غزہ – (روزنامہ قدس ـ آنلائن خبر رساں ادارہ) قابض اسرائیل کی حکام نے غزہ کی پٹی سے تعلق رکھنے والے سات فلسطینی اسیران کو قید کی مختلف مدتیں مکمل ہونے کے بعد رہا کر دیا۔ مقامی ذرائع کے مطابق رہا ہونے والے اسیران ریڈ کراس کی بین الاقوامی کمیٹی کی ٹیموں کے ہمراہ غزہ کی پٹی کے وسطی شہر دیر البلح کے ’شہداء الاقصیٰ‘ ہسپتال پہنچے۔رہا ہونے والوں میں 28 عائد احمد محمود ابو ردہ ، جبالیہ کے رہائشی شامل ہیں۔ انہیں اندرونی مقبوضہ علاقوں سے گرفتار کیا گیا تھا اور وہ 57 دن تک ’سالمون‘ جیل میں قید رہے۔37 سالہ علی عادل علی الکرد ، شیخ رضوان محلے کے رہائشی، انہیں دیر البلح کے مشرق سے گرفتار کیا گیا تھا اور انہوں نے ’سدیہ تیمان‘ جیل میں چھ ماہ گزارے۔انیس سالہ طارق محمود محمود ابو ردہ ، جبالیہ کے رہائشی، انہیں اندرونی مقبوضہ علاقوں سے گرفتار کیا گیا تھا اور وہ 72 دن تک ’جلبوع‘ جیل میں قید رہے۔4۔ 33 سالہ محمود امین حسین ابو سیدو غزہ شہر کے محلہ ریمال کے رہائشی، انہیں اندرونی مقبوضہ علاقوں سے گرفتار کیا گیا تھا اور وہ چھ ماہ تک ’سالمون‘ جیل میں قید رہے۔62 سالہ اسماعیل مصطفیٰ عبد اللہ الزیدی ، جبالیہ کے رہائشی، انہیں اندرونی مقبوضہ علاقوں سے گرفتار کیا گیا تھا اور وہ 40 دن تک ’ہداریم‘ جیل میں قید رہے۔26 سالہ عائد رائد شنون جراد جبالیہ کے رہائشی، انہیں اندرونی مقبوضہ علاقوں سے گرفتار کیا گیا تھا اور انہوں نے 60 دن ’سالمون‘ جیل میں گزارے۔فادی مصطفیٰ احمد ریحان جبالیہ کے رہائشی، انہیں طولکرم سے گرفتار کیا گیا تھا اور وہ 60 دن تک ’جلبوع‘ جیل میں قید رہے۔قابض حکام وقتاً فوقتاً غزہ کی پٹی کے اسیران کی محدود تعداد کو رہا کرتے رہتے ہیں۔ ان میں سے زیادہ تر جب غزہ پہنچتے ہیں تو وہ طبی غفلت، غذائی قلت اور جیلوں کے اندر تشدد کے نتیجے میں انتہائی تشویشناک اور خستہ حال صحت کے حامل ہوتے ہیں۔
کمیشن برائے امور اسیران اور کلب برائے اسیران کے اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ قابض صہیونی عقوبت خانوں میں اسیران کی تعداد 9400 سے تجاوز کر گئی ہے، جن میں غزہ کی پٹی کے تقریباً 1250 قیدی شامل ہیں جنہیں ’غیر قانونی جنگجو‘ قرار دیا گیا ہے، اس کے علاوہ 99 خواتین اسیران اور تقریباً 350 بچے بھی قید ہیں۔