مغربی کنارے میں یہودی آباد کاروں کا حملہ، دو فلسطینی بچے زخمی
آبادکاروں نے ہفتہ کی صبح وادی الشعّار کے علاقے میں فلسطینی شہری احمد اویس کی گاڑی پر پتھراؤ کیا۔ یہ واقعہ مشرقی اللبن قصبے اور سلفیت شہر کے درمیان پیش آیا، جس کے نتیجے میں گاڑی میں موجود ان کے بچے مصطفیٰ اور علی سر اور چہرے پر زخمی ہو گئے۔
غربِ اردن (روزنامہ قدس ـ آنلائن خبر رساں ادارہ) مقبوضہ مغربی کنارے میں انتہا پسند یہودی آبادکاروں کے حملے میں دو فلسطینی بچے زخمی ہو گئے۔
مقامی ذرائع کے مطابق آبادکاروں نے ہفتہ کی صبح وادی الشعّار کے علاقے میں فلسطینی شہری احمد اویس کی گاڑی پر پتھراؤ کیا۔ یہ واقعہ مشرقی اللبن قصبے اور سلفیت شہر کے درمیان پیش آیا، جس کے نتیجے میں گاڑی میں موجود ان کے بچے مصطفیٰ اور علی سر اور چہرے پر زخمی ہو گئے۔
زخمی بچوں کو فوری طور پر سلفیت کے یاسر عرفات اسپتال منتقل کیا گیا جہاں انہیں طبی امداد فراہم کی گئی۔
دوسری جانب مغربی کنارے کے مختلف علاقوں میں انتہا پسند آبادکاروں نے علی الصبح متعدد حملے کیے۔ رام اللہ کے شمال مشرق میں واقع ترمسعیا کے علاقے میں آبادکاروں نے فلسطینی گھروں پر حملہ کیا اور ایک رہائشی عمارت میں توڑ پھوڑ کی۔
قریب ہی واقع گاؤں ام صفا میں بھی آبادکاروں کے حملے کے بعد قابض اسرائیلی فوج اور فلسطینی شہریوں کے درمیان جھڑپیں ہوئیں، جن میں کئی افراد زخمی ہوئے اور متعدد شہری آنسو گیس سے متاثر ہوئے۔
مقامی ذرائع نے مزید بتایا کہ آبادکاروں نے مغربی کنارے کے مختلف قصبوں اور دیہاتوں میں حملوں کے دوران وسیع زرعی علاقوں کو آگ لگا دی۔
رپورٹس کے مطابق آبادکاروں کے ان حملوں کے دوران قابض اسرائیلی فوج نے کئی چیک پوسٹیں اور مرکزی سڑکیں بند کر دیں، جسے آبادکاروں کی نقل و حرکت کو تحفظ فراہم کرنے اور فلسطینی شہریوں کے خلاف حملوں میں سہولت کاری قرار دیا جا رہا ہے۔