کے ذخائر استعمال کیے جاتے ہیں۔ سالانہ ان ذخائر سے 200 ملین مکعب میٹر پانی نکالا اور استعمال کیا جاتا ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ غزہ کی پٹی کے زیرزمین صاف پانی کے اخراج میں تین سے چار گنا اضافے کے نتیجے میں پانی کی الودگی میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ زیرزمین پانی کی آلودگی کا ایک سبب سمندری پانی کے زیرزمین میٹھے پانی میں شمولیت ہے۔ اس کےعلاوہ سیوریج کاپانی نے بھی زیرزمین صاف پانی کو آلودہ کرنے کا موجب بن رہا ہے۔ ماہرین کے خیال میں غزہ کی پٹی کے 98 فی صد پانی ذخائر ساحل سمندر کے قریب ہیں جن میں سمندری پانی کی آمیزش بڑھتی جا رہی ہے۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
