مقبوضہ مغربی کنارہ – (روزنامہ قدس ـ آنلائن خبر رساں ادارہ) اقوام متحدہ کی طرف سے جاری کردہ سرکاری اعداد و شمار سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ مسلح یہودی آباد کاروں کے گروپوں نے سنہ 2025ء کے آغاز سے لے کر آج تک مقبوضہ مغربی کنارے کے مختلف گرنریوں میں فلسطینی قصبوں، دیہات اور فارموں کو نشانہ بناتے ہوئے تقریباً تین ہزار حملے کیے ہیں۔
عالمی ادارے نے آج بروز اتوار جاری کردہ ایک بیان میں مغربی کنارے میں فلسطینیوں کے خلاف قابض اسرائیلی فوج اور یہودی آباد کاروں کے حملوں کی رفتار میں خطرناک اور غیر معمولی اضافے سے خبردار کیا ہے۔
اپنی رپورٹ میں اس بات کی تصدیق کی گئی ہے کہ فلسطینیوں کو منظم قتل عام اور بڑے پیمانے پر جبری نقل مکانی کا سامنا ہے، جس نے بڑی تعداد میں رہائشی اور بدوی بستیوں کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے۔
واضح کیا گیا کہ ان حملوں کے نتیجے میں فلسطینیوں میں سینکڑوں شدید زخمی ہوئے ہیں، اس کے علاوہ املاک اور بنیادی ڈھانچے کو وسیع پیمانے پر نقصان پہنچا ہے، جن میں گھروں اور مساجد کو نذر آتش کرنا، پانی کے نیٹ ورک اور نجی املاک کو تباہ کرنا شامل ہے، یہ سب کچھ قابض فوج کی براہ راست چھتر چھایا اور سیکیورٹی میں ہوا۔
مغربی کنارے میں فلسطینیوں اور ان کی املاک پر یہودی آباد کاروں کے حملے برسوں سے جاری ہیں، جبکہ اکتوبر سنہ 2023ء میں غزہ کی پٹی پر قابض اسرائیل کی نسل کشی کی جنگ کے آغاز کے بعد سے ان کی رفتار میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