امریکہ کی معیشت جنگی معیشت ہے۔ امریکہ کی ماضی قریب کی تاریخ کا مطالعہ کریں تو پتہ چلے گا کہ امریکہ ہمیشہ حالت جنگ میں رہتا ہے۔ اس سے اس کی اسلحہ فیکٹریاں چلتی ہیں اور پیسہ دھڑا دھڑ امریکہ آتا ہے۔۔
(روزنامہ قدس ـ آنلائن خبر رساں ادارہ) امریکہ کی معیشت جنگی معیشت ہے۔ امریکہ کی ماضی قریب کی تاریخ کا مطالعہ کریں تو پتہ چلے گا کہ امریکہ ہمیشہ حالت جنگ میں رہتا ہے۔ اس سے اس کی اسلحہ فیکٹریاں چلتی ہیں اور پیسہ دھڑا دھڑ امریکہ آتا ہے۔ ویت نام پر امریکہ نے قبضہ کیا، لمبی گوریلا جنگ چلی، ہزاروں لوگ مروا کر امریکہ وہاں سے نکل گیا۔ اس کے بعد افغانستان میں یہی عمل دہرایا اور دو دہائیاں افغانستان میں قتل عام کیا۔ عراق پر حملہ کیا اور وہاں بھی جنگ چلتی رہی اور امریکی اپنی زندگی میں مگن رہے۔ ہر صدر لاکھوں لوگوں کو قتل کرواتا رہا مگر امریکیوں کے کان پر جوں تک نہیں رینگی۔ ایسا اس لیے ہوا کہ ان میں کسی جنگ کے اثرات امریکیوں کے چولہوں تک نہیں پہنچے۔ ایران پر امریکی حملے کے اثرات جلد ہی امریکی معیشت محسوس کرنے لگی جس سے امریکی ووٹر بیدار ہونے لگا یہ کوئی انسانیت سے محبت نہیں بلکہ اپنا چولہا چلنا مشکل ہونا ہے جس کی وجہ سے امریکی ووٹر رائے تبدیل کر رہا ہے۔ عام امریکی شہری اب اس مہنگائی کو محسوس کر رہے ہیں اور وہ اس سے خوش نہیں ہیں۔
صدر ٹرمپ اور ان کی انتظامیہ کی پالیسیوں کی وجہ سے ان کی مقبولیت تاریخی کم ترین سطح کے قریب پہنچ چکی ہے۔ جولائی 2026ء میں Pew Research Center کے ایک سروے کے مطابق ٹرمپ کی مجموعی مقبولیت صرف 34 فیصد تھی جبکہ اسی ماہ CNN کے ایک سروے میں ریکارڈ بلند 73 فیصد امریکیوں نے کہا کہ ٹرمپ نے ملک کے اہم ترین مسائل پر مناسب توجہ نہیں دی۔ مزید برآں جنوری 2026ء میں Navigator Research کے ایک سروے کے مطابق 52 فیصد امریکیوں نے وفاقی حکومت کو آمرانہ (authoritarian) قرار دیا جبکہ تقریباً نصف امریکیوں نے یہ کہنے کا زیادہ امکان ظاہر کیا کہ لفظ جمہوریت ان کی حکومت کی عکاسی نہیں کرتا اور یہ لفظ ان کی حکومت کے لیے موزوں نہیں ہے۔ عوامی تشویش عملی احتجاج میں بھی تبدیل ہوئی، مارچ 2026ء میں امریکا کی تمام 50 ریاستوں میں تقریباً 80 لاکھ (8 million) امریکیوں نے پُرامن No Kings مہم کے عوامی احتجاج میں شرکت کی جس کا مقصد صدارتی اختیارات کے حد سے زیادہ ارتکاز یعنی imperial presidency اور ٹرمپ انتظامیہ کی آمرانہ پالیسیوں کے خلاف احتجاج کرنا تھا۔
اسلامی جمہوریہ ایران نے امریکا کے ساتھ مذاکرات کے لیے ایک طویل مدتی ٹائم ٹیبل شطرنج کی طرح ترتیب دیا ہے جس کا مقصد بظاہر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے تنازع میں نومبر کے مڈٹرم انتخابات تک الجھائے رکھنا ہے۔ 4 اگست 2026ء کو ایران کے نائب وزیر خارجہ کاظم غریب آبادی نے کہا کہ آبنائے ہرمز میں تجارتی جہاز رانی کے لیے راستہ طے ہونے کے بعد ایران کے جوہری پروگرام پر مذاکرات کے دوسرے مرحلے تک پہنچنے میں 2 سے 4 ماہ لگ سکتے ہیں۔ پہلے منصوبے کے مطابق جون میں امریکا کے ساتھ طے شدہ MoU (یادداشتِ مفاہمت) کے صرف 30 دن کے اندر جوہری مذاکرات شروع ہونے تھے لیکن یہ منصوبہ ٹرمپ انتظامیہ نے تبدیل کر دیا۔ یہ بہت ہی اعلی حکمت عملی ہے کہ جنگ ٹرمپ نے شروع کی ہے مگر اس کا خاتمہ اس کے ہاتھ میں نہیں ہے۔ اب مذاکرات کے دوسرے مرحلے سے پہلے ایران نے مزید اہم شرائط پیش کی ہیں: امریکی پابندیوں کا خاتمہ، ایرانی بندرگاہوں کی امریکی ناکہ بندی ختم کرنا، منجمد ایرانی اثاثے بحال کرنا اور عدمِ جارحیت کی نئی یقین دہانیاں۔
یہ شرائط بتاتی ہیں کہ مذاکرات کا یہ عمل مڈٹرم انتخابات سے بھی آگے جائے گا۔ ایران کی وقت حاصل کرنے کی یہ حکمت عملی کامیاب رہے گی۔ نومبر کے انتخابات تک ٹرمپ کے پاس ایران کے جوہری ہتھیاروں سے متعلق کوئی حتمی معاہدہ نہیں ہوگا جبکہ جنگ کی بھاری معاشی قیمت ان کے سامنے ہوگی۔ یوں امریکی عوام کے سامنے ٹرمپ ایک ہارا ہوا شکست خوردہ صدر ہوگا۔ مہر نیوز کے مطابق ٹرمپ ایک مشکل سیاسی صورتِ حال میں پھنس چکا ہے۔ جنگ جاری رکھنے سے اس پر سیاسی و معاشی دباؤ آئے گا اور مقبولیت میں مزید کمی ہوگی جبکہ پیچھے ہٹنے کو امریکی عوام عبرت ناک شکست سے تعبیر کرے گی۔ ایسا پہلی بار نہیں ہوا بلکہ جب بھی امریکہ نے ایران پر ظالمانہ حملہ کیا ایسا ہی ہوا۔
ایران نے 1979ء میں تہران کے جاسوسی کے مرکز سے سفارتی لباس میں جاسوسوں کو قید کر لیا۔ اس نے امریکی صدر جمی کارٹر کی سیاسی ساکھ کو شدید نقصان پہنچایا۔ 4 نومبر 1979ء کو تہران میں امریکی سفارت خانے پر قبضہ کرکے 52 امریکیوں کو یرغمال بنایا گیا جو تقریباً 444 دن تک قید رہے اور 20 جنوری 1981ء کو رونالڈ ریگن کے حلف اٹھانے کے چند منٹ بعد رہا ہوئے۔ بحران کے دوران کارٹر کی حکومت یرغمالیوں کو آزاد کرانے میں ناکام رہی جبکہ اپریل 1980ء میں فوجی ریسکیو آپریشن بھی ناکام ہوا اور 8 امریکی فوجی ہلاک ہوئے۔ اس واقعے نے کارٹر کی قیادت کے بارے میں سوالات کھڑے کر دیئے۔ اس کے ساتھ ساتھ 1980ء میں افراطِ زر 14 فیصد سے تجاوز کر گیا۔ بالآخر 4 نومبر 1980ء کے صدارتی انتخاب میں رونالڈ ریگن نے کارٹر کو بڑے فرق سے شکست دی۔
ریگن نے 489 الیکٹورل ووٹ اور تقریباً 50.7 فیصد مقبول ووٹ حاصل کیےجبکہ کارٹر کو صرف 49 الیکٹورل ووٹ اور 41 فیصد مقبول ووٹ ملے۔ یوں یرغمالی بحران کارٹر کی سیاسی کمزوری کی علامت بن گیا جس سے اسے انتخابات میں عبرناک شکست ہوئی۔ چار سے چھ ہفتوں کے لیے ٹرمپ نے جیت کی یقین دہانی پر یہ جنگ شروع کی تھی مگر اب چھ ماہ سے زیادہ عرصہ ہوگیا یہ جنگ جاری ہے۔ آبنائے ہرمز اسلامی جمہوریہ ایران کے قبضے میں ہے، ایران کی ایک انچ زمین بھی دشمن کے قبضہ میں نہیں ہے۔ یہ سلسلہ نومبر میں امریکی انتخابات تک یونہی چلے گا، جب بھی ٹرمپ کوئی بڑھک مارے گا اگلی رات دو ٹینکر پانی میں ڈوب کر دنیا بالخصوص امریکی عوام کو بتا دیں گے کہ ٹرمپ یہ جنگ ہار چکا ہے اور اب مڈٹرم انتخابات بھی ہار جائے گا۔