نیو یارک – (روزنامہ قدس ـ آنلائن خبر رساں ادارہ) اقوامِ متحدہ کے تعلیمی، سائنسی اور ثقافتی ادارے "یونیسکو” نے مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں تاریخی مقامات اور تعلیمی تنصیبات پر قابض صیہونی دشمن کے متواتر حملوں کے تناظر میں فلسطینی ثقافتی ورثے کے تحفظ اور تعلیمی و ثقافتی اداروں کی بحالی و نگہداشت کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے فلسطین کے بارے میں دو اہم ترین قراردادیں متفقہ طور پر منظور کر لی ہیں۔
ان دونوں قراردادوں کی منظوری یونیسکو کے 225 ویں اجلاس کے دوران عمل میں آئی جن میں سے پہلی قرارداد مقبوضہ فلسطینی سرزمین کی عمومی صورت حال سے متعلق ہے، جبکہ دوسری قرارداد تعلیمی اور ثقافتی اداروں کے بارے میں یونسکو کی ماضی کی قرارات کے عملی نفاذ سے تعلق رکھتی ہے۔
یہ دونوں قراردادیں فلسطینی ثقافتی ورثے کے تحفظ کی اہمیت کو اجاگر کرتی ہیں، جن میں مقبوضہ بیت المقدس، الخلیل اور بیت لحم کے تاریخی و مقدس مقامات کا تحفظ، تعلیمی و ثقافتی اداروں کی نگہداشت، اور یونسکو کی متعلقہ قرارات پر عملدرآمد کی مسلسل مانیٹرنگ شامل ہے، تاکہ فلسطینی تہذیبی و تاریخی ورثے کو محفوظ بنایا جا سکے اور تعلیمی و ثقافتی عمل کا تسلسل یقینی رہے۔
دوسری جانب یونیسکو میں فلسطین کے مستقل مندوب سفیر عادل عطیہ نے ان دونوں قراردادوں کی متفقہ منظوری کو سراہتے ہوئے اس سلسلے میں رکن ممالک اور یونیسکو کے سیکرٹریٹ کی مخلصانہ کوششوں پر فلسطینی ریاست کی جانب سے گہرے تشکر کا اظہار کیا۔
عادل عطیہ نے اس بات پر زور دیا کہ صیہونی ریاست کی طرف سے سکولوں، یونیورسٹیوں، تاریخی ورثے کے مقامات اور صحافیوں کو نشانہ بنانے کے ہولناک اثرات صرف فلسطینی عوام تک محدود نہیں ہیں، بلکہ یہ خود یونسکو کے بنیادی مینڈیٹ، اقدار اور ان تمام اصولوں پر حملہ ہے جن کے دفاع کے لیے اس عالمی ادارے کی بنیاد رکھی گئی تھی۔
انہوں نے فلسطینی ثقافتی ورثے پر صیہونی تجاوزات، تعلیمی اداروں کو نشانہ بنانے، اور اس کے ساتھ ساتھ طلبہ، صحافیوں اور کسانوں کے خلاف صیہونی مظالم میں روزافزوں اضافے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے، یونسکو کو اس قابل بنانے کی اشد ضرورت پر زور دیا کہ وہ تعلیم، ثقافت اور تاریخی ورثے کے تحفظ کے لیے اپنی بین الاقوامی ذمہ داریاں نبھا سکے۔
سفیر عادل عطیہ نے زور دے کر کہا کہ یونسکو کی منظور شدہ قرارات کو محض کاغذ کی حد تک محدود رکھنے کے بجائے زمین پر عملی اقدامات اور واقعی نتائج میں ڈھالا جائے، تاکہ فلسطینی تاریخی مقامات اور تعلیمی و ثقافتی اداروں کو صیہونی ریاست کے مزید مظالم اور بربریت کا شکار ہونے سے بچایا جا سکے۔
انہوں نے صیہونی ریاست کی ان تمام تر خلاف ورزیوں اور غنڈہ گردی کا فوری خاتمہ کرنے کا مطالبہ کیا جو فلسطینی ثقافتی شناخت کو مٹانے کی ناپاک کوششوں پر مبنی ہیں اور اپنے حضارتی و تاریخی ورثے کو محفوظ رکھنے اور تعلیم حاصل کرنے کے فلسطینی عوام کے مسلمہ بنیادی حق پر حملہ آور ہیں۔