(روز نامہ قدس ۔آنلائن خبر رساں ادارہ) وزارت صحت غزہ کے مطابق، گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران غیر قانونی صیہونی ریاست اسرائیل کی جاری دہشتگردی کے دوران خواتین اور بچوں سمیت مزید 35 فلسطینی شہید اور 109 زخمی ہوگئے۔ اس طرح 7 اکتوبر 2023 سے جاری فلسطینیوں کی نسل کشی کے نتیجے میں شہداء کی مجموعی تعداد 52,400 اور زخمیوں کی تعداد 118,014 تک پہنچ گئی ہے، جن میں 5,973 شدید زخمی شامل ہیں۔
وزارت صحت کی جاری تفصیلات کےمطابق جنوبی غزہ کے شہر خان یونس کے علاقے قیزان النجار میں غیر قانونی صیہونی ریاست کے حملے میں ایک فلسطینی شہید جبکہ متعدد افراد زخمی ہوئے۔ اسی طرح خزاعة (خان یونس) میں ایک مقام اور وسطی غزہ کے النصیرات میں بے گھر افراد کی پناہ گاہ پر بمباری کے نتیجے میں پانچ فلسطینی زخمی ہوگئے۔
غزہ کے جنوبی علاقے رفح کے مغرب میں صیہونی ریاست کی جانب سے گھروں کو منہدم کرنے اور توپ خانے سے گولہ باری کا سلسلہ جاری ہے، جبکہ شمالی غزہ کے شہر بیت حانون میں بھی بمباری کی گئی۔
دوسری جانب، تباہ شدہ گھروں کے کھنڈرات کے درمیان کھڑے غزہ کے بچے بھوک، پیاس اور دو ماہ سے جاری محاصرے کے خلاف چیخ و پکار کرتے دکھائی دیے۔ ان کے چہروں پر بھوک و افلاس کی واضح نشانیاں تھیں۔ بچوں نے "بس بہت ہوا”، "ہم بھوکے ہیں”، "معابر کھولو”، اور "ہمیں بچاؤ” جیسے جملے لکھی تختیاں اٹھا رکھی تھیں۔
یہ احتجاجی مظاہرہ خان یونس میں "دوستوں کے چار گروپ” (The Four Friends) نامی رضاکار ٹیم کی جانب سے منعقد کیا گیا، جو غزہ میں اسرائیلی نسل کشی کے خلاف متعدد سرگرمیاں منظم کر چکی ہے۔ یہ مظاہرہ بچوں کی اجتماعی فریاد بن کر ابھرا، جو دنیا کو اپنے بھوک اور زخموں کی کہانی سنانے کے لیے جمع ہوئے تھے۔
