مقبوضہ مغربی کنارہ – (روزنامہ قدس ـ آنلائن خبر رساں ادارہ) مقبوضہ مغربی کنارے کے مختلف علاقوں میں ہفتے کی صبح یہودی آباد کاروں نے شہریوں، ان کی املاک اور پانی کے ذرائع پر حملوں کا ایک نیا سلسلہ شروع کیا۔ یہ حملے ایسے وقت میں کیے گئے ہیں جب فلسطینی بستیوں اور ان کی املاک کو نشانہ بنانے والے حملوں میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔
الخلیل گورنری میں آباد کاروں نے الخلیل کے جنوب میں واقع شہر یطا کے مشرق میں ”أغزيوه“ کے علاقے میں ایک زرعی فارم کو نذرِ آتش کر دیا اور فلسطینیوں کے قتل پر اکسانے والے نعرے لکھ دیے۔
انسانی حقوق کی تنظیم ”البيدر“ نے اطلاع دی ہے کہ یہودی آباد کاروں نے علاقے میں ایک زرعی فارم کو جلایا، اس پر فلسطینیوں کے قتل پر اکسانے پرمبنی نعر تحریر کیے، اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہ یہ حملہ اس تسلسل کا حصہ ہے جو آباد کاروں کی طرف سے علاقے کے شہریوں اور ان کی املاک کے خلاف جاری ہے۔
جنوبی الخلیل میں ایک اور حملے میں یہودی آباد کاروں نے مشرقی بادیہ میں واقع گاؤں ”أَدْقِيقَہ“ جانے والی مرکزی پانی کی پائپ لائن کو نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں گاؤں میں پانی کی سپلائی منقطع ہو گئی اور مکین اپنے پانی کے واحد ذریعہ سے محروم ہو گئے۔
تنظیم ”البيدر“ نے کہا کہ پانی کی پائپ لائن پر حملے کے باعث مکینوں کی سپلائی کٹ گئی۔ انہوں نے متعلقہ اداروں سے مطالبہ کیا کہ وہ پائپ لائن کی مرمت اور شہریوں کو پانی کی فراہمی دوبارہ بحال کرنے کے لیے فوری مداخلت کریں، اس کے علاوہ فلسطینی بستیوں میں پانی کے ذرائع اور نیٹ ورکس کو تحفظ فراہم کیا جائے جو بار بار ہونے والے حملوں کی زد میں ہیں۔
نابلس گورنری میں مسلح اور نقاب پوش آباد کاروں نے شہر کے جنوب میں واقع خربة المراجم میں ایک شہری کے گھر کا گھیراؤ کر دیا۔
مقامی ذرائع نے بتایا کہ مسلح اور نقاب پوش آباد کاروں کے ایک گروہ نے گھر کا محاصرہ کیا، جس سے مقبوضہ مغربی کنارے کے مختلف علاقوں میں فلسطینی شہریوں اور ان کی املاک کو نشانہ بنانے والے مسلسل حملوں کے سائے میں علاقے کے مکینوں میں خوف و ہراس کی لہر دوڑ گئی۔
یہ حملے فلسطینیوں، ان کی املاک، روزی روٹی کے ذرائع اور زندگی کے بنیادی لوازمات بشمول زرعی تنصیبات اور پانی کے نیٹ ورکس پر آباد کاروں کے بڑھتے ہوئے حملوں کے تناظر میں سامنے آئے ہیں، جو فلسطینی بستیوں کے مصائب میں مزید اضافہ کر رہے ہیں۔