الخلیل -(روزنامہ قدس ـ آنلائن خبر رساں ادارہ) مقبوضہ مغربی کنارے کے جنوب میں واقع الخلیل کے شمال مشرق میں قصبہ سعیر پر مسلح یہودی آباد کاروں کے جتھوں نے حملہ کر دیا، جس کے نتیجے میں ایک نوعمر فلسطینی نوجوان شہید اور ایک بزرگ سمیت دو افراد شدید زخمی ہو گئے۔
فلسطینی وزارت صحت نے تصدیق کی ہے کہ سترہ سالہ نوجوان کریم سند راجہ شلالدہ، یہودی آباد کاروں کی اندھا دھند فائرنگ سے جام شہادت نوش کر گیا ہے۔
فلسطینی ہلال احمر کے مطابق، ان کی ٹیموں نے قصبہ سعیر کے علاقے ‘البیعہ’ میں ایک ستر سالہ بزرگ کو زندہ گولیاں لگنے کے بعد ہسپتال منتقل کیا۔ ہلال احمر نے مزید بتایا کہ ایک اور شہری کو سینے میں گولی لگی، جس سے وہ شدید زخمی ہو گیا، اور اسے ہسپتال لے جانے سے قبل موقع پر ہی مصنوعی تنفس اور دل کی دھڑکن بحال کرنے کی کوششیں کی گئیں۔
مسلح یہودی آباد کاروں کے بڑے جتھوں نے قصبہ سعیر میں فلسطینیوں کے گھروں پر حملہ کیا اور شہریوں پر گولیوں کی بوچھاڑ کر دی۔ درندوں نے ایک گھر کو نذرِ آتش کر دیا، جس سے وہ مکمل طور پر جل کر راکھ ہو گیا۔
ادھر الخلیل کے جنوب میں، الظاہریہ اور السموع قصبوں کے قریب دیر شمس کے علاقے میں مسلح یہودی آباد کاروں کے حملے میں مزید پانچ فلسطینی زخمی ہو گئے، جبکہ آباد کاروں نے شہریوں کے مال مویشی (بھیڑیں) بھی چرا لیں۔ مقامی ذرائع کا کہنا ہے کہ حملہ آوروں نے گھروں پر پتھراؤ کیا اور فلسطینی ہلال احمر کی ایمبولینس کو بھی نشانہ بنایا، اس کے شیشے توڑ دیے اور زخمیوں تک پہنچنے سے روکنے کی مذموم کوشش کی۔
علاوہ ازیں، السموع قصبے کے وادی الرخیم اور وادی اجحیش کے درمیان واقع خالد الزعاریر نامی شہری کی کان کنی کی جگہ (کوئری) کو بھی نشانہ بنایا گیا۔ آباد کاروں نے وہاں موجود مشینری اور آلات کو آگ لگا دی اور دیواروں پر عربوں کی موت اور بے دخلی کے نسل پرستانہ نعرے درج کر دیے۔
مقبوضہ بیت المقدس میں بھی وحشیانہ کارروائیوں کا سلسلہ جاری ہے، جہاں شعفاط قصبے میں ایک یہودی آباد کار نے طارق البزلمیط نامی پینتالیس سالہ شہری کے چہرے پر براہِ راست مرچوں کا سپرے کیا، جس سے وہ شدید جھلس گئے اور انہیں شدید تکلیف کا سامنا ہے۔
الخلیل کے مختلف علاقوں میں ہونے والے ان حملوں کے دوران قابض فوج نے سات فلسطینی شہریوں کو حراست میں لے لیا۔
یہ مظالم الخلیل اور مغربی کنارے میں آباد کاروں کی بڑھتی ہوئی دہشت گردی اور قابض فوج کی جانب سے مسلسل چھاپوں اور فوجی کارروائیوں کے سائے میں جاری ہیں، جس کا مقصد فلسطینیوں کی زندگی کو اجیرن بنانا اور ان کی املاک کو تباہ کرنا ہے۔