• Newsletter
  • صفحہ اول
  • صفحہ اول2
جمعرات 24 ستمبر 2026
  • Login
Roznama Quds | روزنامہ قدس
  • صفحہ اول
  • فلسطین
  • حماس
  • غزہ
  • پی ایل او
  • صیہونیزم
  • عالمی یوم القدس
  • عالمی خبریں
  • پاکستان
  • رپورٹس
  • مقالا جات
  • مکالمہ
No Result
View All Result
  • صفحہ اول
  • فلسطین
  • حماس
  • غزہ
  • پی ایل او
  • صیہونیزم
  • عالمی یوم القدس
  • عالمی خبریں
  • پاکستان
  • رپورٹس
  • مقالا جات
  • مکالمہ
No Result
View All Result
Roznama Quds | روزنامہ قدس
No Result
View All Result
Home خاص خبریں

ٹرمپ کا خطاب عالمی اصولوں پر حملہ

ٹرمپ کی پوری تقریر میں جہاں جھوٹ اور من گھڑت باتیں بیان کی گئی ہیں وہاں ساتھ ساتھ دنیا کو یہ تاثر بھی دیا گیا ہے کہ ٹرمپ دنیا کی دیگر اقوام کا احترام نہیں کرتا ہے۔

جمعرات 24-09-2026
in خاص خبریں, مقالا جات
0
ٹرمپ کا خطاب عالمی اصولوں پر حملہ
0
SHARES
0
VIEWS

تحریر: ڈاکٹر صابر ابو مریم
سیکرٹری جنرل فلسطین فائونڈیشن پاکستان
(روزنامہ قدس ـ آنلائن خبر رساں ادارہ) حالیہ دنوں اقوام متحدہ کا 81واں اجلاس جاری ہے۔ اس اجلاس میں دنیا بھر کے سربراہا ن مملکت خطاب کر رہے ہیں۔ اجلاس کے آغاز میں پہلے ہی روز امریکہ کے صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے بھی خطاب کیا اور اس خطاب کے بعد پوری دنیا کے لئے ایک سوال پیدا ہو اکہ آخر کوئی امریکی صدر عالمی ادارے میں کسی بھی پر امن ملک کو ختم کرنے اور ایران جیسی تین ہزار سالہ تہذیب کو ختم کرنے کی دھمکیاں کس طرح دے سکتا ہے ؟ لیکن حقیقت تو یہی ہے کہ ٹرمپ نے امریکی تاریخ کے چہرے پر ایک سیاہ کلنک لگا دیا ہے اور کھلے عام دھمکیاں دے کر یہ بتا دیا ہے کہ ٹرمپ دنیا کے امن کا دمشن ہے۔ ٹرمپ کی پوری تقریر میں جہاں جھوٹ اور من گھڑت باتیں بیان کی گئی ہیں وہاں ساتھ ساتھ دنیا کو یہ تاثر بھی دیا گیا ہے کہ ٹرمپ دنیا کی دیگر اقوام کا احترام نہیں کرتا ہے۔

ٹرمپ کے اقوام متحدہ کے اجلاس میں خطاب پر امریکہ میں بھی شدید تنقید کی جا رہی ہے اور اس خطاب کو امریکی تاریخ کا بد ترین خطاب قرار دیا جا رہاہے۔ایک امریکی مصنف اور ہدایت کار اینڈی آسٹرائے نے ٹرمپ کے ایران کے خلاف بیانات کا جواب دیتے ہوئے لکھا ہے کہ صرف ایک منحوس، غیر سماجی فرد ہی ایسی باتیں کہے گا۔ امریکیو جاگو۔ ہم امریکی 3 نومبر کو اس پاگل پن کو ختم کر سکتے ہیں۔اسی طرح امریکی فوج کے ریٹائرڈ کرنل ڈینیئل ڈیوس نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں امریکی صدر ٹرمپ کی تقریر کو شرمناک قرار دے دیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ شاید اب تک کی سب سے غیر اخلاقی، شرمناک اور توہین آمیز تقریر تھی جو کسی امریکی صدر نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں کی تھی۔صدر ٹرمپ نے نہ صرف دھوکہ دہی کے ساتھ اب تک پیش آنے والے تقریباً تمام مثبت واقعات کا کریڈٹ لیا، بلکہ اس نے ایک اور ملک کو مکمل تباہی کی دھمکی بھی دی- ایک ایسا عمل جو امریکی قانون، انتہائی بنیادی اخلاقی اصولوں اور امریکی آئین کی خلاف ورزی کرتا ہے۔بحیثیت امریکی، یہ واقعی تکلیف دہ ہے کہ ایسا شخص عالمی سطح پر ہمارے ملک کی نمائندگی کرتا ہے۔

