• Newsletter
  • صفحہ اول
  • صفحہ اول2
جمعرات 29 جنوری 2026
  • Login
Roznama Quds | روزنامہ قدس
  • صفحہ اول
  • فلسطین
  • حماس
  • غزہ
  • پی ایل او
  • صیہونیزم
  • عالمی یوم القدس
  • عالمی خبریں
  • پاکستان
  • رپورٹس
  • مقالا جات
  • مکالمہ
No Result
View All Result
  • صفحہ اول
  • فلسطین
  • حماس
  • غزہ
  • پی ایل او
  • صیہونیزم
  • عالمی یوم القدس
  • عالمی خبریں
  • پاکستان
  • رپورٹس
  • مقالا جات
  • مکالمہ
No Result
View All Result
Roznama Quds | روزنامہ قدس
No Result
View All Result
Home خاص خبریں

قابض اسرائیل سے تعلقات معطل، غزہ میں امداد کی راہ ہموار کی جائے، یو این مندوب

اقوام متحدہ نے غزہ میں انسانی بحران کے فوری حل اور امدادی رسائی پر زور دیا۔

جمعرات 29-01-2026
in خاص خبریں, صیہونیزم, عالمی خبریں
0
قابض اسرائیل سے تعلقات معطل، غزہ میں امداد کی راہ ہموار کی جائے، یو این مندوب
0
SHARES
0
VIEWS

نیویارک – (روزنامہ قدس ـ آنلائن خبر رساں ادارہ) اقوام متحدہ کی مقبوضہ فلسطینی علاقوں سے متعلق خصوصی مندوب فرانسسکا البانیز نے کہا ہے کہ قابض اسرائیل کے پاس ایسا کوئی قانونی اختیار موجود نہیں جس کی بنیاد پر وہ انسانی تنظیموں اور امدادی کارکنوں کو غزہ کی پٹی اور دیگر مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں داخلے سے روک سکے۔

فرانسسکا البانیز نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر اپنے بیان میں دنیا کے ممالک سے مطالبہ کیا کہ وہ قابض اسرائیل کے ساتھ اپنے تعلقات اس وقت تک معطل کردیں جب تک وہ بین الاقوامی قانون کی پابندی نہیں کرتا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہی قدم حقیقی امن کے قیام کا نقطہ آغاز بن سکتا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ قابض اسرائیل کو غزہ اور دیگر مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں انسانی امدادی کارکنوں کے داخلے سے روکنے کا کوئی قانونی جواز حاصل نہیں۔ قبضہ بذات خود غیر قانونی ہے اور اسے مکمل طور پر اورغیر مشروط طور پرختم ہونا چاہیے جیسا کہ سنہ 2024ء میں عالمی عدالت انصاف نے واضح طور پر قرار دیا۔ انہوں نے زور دیا کہ ممالک کو قابض اسرائیل سے تعلقات اس وقت تک معطل رکھنے چاہئیں جب تک وہ بین الاقوامی قانون کے آگے سرِتسلیم خم نہیں کرتا۔

اقوام متحدہ کی اس عہدیدار نے اس امر کی بھی نشاندہی کی کہ قابض اسرائیل نے غزہ میں اقوام متحدہ کے دفتر برائے رابطہ انسانی امور اوچا کی ترجمان اولگا چیریویکو کا ویزا تجدید نہیں کیا جس کے باعث انہیں محصور غزہ پٹی میں داخل ہونے سے روک دیا گیا۔

فرانسسکا البانیز نے کہا کہ یہ اقدام اقوام متحدہ اور بین الاقوامی غیر سرکاری تنظیموں سے وابستہ امدادی کارکنوں کے خلاف دباؤ اور رکاوٹوں کے ایک مسلسل اور منظم سلسلے کا حصہ ہے خصوصاً ان افراد کے خلاف جو زمینی حقائق کو صاف گوئی سے دنیا کے سامنے لاتے ہیں۔

انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ انسانی میدان میں کام کرنے والے افراد پر یہ اخلاقی اور قانونی ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ جب بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہو تو وہ اس پر گواہی دیں۔

