• Newsletter
  • صفحہ اول
  • صفحہ اول2
ہفتہ 31 جنوری 2026
  • Login
Roznama Quds | روزنامہ قدس
  • صفحہ اول
  • فلسطین
  • حماس
  • غزہ
  • پی ایل او
  • صیہونیزم
  • عالمی یوم القدس
  • عالمی خبریں
  • پاکستان
  • رپورٹس
  • مقالا جات
  • مکالمہ
No Result
View All Result
  • صفحہ اول
  • فلسطین
  • حماس
  • غزہ
  • پی ایل او
  • صیہونیزم
  • عالمی یوم القدس
  • عالمی خبریں
  • پاکستان
  • رپورٹس
  • مقالا جات
  • مکالمہ
No Result
View All Result
Roznama Quds | روزنامہ قدس
No Result
View All Result
Home پاکستان

نتین یاہو کی غزہ امن بورڈ میں شمولیت پر مولانا فضل الرحمن کا احتجاج

ہماری پالیسیاں عالمی دباؤ کے تحت بنتی ہیں، حکمران قائد اعظم کی اسرائیل پالیسی کی سوچ بھی رکھتے ہیں ، سربراہ جے یو آئی

ہفتہ 24-01-2026
in پاکستان, خاص خبریں, صیہونیزم, عالمی خبریں
0
نتین یاہو کی غزہ امن بورڈ میں شمولیت پر مولانا فضل الرحمن کا احتجاج
0
SHARES
101
VIEWS

اسلام آباد (روزنامہ قدس ـ آنلائن خبر رساں ادارہ) جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے قومی اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ یورپ، فرانس اور کئی دیگر ممالک نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے قائم کردہ بورڈ آف پیس میں شامل ہونے سے انکار کر دیا ہے، جبکہ ہمارے وزیراعظم اسرائیل کے وزیرِ اعظم بنیامین نتین یاہو کے ساتھ بیٹھ کر امن پر مشاورت کر رہے ہوں گے۔

انہوں نے کہا کہ ٹرمپ کے پیس بورڈ پر بات کرنا ضروری ہے، کیونکہ برطانیہ کی سرپرستی میں اسرائیل ریاست قائم کی گئی، اور لیگ آف نیشنز کی رپورٹ میں یہودیوں کو فلسطین میں آباد نہ کرنے کی تجویز دی گئی تھی، جسے نظرانداز کر دیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ اسی غلطی کے سبب مسئلہ فلسطین پیدا ہوا اور آج وہی منصف بن رہے ہیں، اور ستر ہزار فلسطینیوں کی ہلاکت کے مرتکب نتین یاہو کو پیس بورڈ میں شامل کر لیا گیا۔

مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ ہماری پالیسیوں پر عالمی دباؤ اثر انداز ہوتا ہے۔ انہوں نے یاد دلایا کہ بانی پاکستان نے اسرائیل کے حوالے سے جو پالیسی 1940 کی قرارداد میں دی تھی، اس پر آج بھی عمل ہونا چاہیے، اور قائداعظم نے اسرائیل کو "ناجائز وجود” قرار دیا تھا۔

سربراہ جے یو آئی نے ایوان سے سوال کیا کہ جب فلسطین جیسے ایمانی مسئلے پر قوم کو اعتماد میں نہیں لیا گیا تو کیا یہ ایوان واقعی عوام کی نمائندگی کرتا ہے؟ انہوں نے کہا کہ ٹرمپ اقوام متحدہ کے متبادل اپنی مرضی کا فورم نہیں بنا رہا؟ جبکہ ہمارے ملک میں امن نہیں، کئی اضلاع میں مسلح گروہوں کا قبضہ ہے اور ریاستی فورسز اپنی پوسٹیں چھوڑ کر ٹھیکیداروں کے حوالے کر دی گئی ہیں۔

مولانا فضل الرحمن نے بجٹ اور مالی معاملات پر بھی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ مسلح گروہوں کے بھتے کے لیے بجٹ میں حصہ رکھا گیا ہے، سرکاری افسر سرمایہ کاروں سے بھتہ لے کر اپنی زندگیاں محفوظ بنا رہے ہیں، اور عالمی سطح پر بھی طاقت اور دولت کا اتحاد آمریت کو تقویت دے رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ غیر اسلامی قانون سازی کو بھی جمہوری حق قرار دیا جا رہا ہے، جبکہ سود کے خاتمے یا اسلامی نظریاتی کونسل کی سفارشات پر کوئی پیش رفت نہیں ہوئی، اور کم عمری کی شادی کو زنا بالجبر قرار دیا جا رہا ہے۔

مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ ترامیم میں حاصل استثنیٰ واپس لیا جائے اور نتین یاہو کی موجودگی میں اور ٹرمپ کی صدارت میں پیس بورڈ میں شمولیت سے انکار کیا جائے۔

ان کے خطاب کے بعد قومی اسمبلی اجلاس غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کر دیا گیا۔

Tags: DiplomacygazaInternationalRelationsisraelMiddleEastNetanyahuPakistanpalestinePeaceBoardShehbazSharif
ShareTweetSendSend

ٹوئیٹر پر فالو کریں

Follow @roznamaquds Tweets by roznamaquds

© 2019 Roznama Quds Developed By Team Roznama Quds.

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In
No Result
View All Result
  • Newsletter
  • صفحہ اول
  • صفحہ اول2

© 2019 Roznama Quds Developed By Team Roznama Quds.