اقوام متحدہ کے سالانہ اجلاس کے عالمی فورم پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کاحالیہ خطاب بین الاقوامی سفارت کاری اور قائم شدہ عالمی اصولوں کے چہرے پر ایک زبردست طمانچہ اور امن عالم کے لیے ایک شدید دھچکا ثابت ہوا ہے۔ صدر ٹرمپ نے ایک ایسی جگہ پر کھڑے ہو کر زہر افشانی کی جہاں دنیا بھر کے سفیر عالمی تنازعات کے پرامن حل اور امن و امان کے فروغ کی امید لے کر اکٹھے ہوتے ہیں۔ انہوں نے نہ صرف اپنے داخلی سیاسی مقاصد اور معاشی پالیسیوں کے حوالے سے حقیقت سے بعید دعوے کیے بلکہ ایران جیسے ایک خودمختار ملک کو باقاعدہ مکمل طور پر تباہ کرنے اور "دوزخ میں دھکیلنے” کی کھلی دھمکیاں دے کر عالمی قانون اور انسانی تہذیب کی دھجیاں اڑا دیں۔

امریکی صدر نے اپنے خطاب میں امریکی معاشی بحالی اور فوجی ہتھیاروں کی بے پناہ طاقت کے جو دعوے کیے ہیں، وہ حقائق کے بالکل برعکس ہیں۔ ٹرمپ نے اپنے دعؤوں میں کہا کہ امریکی فوج اور معیشت کی حالت پہلے سے کہیں زیادہ مستحکم اور طاقتور ہو چکی ہے، اور امریکی گولہ بارود کا ذخیرہ لامتناہی ہے۔ جبکہ حقیقت یہ ہے کہ امریکی دفاعی ماہرین اور معروف تحقیقاتی اداروں، جیسے سينٹر فار اسٹریٹجک اینڈ انٹرنیشنل اسٹڈیز، کے جاری کردہ اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ طویل جنگوں اور خطے میں بلاجواز مداخلت کے باعث امریکی اسمارٹ میزائلوںپیٹریاٹ دفاعی نظام اور اہم دفاعی ذخائر میں شدید کمی واقع ہو چکی ہے۔ اسی طرح معاشی میدان میں خود امریکی عوام مہنگائی، افراطِ زر اور غیر متوازن معاشی پالیسیوں کے بوجھ تلے دبے ہوئے ہیں، جس کی پردہ پوشی کے لیے محض زبانی جمع خرچ اور گمراہ کن اعداد و شمار کا سہارا لیا گیا۔

