امریکہ اور اسرائیل کے گٹھ جوڑ اور اسرائیل کو امریکہ کی جانب سے ملنے والی فوجی اور عسکری مدد کی تاریخ میں 1973 سے 1991 تک کا دور سب سے زیادہ اہم اور فیصلہ کن سمجھا جاتا ہے۔
تحریر: ڈاکٹر صابر ابو مریم
سیکرٹری جنرل فلسطین فائونڈیشن پاکستان
(روزنامہ قدس ـ آنلائن خبر رساں ادارہ) امریکہ اور اسرائیل کے درمیان قائم شیطانی گٹھ جوڑ سے متعلق مرحلہ بہ مرحلہ کوشش کی جا رہی ہے کہ آگہی فراہم کی جائے۔ گذشتہ کالم میں امریکہ اور اسرائیل کے اس گٹھ جوڑ میں عسکری اور فوجی تعاون کےا ٓغاز اور جنگوں میں امریکی کردار پر بحث کی گئی تھی تاہم اس کالم میں امریکہ کی جانب سے غاصب صیہونی ریاست اسرائیل کے لئے فراہم کردہ مسلسل فوجی مدد اور عسکری تعاون کے مزید مرحلوں کو بیان کیا جائے گا ۔ مقالہ کے اس حصہ میں امریکہ اور اسرائیل کے گٹھ جوڑ کے 1973 سے لے کر 1991 تک کے دور کا جائزہ لیا جائے گا۔
امریکہ اور اسرائیل کے گٹھ جوڑ اور اسرائیل کو امریکہ کی جانب سے ملنے والی فوجی اور عسکری مدد کی تاریخ میں 1973 سے 1991 تک کا دور سب سے زیادہ اہم اور فیصلہ کن سمجھا جاتا ہے۔ یہی وہ زمانہ تھا جب دونوں کے تعلقات صرف سیاسی حمایت یا محدود فوجی امداد سے آگے بڑھ کر ایک مکمل، منظم اور دیرپا سیکیورٹی اتحاد میں تبدیل ہوئے۔اگر پہلے امریکہ اسرائیل کا حمایتی تھا، تو اس دور میں اسرائیل امریکی قومی سلامتی کے ڈھانچے کا حصہ بن گیا۔ یہی وہ مرحلہ تھا جس نے آنے والی دہائیوں میں مغربی ایشیاء کی سیاست کو نئی شکل دی۔
1975 میں امریکہ اور اسرائیل کے درمیان ایک اہم مفاہمتی یادداشت پر دستخط ہوئے، جو مصر اور اسرائیل کے درمیان سینائی معاہدے کے بعد سامنے آئی۔اس معاہدے کے تحت امریکہ نے یہ یقین دہانی کرائی کہ اسرائیل پر کسی بڑے سیاسی دباؤ سے پہلے اس سے مشاورت کی جائے گی ۔اگر اسرائیل کو نقصان ہو اتو فوجی امداد دی جائے گی۔اسرائیل کو مستقل سیکیورٹی تعاون کے دائرے میں شامل رکھا جائے گا۔اس کا اصل مطلب یہ تھا کہ امریکہ نے اسرائیل کے زمین، سرحد، جنگ، امن اور سلامتی کے معاملات کو اپنی قومی سلامتی پالیسی کا حصہ بنا لیا۔یوں اسرائیل ایک بیرونی اتحادی سے بڑھ کر امریکی داخلی سلامتی حکمتِ عملی کا جزو بن گیا۔سادہ الفاظ میں1975 سے پہلے اسرائیل امریکہ کے لئے ایک ایسا دوست تھا جس کی مدد کی جاتی تھی۔ لیکن 1975 کے بعداسرائیل امریکہ کا ایک ایسا عضو بن گیا جسے نقصان پہنچے تو امریکہ خود متاثر ہو۔یہی فرق محض حمایت اور حقیقی انضمام میں ہوتا ہے۔یہاں پر پھر حالیہ مثال ثابت آتی ہے کہ ایران پر کی جانے والی امریکی جارحیت دراصل اسرائیل کے مفاد میں کی گئی ہے اور یہ سب اس لئے کیا گیا کہ امریکہ اسرائیل کی سلامتی کے لئے زیادہ فکر مند ہے۔ یعنی امریکہ نے اسرائیل کے لئے امریکی عوام کے بنیادی حقوق کو بھی دائو پر لگا دیاہے۔
دوسرا اہم مرحلہ اس وقت سامنے آیا جب امریکہ نے مصر کے ساتھ اسرائیل کی صلح کرواتے ہوئے کیمپ ڈیوڈ معاہدہ کروایا۔1978 میں امریکہ کی سرپرستی میں مصر اور اسرائیل کے درمیان کیمپ ڈیوڈ معاہدہ طے پایا، جس کے نتیجے میں 1979 میں امن معاہدہ ہوا۔اس معاہدے کے بعد مصر عرب محاذ سے الگ ہو گیا، جبکہ اسرائیل کو مضبوط سیکیورٹی ضمانتیں مل گئیں۔ امریکہ اس پورے بندوبست کا تیسرا اور سب سے اہم فریق بن گیا۔کیمپ ڈیوڈ کے بعد امریکہ نے اسرائیل کے لیےمستقل فوجی امداد کا نظام قائم کیااور انٹیلی جنس رابطے مزید مضبوط کئے۔ پینٹاگون اور اسرائیلی فوج کے درمیان براہِ راست تعاون شروع کیا گیا اورصحرائے سینا کے سیکیورٹی انتظامات پر مستقل نگرانی سنبھالی گئی ۔یہ پہلی بار تھا کہ امریکہ کی مغربی ایشیاء سیکیورٹی پالیسی براہِ راست اسرائیل کی سلامتی سے جڑ گئی تھی اور تاحال یہ صورتحال باقی ہے۔
