رام اللہ – (روزنامہ قدس ـ آنلائن خبر رساں ادارہ) فلسطینی محکمہ امور اسیران نے انکشاف کیا ہے کہ غاصب اسرائیل کے نام نہاد ’عوفر‘عقوبت خانے کی انتظامیہ ایک منظم انتقامی پالیسی کے تحت ماہ رمضان کے مقدس مہینے میں فلسطینی اسیران کو سحر و افطار کے صحیح اوقات سے محروم کر رہی ہے۔
اسیران کمیشن نے ہفتے کی شام جاری کردہ ایک بیان میں کہا ہے کہ جیل انتظامیہ اسیران کو اذان فجر اور اذان مغرب کے اوقات بتانے سے گریز کر رہی ہے جس کی وجہ سے وہ صحیح طریقے سے روزہ رکھنے کے فریضے کی ادائیگی سے قاصر ہیں اور ان کی روزمرہ کی تکالیف میں کئی گنا اضافہ ہو گیا ہے۔
اسی تناظر میں کمیشن کے وکیل خالد محاجنہ نے ریڈیو ’وائس آف فلسطین‘ سے گفتگو کرتے ہوئے تصدیق کی کہ جلبوع جیل کے اسیران کو جیل انتظامیہ کی جانب سے پیشگی اطلاع دیے بغیر ماہ رمضان کے آغاز نے حیرت زدہ کر دیا۔ انہوں نے بتایا کہ بعض اسیران کو تو ماہ مقدس کے آغاز کا علم اس وقت ہوا جب وہ غاصب اسرائیل کی عدالتوں میں پیش کیے گئے۔
خالد محاجنہ نے واضح کیا کہ غاصب اسرائیلی حکام اسیران کے ہاں کسی بھی مذہبی خوشی کے مظاہرے کو مٹانے کی کوشش کر رہے ہیں اور مذہبی مواقع کو نفسیاتی اذیت رسانی کے ایک اضافی حربے کے طور پر استعمال کر رہے ہیں جس کے اثرات جیلوں سے باہر ان کے خاندانوں کے لیے بھی دوہرے درد کا باعث بن رہے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ اسیران سحری کے کھانے کے بغیر ہی رمضان گزار رہے ہیں جبکہ افطار ایک طویل اذیت میں بدل چکا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ گذشتہ دو برسوں سے زائد عرصے سے اسیران کو افطار کے وقت انتہائی قلیل مقدار میں کھانا لینے پر مجبور کیا جا رہا ہے جو ان کی کم سے کم ضروریات کو بھی پورا نہیں کرتا۔
اس سے قبل رہا ہونے والے اسیران نے عوفر جیل کے قیدیوں کا ایک پیغام پہنچایا تھا جس میں انہوں نے قریبی بستیوں اور دیہاتوں کی مساجد کے ائمہ سے گذارش کی تھی کہ وہ اذان کی آواز بلند کریں تاکہ جیل انتظامیہ کی جانب سے جان بوجھ کر اوقات سے محروم رکھے جانے کے باوجود وہ نمازوں کے اوقات جان سکیں۔
واضح رہے کہ غاصب اسرائیل کی جیلوں میں اس وقت 9300 سے زائد فلسطینی اسیران قید ہیں جن میں تقریبا 350 بچے بھی شامل ہیں۔ یہ اسیران انتہائی سفاکانہ حالات کا سامنا کر رہے ہیں جن میں تشدد، بھوکا رکھنا اور طبی غفلت شامل ہے جس کے نتیجے میں فلسطینی اور اسرائیلی انسانی حقوق کی تنظیموں کے مطابق درجنوں اسیران جام شہادت نوش کر چکے ہیں۔