ایران کے جوہری پروگرام اور بین الاقوامی جارحیت سے متعلق امریکی موقف بھی جھوٹ اور تضاد کا مجموعہ ہے۔ صدر ٹرمپ نے اقوام متحدہ کے فورم پر ایران کو جوہری خطرہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ انہوں نے ایران کے جوہری مقاصد کو روکا ہے، جبکہ دنیا اس بات کی گواہ ہے کہ ۲۰۱۵ء میں ہونے والے مشترکہ جامع معاہدے (JCPOA) کے تحت ایران کا جوہری پروگرام عالمی ایٹمی توانائی ایجنسی (IAEA) کی سخت نگرانی میں اور مکمل طور پر پرامن تھا، لیکن خود واشنگٹن نے یکطرفہ طور پر اس تاریخی معاہدے کو تار تار کیا اور خطے کو غیر یقینی صورتحال میں دھکیل دیا۔ اس کے علاوہ گنوائے جانے والے دیگر سفارتی معرکوں اور غزہ میں نام نہاد امن کے دعوے بھی محض زبانی دعوؤں اور پروپیگنڈے سے زیادہ کچھ نہیں، کیونکہ زمینی حقائق، جاری خونریزی اور بین الاقوامی رپورٹس امریکی انتظامیہ کے امن پسند ہونے کی نفی کرتی ہیں۔
سب سے زیادہ تشویشناک بات یہ ہے کہ اقوام متحدہ کے طاقتور ترین فورم پر کھڑے ہو کر امریکی صدر کا یہ کہنا کہ وہ ایران کی اسلامی جمہوریہ کو نیست و نابود کر دیں گے یاآنے والی نسلوں کے مستقبل کو ختم کر دیں گے، سفارتی پاسداری اور عالمی اخلاقیات سے صریح انحراف ہے۔ یہ بیانات سفارتی سطح کی گفتگو کے زمرے میں نہیں آتے بلکہ یہ ننگی جارحیت اور ایک قسم کی ریاستی دہشت گردی کی عکاسی کرتے ہیں۔ اقوام متحدہ کے منشور کی دفعہ ۲ (۴) واضح طور پر تمام رکن ممالک کو ہدایت کرتی ہے کہ وہ کسی بھی ریاست کی علاقائی سالمیت یا سیاسی خودمختاری کے خلاف طاقت کے استعمال یا دھمکی دینے سے گریز کریں، مگر امریکہ نے خود کو اس قانون سے بالاتر ثابت کرنے کی ناکام کوشش کی ہے۔
ایک خودمختار ملک کی نسلوں کو ختم کرنے اور اسے تباہ کرنے کے بیانات انسانی تہذیب اور عالمی چارٹر پر براہِ راست حملہ ہیں۔ یہ رویہ اس بات کا ثبوت ہے کہ امریکی انتظامیہ دنیا میں بین الاقوامی قوانین کے بجائےجنگل کے قانون کو مسلط کرنا چاہتی ہے۔ اس طرح کا زہریلا اور غنڈہ گردانہ طرز عمل نہ صرف اقوام متحدہ جیسے عالمی ادارے کی ساکھ، وقار اور معتبریت کو شدید نقصان پہنچاتا ہے بلکہ پوری دنیا کو ایک نئی اور ہلاکت خیز عالمی جنگ کے دہانے پر لا کھڑا کرتا ہے۔ عالمی برادری اور اقوام متحدہ کے سیکیورٹی کونسل کو چاہیے کہ وہ اس قسم کی گیدڑ بھبکیوں اور طاقت کے وحشیانہ نمائش کا سخت نوٹس لیں اور واشنگٹن کو پابند کریں کہ وہ عالمی امن کو تباہ کرنے والے اقدامات اور بیانات سے باز رہے۔
خلاصہ یہ ہے کہ امریکی صدر نے دنیا میں انارکی اور افراط و تفریط پھیلانے کے ایجنڈے کو جاری رکھا ہوا ہے۔ جہاں دہشتگردوں کو پناہ دی جاتی ہے اور پر امن اقوام کو تباہ و برباد کرنے کی دھمکیاں اور ا ن پر حملے کئے جاتے ہیں۔ اگر آج بھی عالمی برداری نے امریکی صدر ٹرمپ کے دہشتگردانہ عزائم کے خلاف کوئی عملی کاروائی نہ کی تو کل خاموش رہنے والے سب اس بھیانک مرحلہ کا سامنا کریں گے جہاں ٹرمپ نہ تو کسی کی عزت کرے گا اور نہ ہی کسی کی خود مختار ی اور سلامتی کا خیال کرے گا۔ امریکی تاریخ میں بھی یہ بدترین رویہ ہے جس پر امریکی عوام بھی شدید کرب میں مبتلا ہیں۔

Tags: DonaldTrumpGeopoliticsGlobalPoliticsGlobalRulesInternationalLawInternationalNormsInternationalRelationsPoliticalSpeechTrumpSpeechUnitedStatesWorldNewsWorldPolitics
ShareTweetSendSend

ٹوئیٹر پر فالو کریں

Follow @roznamaquds Tweets by roznamaquds

© 2019 Roznama Quds Developed By Team Roznama Quds.

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In
No Result
View All Result
  • Newsletter
  • صفحہ اول
  • صفحہ اول2

© 2019 Roznama Quds Developed By Team Roznama Quds.