1981 میں اسرائیل کو امریکہ نے اہم غیر نیٹو اتحادی کا درجہ دیا۔یہ بات امریکہ اور اسرائیل کے تعلقات یا گٹھ جوڑ میں ایک قانونی اور سیاسی انقلاب کے مترادف تھی۔ اس کا مطلب یہ تھا کہ اسرائیل نیٹو کا رکن نہ ہونے کے باوجود ان فوائد تک رسائی حاصل کرے گا جو اکثر نیٹو اتحادیوں کو حاصل ہوتے ہیں۔اس درجہ کے تحت اسرائیل کوجدید امریکی اسلحے تک خصوصی رسائی بھی حاصل ہو گی اور مشترکہ دفاعی تحقیقاتی منصوبوں میں شرکت بھی کروائی جائے گی۔ اسی طرح میزائل دفاعی پروگراموں میں شمولیت اور سرائیل میں امریکی فوجی ذخائر رکھنے کی اجازت بھی شامل تھی۔ اگرچہ چند دوسرے ممالک کو بھی یہ حیثیت
حاصل ہے، مگر اسرائیل کے لیے اس کی نوعیت کہیں زیادہ وسیع اور گہری رہی۔یعنی اسرائیل کو ایک غیر معمولی استثنیٰ فراہم کیا گیا تھا۔
1982 میں لبنان پر اسرائیلی حملے اور سرد جنگ کے تناظر میں امریکہ نے 1983 میں اسرائیل کے ساتھ ایک نیا اسٹریٹجک تعاون معاہدہ کیا۔یہ پہلا باضابطہ معاہدہ تھا جس میں اسرائیل کو امریکہ کا اسٹریٹجک پارٹنر قرار دیا گیاتھا۔اس معاہدےکے تحت مشترکہ سیاسی و عسکری ورکنگ گروپ کا قیام عمل میں لایاگیا اور خطے کی پالیسیوں میں ہم آہنگی سمیت سوویت اثرورسوخ کے خلاف مشترکہ اقدامات کو بھی شامل کیا گیا تھا۔امریکی افواج اسرائیل کی مدد کے لئے لبنان میں بھی موجود تھیں۔اعلیٰ سطحی انٹیلی جنس تبادلہ کے ساتھ ساتھ اسرائیل میں امریکی جنگی ذخائر قائم کرنااور الیکٹرانک جنگی تعاون کا آغازاسرائیل کی دفاعی طاقت بڑھانے کا امریکی عز م جیسے عنوان اس معاہدے کا حصہ تھے ۔یہیں سے اسرائیل کی فوجی برتری کے تصور (QME) کی بنیاد مزید مضبوط ہوئی، جو بعد میں امریکی قانون کا حصہ بنی۔یہی بنیاد ہے کہ جو آج مغربی ایشیائی ممالک بالخصوص لبنان، عراق و ایران میں جنگوں کو مسلط کروانے میں کارفرما ہے۔
1985 کے بعد امریکہ نے اسرائیل کے لیے سالانہ اور مستقل فوجی امداد کا نظام قائم کر دیا۔اربوں ڈالر سالانہ امدادامداد کی مستقل ضمانت اسرائیل کی دی گئی اور ایک بڑا حصہ اسرائیلی دفاعی صنعت میں خرچ کرنے کی اجازت بھی دی گئی ۔یہ امریکہ کی پالیسیوں میں ایک بنیادی تبدیلی تھی کیونکہ اب تعلقات کسی ایک صدر یا وزیر خارجہ کے فیصلے پر منحصر نہیں رہے تھے، بلکہ امریکی ریاستی ادارے پینٹاگون، سی آئی اے، وزارت خارجہ اور کانگریس اس تعلق کے مستقل محافظ بن گئے تھے۔
خلاصہ کلام یہ ہے کہ 1973 سے 1991 تک کا دور امریکہ اور اسرائیل تعلقات میں سب سے بڑا موڑ تھا۔ یہی وہ زمانہ تھا جب اسرائیل امریکی خارجہ پالیسی کا اتحادی نہیں بلکہ امریکی قومی سلامتی نظام کا حصہ بن گیا۔اس دور کے بعد اسرائیل کی سلامتی صرف تل ابیب کا مسئلہ نہیں رہی بلکہ واشنگٹن کی ترجیح بن گئی۔ یہی وجہ ہے کہ آج بھی مشرقِ وسطیٰ کی ہر بڑی پالیسی میں اسرائیل کو مرکزی حیثیت حاصل ہے۔یہی وجہ ہے کہ آج غزہ سے لبنان اور ایران تک جو نسل کشی اور دہشتگردی ہمیں نظر آتی ہے وہ سب امریکہ کی ان پالیسیوں اور اسرائیل کے ساتھ قائم کردہ شیطانی گٹھ جوڑ کا حصہ ہے جو انہوںنے اس زمانہ میں ترتیب دیا اور وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اسے مزید تقویت فراہم کی۔