یہ بیانات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب نو یورپی ممالک کے ساتھ کینیڈا اور جاپان نے قابض اسرائیل سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ کراسنگ پوائنٹس کھولے اور غزہ پٹی میں انسانی امداد کی ترسیل پر عائد تمام پابندیاں ختم کرے۔

ان ممالک کے مشترکہ بیان میں قابض اسرائیل کی حکومت سے کہا گیا کہ وہ بین الاقوامی قانون کے مطابق غزہ اور مغربی کنارے کے تمام علاقوں میں انسانی امداد کی بلا رکاوٹ فراہمی کو یقینی بنائے۔ بیان میں اس بات کا بھی حوالہ دیا گیا کہ قابض اسرائیل نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی پیش کردہ بیس نکاتی منصوبہ بندی سے اتفاق کیا تھا جس کے تحت امداد اقوام متحدہ اور ریڈ کراس کی نگرانی میں اور بغیر کسی مداخلت کے داخل اور تقسیم کی جانی تھی۔

مشترکہ بیان میں اس امر کی تصدیق کی گئی کہ غزہ پٹی میں انسانی حالات بدستور نہایت سنگین ہیں اور موجودہ امدادی سامان آبادی کی بنیادی ضروریات پوری کرنے سے قاصر ہے۔ بیان میں قابض اسرائیل سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ بین الاقوامی غیر سرکاری تنظیموں کو غزہ میں کام کرنے کے قابل بنائے۔

مزید برآں ان ممالک نے تمام کراسنگ پوائنٹس کو دوبارہ کھولنے کا مطالبہ کیا جن میں رفح کراسنگ کو دونوں سمتوں میں کھولنے کے اعلانات بھی شامل ہیں اور انسانی امدادی سامان کی درآمد پر عائد تمام پابندیاں اٹھانے پر زور دیا گیا جن میں دوہری استعمال کی درجہ بندی والی اشیا بھی شامل ہیں جو انسانی امداد اور ابتدائی بحالی کے لیے ناگزیر سمجھی جاتی ہیں۔

مئی سنہ 2024ء سے قابض اسرائیل رفح کراسنگ کے فلسطینی حصے پر قابض ہے۔ یہ قبضہ اس نسل کش جنگ کے تناظر میں ہے جو اس نے سات اکتوبر سنہ 2023ء کو غزہ پٹی کے خلاف شروع کی اور جو دو برس سے زائد عرصے تک جاری رہی۔

قابض اسرائیل 10 اکتوبر سنہ 2025ء سے نافذ سیز فائر معاہدے کی بھی مسلسل خلاف ورزی کر رہا ہے جس کے نتیجے میں غزہ کی وزارت صحت کے مطابق پانچ سو سے زائد فلسطینی شہید ہو چکے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ متفقہ مقدار میں خوراک، ادویات، طبی سامان اور رہائشی ضروریات کی اشیا کے داخلے کو بھی روکا جا رہا ہے۔

رفح کراسنگ کی دوبارہ بحالی غزہ میں سیز فائر معاہدے کے پہلے مرحلے کی بنیادی شقوں میں شامل تھی اور معاہدے پر دستخط کے فوراً بعد 10 اکتوبر کو اس پر عمل ہونا تھا مگر قابض قوت نے اس وعدے کی پاسداری نہیں کی اور کراسنگ کی بحالی کو اپنے اسیران کی لاشوں کی واپسی سے مشروط کر دیا۔

Tags: gazaHumanitarianAidInternationalResponseIsraeliOccupationMiddleEastPalestinianCrisisReliefEffortsUNUNRepresentative
ShareTweetSendSend

ٹوئیٹر پر فالو کریں

Follow @roznamaquds Tweets by roznamaquds

© 2019 Roznama Quds Developed By Team Roznama Quds.

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In
No Result
View All Result
  • Newsletter
  • صفحہ اول
  • صفحہ اول2

© 2019 Roznama Quds Developed By Team Roznama Quds.