غرب اردن – (روزنامہ قدس ـ آنلائن خبر رساں ادارہ) گٍذشتہ روز غرب اردن اور مقبوضہ بیت المقدس میں قابض اسرائیلی جارحیت اور یہودی آباد کاروں کے مظالم میں شدید اضافہ دیکھنے میں آیا، جن کے دوران شہریوں اور ان کی املاک کو نشانہ بنانے والے حملے ریکارڈ کیے گئے، گھروں اور زرعی تنصیبات پر دھاوے بولے گئے، اس کے علاوہ گاڑیوں پر حملے کیے گئے اور فلسطینیوں پر گیس کے گولے برسائے گئے، جبکہ اسی کے ساتھ چیک پوسٹوں اور سڑکوں پر عسکری اقدامات مزید سخت کر دیے گئے ہیں۔
الخلیل کے شمال میں واقع قصبے بیت آمر میں یہودی آباد کاروں نے ایک گاڑی کو نذر آتش کر دیا اور شہریوں پر تشدد کیا، جبکہ صافا کے علاقے میں دھاوا بول کر ایک بچے کو اغوا کرنے کی بھی کوشش کی۔
شہری سلیم محمد حسین عادی نے وضاحت کی کہ جب وہ اس علاقے میں اپنی زمین پر موجود تھے تو متعدد یہودی آباد کاروں نے ان پر حملہ کرنے کی کوشش کی۔ پھر انہوں نے ان کی گاڑی کو آگ لگا دی۔
میڈیا کے سرگرم کارکن محمد عوض کے مطابق یہودی آباد کاروں نے اسی علاقے میں دو گھروں پر دھاوا بولا، خواتین اور بچوں پر تشدد کیا اور ایک بچے کو اغوا کرنے کی کوشش کی، تاہم اہل علاقہ نے ان کا بھرپور مقابلہ کیا اور انہیں پسپا ہونے پر مجبور کر دیا۔
الخلیل کے جنوب میں واقع مسافر یطا کے علاقے میں یہودی آباد کاروں کے حملے کے نتیجے میں ایک شہری زخمی ہو گیا، جب انہوں نے فاتح سدرو کے علاقے میں فرید الحمامدہ نامی شہری پر حملہ کیا اور ان پر مرچوں کا سپرے کیا، جس کے نتیجے میں وہ دم گھٹنے سے متاثر ہوئے، یہ اطلاع کارکن اسامہ مخامرہ نے دی۔
یہودی آباد کاروں کے حملے مقبوضہ بیت المقدس کے جنوب مشرق تک پھیل گئے، جہاں انہوں نے صور باهر قصبے اور ام طوبا گاؤں میں شہریوں کی گاڑیوں پر پتھراؤ کیا، جس کے نتیجے میں متعدد گاڑیوں کو مالی نقصان پہنچا۔
صور باهر میں قصبے کے دروازے پر پھوٹ پڑنے والی جھڑپوں کے بعد قابض فوج نے متعدد تجارتی دکانوں کو آگ لگنے کا سبب بنی، جن کے دوران قابض فوج نے صوتی بم اور زہریلی گیس کے گولے فائر کیے، یہ تفصیلات القدس گورنری سے موصول ہونے والے اعداد و شمار کے مطابق ہیں۔
مقبوضہ بیت المقدس کے شمال میں واقع عسکری چیک پوسٹ کے قریب قابض فوج نے شہریوں کی گاڑیوں پر زہریلی گیس کے گولے برسائے، تاہم کسی جانی نقصان کی اطلاع موصول نہیں ہوئی۔
اس کے ساتھ ہی قابض فوج نے مختلف گورنریوں بالخصوص رملہ، البیرہ اور القدس میں شہروں اور قصبوں کے داخلی راستوں پر قائم چیک پوسٹوں پر اپنے عسکری اقدامات مزید سخت کر دیے، جس کے نتیجے میں شہریوں کی آمدورفت میں رکاوٹ پیدا ہوئی اور ٹریفک کا شدید بحران پیدا ہو گیا۔
رام اللہ کے مشرق میں یہودی آباد کاروں نے برقا گاؤں کے اطراف میں دھاوا بولا اور ایک زرعی کمرے پر چھاپہ مارا، جہاں انہوں نے اس کا سامان کی توڑ پھوڑ کی ۔
ایک ماہ کے دوران 2030 حملے
یہ حملے غرب اردن میں جاری مسلسل کشیدگی کا حصہ ہیں، کیونکہ وال اینڈ سیٹلمنٹ ریزسٹنس کمیشن نے گزشتہ ماہ اگست کے دوران قابض فوج کے سپاہیوں اور یہودی آباد کاروں کی طرف سے کیے گئے 2030 حملے ریکارڈ کیے ہیں۔
کمیشن نے واضح کیا کہ قابض فوج نے 1402 حملے کیے، جبکہ یہودی آباد کاروں نے 628 حملے کیے، جو نابلس، رملہ اور البیرہ، الخلیل، بیت لحم، جنین، اور القدس کی گورنریوں میں مرکوز رہے۔
مسلسل حملے، دھاوے، شہریوں اور املاک کو نشانہ بنانا، اور چیک پوسٹوں پر سختی غرب اردن اور مقبوضہ بیت المقدس میں ایک ابھرتی ہوئی میدانی حقیقت کی عکاسی کرتی ہے، ایسے میں جب ان اقدامات کا دائرہ کار وسیع ہو رہا ہے جو فلسطینیوں کی نقل و حرکت، ان کے امن اور ان کی املاک کو متاثر کرتے ہیں۔