مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق غزہ گذرگاہ امورکے ڈائریکٹر نے بتایا کہ پچھلے سال جنگ میں زخمی ہونے والے انیس بچے گذشتہ روز مغربی کنارے سے متصل "بیت حانون” گذرگاہ سے غزہ کی پٹی میں داخل ہوئے ہیں۔ ان بچوں کو زخمی ہونے کے بعد علاج کے لیے جرمنی لے جایا گیا تھا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ بچوں کے ہمراہ تین جرمن ڈاکٹر بھی مغربی کنارے پہنچے تھے جہاں وہ بچوں کے ہمراہ غزہ کی پٹی آنا چاہتے تھے مگرقابض اسرائیلی حکام نے انہیں غزہ آنے سے روک دیا۔
ادھر غزہ وزارت صحت کے ترجمان ڈاکٹر اشرف القدرہ نے ترک خبر رساں ایجنسی”اناطولیہ” کو بتایا کہ جرمنی میں علاج کے لےجائے گئے بچوں میں سے بعض زیادہ تشویش ناک حالت میں تھے جبکہ بعض کو درمیانے درجے کے زخم آئے تھے۔ انہوں نے بتایا علاج سے واپس آنے والے بعض بچوں کے والدین جنگ میں شہید ہوچکے ہیں۔
خیال رہے کہ جولائی اور اگست 2014 ء کو غزہ کی پٹی پر مسلط کی گئی جنگ کے نتیجے میں کم سے کم 2200 فلسطینی شہید اور گیارہ ہزار سے زائد زخمی ہوگئے تھے۔ شہداء اور زخمیوں میں سے تین ہزار اٹھارہ سال سے کم عمرکے بچے بتائے جاتے ہیں۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
