دوحہ – (روزنامہ قدس ـ آنلائن خبر رساں ادارہ) اسلامی تحریک مزاحمت حماس اور غزہ میں تحریک کے قائد خلیل الحیہ نے ان تمام لوگوں کا شکریہ ادا کیا ہے جنہوں نے ان کے فرزند عزام الحیہ کی شہادت پر اظہارِ تعزیت کیا، جو غزہ کی پٹی پر جاری قابض اسرائیل کی نسل کشی کی وحشیانہ جنگ کے دوران جامِ شہادت نوش کر گئے تھے۔
حما س نے ایک بیان میں کہا ہے کہ جماعت کی قیادت اور خلیل الحیہ ان تمام قائدین، سربراہانِ مملکت، حکومتوں و پارلیمان کے سربراہوں، وزراء، سفراء، اہم شخصیات، علماء اور فلسطینی دھڑوں کے قائدین کے موقف کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں جنہوں نے دکھ کی اس گھڑی میں ہمدردی کا اظہار کیا۔ ان کے ساتھ ساتھ سیاسی، جماعتی، مذہبی اور عوامی وفود اور ان تمام افراد کا بھی شکریہ ادا کیا گیا جنہوں نے یکجہتی اور تعزیت کا اظہار کیا۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ عزام الحیہ کی روح اپنے شہید بھائیوں اسامہ، حمزہ اور ہمام کی ارواح سے جا ملی ہے جو معرکہ طوفان الاقصیٰ اور فلسطینی جدوجہد کے سفر میں اس قوم کے قائدین اور عوام کے دسیوں ہزار شہداء کے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے رب کے حضور سرخرو ہوئے۔
حماس نے اس بات کی جانب اشارہ کیا کہ تعزیت اور ہمدردی کے یہ پیغامات، خواہ وہ ترکیہ، قطر اور غزہ کی پٹی میں تعزیتی مراکز پر حاضری کی صورت میں ہوں یا فون کالز، پیغامات اور سوشل میڈیا کے ذریعے، یہ سب فلسطین، غزہ اور اس کی ثابت قدم عوام کے ساتھ یکجہتی اور فلسطینی مزاحمت کے ساتھ کھڑے ہونے کی علامت ہیں۔
حماس نے مطالبہ کیا کہ فلسطینی نصب العین کی حمایت کا سلسلہ جاری رکھا جائے اور صہیونی منصوبے کے خلاف مقابلے کو مزید تیز کیا جائے، اس کے ساتھ ساتھ قابض اسرائیل کے بائیکاٹ کی مہمات کو وسعت دی جائے اور فلسطینیوں کے حقوق کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کے تمام طریقوں کو مزید تقویت دی جائے۔