رام اللہ -(روزنامہ قدس ـ آنلائن خبر رساں ادارہ) پیر کے روز مقبوضہ مغربی کنارے کے وسطی شہر رام الله کے مشرق میں واقع قصبہ دیر جریر پر یہودی آباد کاروں کے حملے اور قابض اسرائیلی فوج کی فائرنگ کے نتیجے میں دو شہری شہید ہو گئے ہیں۔
وزارت صحت نے اعلان کیا ہے کہ قابض فوج کی فائرنگ سے رام الله کے مشرق میں واقع قصبہ دیر جریر میں 52 سالہ عودہ عبد الرحيم عودہ فراخنہ اور26 سالہ أحمد عادل رشيد أبو مخو جام شہادت نوش کر گئے ہیں۔
قصبے پر یہودی آباد کاروں کے حملے کے نتیجے میں تین شہری شدید زخمی بھی ہوئے ہیں۔
مقامی ذرائع کے مطابق یہودی آباد کاروں نے قابض فوج کی حفاظت میں قصبے پر دھاوا بولا اور شہریوں پر حملہ کیا۔
ہلال احمر سوسائٹی نے بتایا کہ اس کے عملے نے ابتدائی طور پر پیٹ میں لگنے والے ایک شدید زخم کا علاج کیا، جو یہودی آباد کاروں کے حملے کے نتیجے میں لگا تھا، اور زخمی کو سلواڈ ایمبولنس عملے کے ذریعے علاج کے لیے ہسپتال منتقل کیا گیا۔
بعد میں سوسائٹی نے اعلان کیا کہ اس کے عملے نے دو دیگر زخمیوں کو بھی ہسپتال منتقل کرنے کی کوشش کی گئی جب کہ ایک ۵۵ سالہ شہری بھی تشویشناک ہونے کے ناطے ہسپتال منتقلی کے دوران دل کے مقام پر سی پی آر (زندگی بحال کرنے کی کوشش) کی گئی۔
اسی ضمن میں، مقامی ذرائع نے بتایا کہ قابض فوج نے ایک ایسے ایمبولنس کو بھی گولیوں کا نشانہ بنایا جو ایک زخمی کو ہسپتال منتقل کر رہی تھی۔