رپورٹ کے مطابق محکمہ آب رسانی کی جانب سے جاری کردہ رپورٹ میں کہا گیاہے کہ گذشتہ برس فلسطینی حکومت نے فراہمی آب کی ایک مہم شروع کی تھی جس کے تحت سال کے آخر تک جنگ سے متاثرہ لاکھوں شہریوں کو پانی کی فراہمی یقینی بنائی گئی تھی۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ حکومت کی تمام ترمساعی کے باوجود اسرائیل کے مسلط کردہ معاشی محاصرے اور دیگر پابندیوں کے باعث پانی کی فراہمی کا عمل بری طرح متاثر ہو رہا ہے۔ سوریج کا نظام بھی موثر نہیں بنایا جاسکا۔ بالائی علاقوں تک پانی کی ترسیل کے لیے جنریٹروں کی ضرورت ہے۔ غزہ میں موجود جنریٹر ایندھن کی قلت کے باعث بند رہتے ہیں۔ جس کی وجہ سے پانی کی ترسیل بھی تعطل کا شکار رہتی ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اگر فلسطینی محکمہ فراہمی آب کو درکار 11 ملین ڈالر کی رقم مل جائے تو اس کے نتیجے میں متاثرہ علاقوں کے شہریوں کو پانی مہیا کیا جاسکتا ہے۔ رپورٹ کے مطابق غزہ کی پٹی میں پانی اور دیگر ضروریات کی فراہمی کے لیے ماہانہ کم سے کم 10 ملین ڈالر کی رقم درکار ہے۔
محکمہ آب رسانی کا کہنا ہے کہ اسرائیلی بمباری سے تباہ ہونے والے پانی کے 26 میں سے 23 کنوؤں کو جزوی طورپربحال کردیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ پانی کی 12 میں سے 8 بڑی ٹینکیوں، پانی کے 6 چھوٹے مراکز کی تیاری کے ساتھ 34 سے 46 کلو میٹر تک پانی کی پائپ لائنوں کی تنصیب مکمل کی جا چکی ہے۔
