فلسطینی شہرغزہ کی پٹی میں پچھلے چند روز سے اسرائیلی فوج کے فضائی حملوں میں ہر شعبہ ہائے زندگی متاثر ہوا ہے جس میں زراعت کا شعبہ خاص طور پر شامل ہے۔ فلسطینی وزارت ذراعت کی جانب سے جاری ایک بیان میں بتایا گیا ہے کہ اسرائیلی فوج کے فضائی حملوں کے نتیجے میں خان یونس اور اس کے آس پاس کی زرعی زمینوں کو صرف دو روز میں 2.5 ملین ڈالر کا نقصان پہنچا ہے۔
مرکز اطلاعات فلسطین کے مطابق وزارت زراعت کا کہنا ہے کہ صہیونی فوج کے فضائی حملے میں خان یونس اور اس کے مضافات میں 70 دونم پر فصلوں کی نرسری تباہ کر دی۔ ان میں 10 دونم کے علاقے میں انگور کے باغات،20 دونم میں سبزیاں اور 30 دونم میں دیگر متفرق فصلیں کاشت کی جا رہی تھیں۔ فضائی حملوں میں نہ صرف کھیتوں میں کھڑی فصلیں تباہ ہوئی بلکہ بڑی مقدار میں گوداموں میں موجود غلہ بھی بمباری کر کے تباہ کر دیا گیا۔
مرکز اطلاعات فلسطین کے مطابق وزارت زراعت کا کہنا ہے کہ صہیونی فوج کے فضائی حملے میں خان یونس اور اس کے مضافات میں 70 دونم پر فصلوں کی نرسری تباہ کر دی۔ ان میں 10 دونم کے علاقے میں انگور کے باغات،20 دونم میں سبزیاں اور 30 دونم میں دیگر متفرق فصلیں کاشت کی جا رہی تھیں۔ فضائی حملوں میں نہ صرف کھیتوں میں کھڑی فصلیں تباہ ہوئی بلکہ بڑی مقدار میں گوداموں میں موجود غلہ بھی بمباری کر کے تباہ کر دیا گیا۔
غزہ میں سیکرٹری زراعت محمد جاداللہ نے ایک نیوز کانفرنس میں بتایا کہ اسرائیلی فوج ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت غزہ کی پٹی میں زرعی مفادات کو نشانہ بنا رہی ہے۔ اسرائیل غزہ کی پٹی کی معیشت تباہ کرنا چاہتا ہے جس کےلیے زراعت کو تباہی سےدوچارکر دیا گیا ہے۔
انہوں نے انسانی حقوق کی عالمیی تنظیموں پر زور دیا کہ وہ غزہ کی پٹی میں جاری اسرائیلی ریاستی دہشت گردی کا نوٹس لیتے ہوئے معاشی پابندیوں کے شکار لاکھوں شہریوں کی زندگیاں بچانے کے لیے اسرائیل کے خلاف فوری اور موثراقدامات کریں۔
