رپورٹ کے مطابق اقوام متحدہ کے ادارہ برائے انسانی حقوق ’’اوچا‘‘ نے سرکاری اعدادو شمار کی روشنی میں ایک رپورٹ میں بتایا ہے کہ سنہ 2014 ء کی جنگ کے دوران بے گھر ہونے والے فلسطینی شہریوں میں سے 62.5 فی صد ابھی تک کرائے کے مکانوں میں رہنے پر مجبور ہیں جب کہ 50 فی صد کو خدشہ ہے کہ مکانوں کے مالکان انہیں کسی بھی وقت گھروں سے نکال سکتے ہیں۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ غزہ جنگ سے متاثرہ شہری بالخصوص اپنے گھروں سے محروم ہونے والے 80 فی صد باشندوں نے پچھلے سال اپنی گھریلو ضروریات کے لیےدوسرے لوگوں سے قرض لیا جب کہ 85 فی صد جنگ سے متاثرین نے اشیائے خوردو نوش تک ادھار پر لیں۔ 40 فی صد شہریوں نےذرائع آمدن نہ ہونے کے باعث روزمرہ کی خوراک کی مقدار کم کرنا شروع کی ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ گھروں کی چھت سے محروم فلسطینی خاندانوں کی حالت نہایت تشویشناک اور ناگفتہ بہ ہے۔ متاثرہ شہریوں کو بنیادی ضروریات میسرنہیں۔ ہزاروں خاندان جو کئی کئی افراد پر مشتمل ہیں چھوٹے چھوٹے فلیٹوں اور تنگ کمروں میں گذر اوقات کرنے پرمجبور ہیں۔ سیکڑوں فلسطینی خاندانوں نے اپنے مسمار شدہ مکانات کے ملبے پر خیمے لگا کر گذر اوقات شروع کی ہے مگر ان کی مشکلات بھی موسم کی شدت کی وجہ سے مزید بڑھ جاتی ہیں۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ غزہ جنگ کے دوران بے گھر ہونے والے 16 ہزار خاندان غیرملکی امداد پر گذر بسرکرتے ہیں۔ غزہ میں فوری طورپر 16 ہزار مکانات کی تعمیر کی اشد ضرورت ہے تاکہ بے گھر ہونے والے فلسطینیوں کی بحالی اور اور آباد کاری کا عمل آگے بڑھایا جاسکے۔
خیال رہے کہ جولائی اور اگست سنہ 2014 ء کو غزہ کی پٹی پر اسرائیل کی مسلط کردہ جنگ کے نتیجے میں 2323 فلسطینی شہید اور ہزاروں زخمی ہوگئے تھے۔ بمباری میں 12 ہزار مکانات مکمل طورپر جب کہ ایک لاکھ 60 ہزار مکانات جزوی طورپر متاثر ہوئے تھے۔ ان میں سے 6600 مکانات کو ناقابل رہائش قرار دیا گیا تھا۔
