سید حسن نصر اللہ شہید کی جب بھی بات کی جائے گی یقینا فلسطین کا ذکر آئے گا۔ سید حسن نصر اللہ نے امت کے ایک عظیم کاز کی خاطر اپنی جان قربان کی ہے۔دنیا کو بتایا ہے کہ ہم فلسطین کی حمایت صرف زبانی اور سیاسی بنیادوں پر نہیں کرتے بلکہ ضرورت پڑنے پر ہم اپنا گھر بار اور اپنی جان تک قربان کرتے ہیں۔
تحریر: ڈاکٹر صابر ابو مریم
سیکرٹری جنرل فلسطین فائونڈیشن پاکستان
(روزنامہ قدس ـ آنلائن خبر رساں ادارہ) سید حسن نصر اللہ شہید کی جب بھی بات کی جائے گی یقینا فلسطین کا ذکر آئے گا۔ سید حسن نصر اللہ نے امت کے ایک عظیم کاز کی خاطر اپنی جان قربان کی ہے۔دنیا کو بتایا ہے کہ ہم فلسطین کی حمایت صرف زبانی اور سیاسی بنیادوں پر نہیں کرتے بلکہ ضرورت پڑنے پر ہم اپنا گھر بار اور اپنی جان تک قربان کرتے ہیں۔ شہید حسن نصر اللہ دنیا کے ان چند افراد میں شمار ہوتے ہیں کہ جنہوںنے نہ صرف خود فلسطین کاز کے لئے اپنی جان قربان ک بلکہ اپنے جواں سال بیٹے ہادی کی قربانی بھی پیش کی ۔ تاریخ گوا ہے کہ جب نوجوان ہادی شہید ہوا اور اس کے جنازے پر ایک باپ یعنی سید حسن نصر اللہ پہنچے تو ان کے ماتھے پر کوئی شکم اور خم نہ تھا ۔ بلکہ ان کی پیشانی اللہ کی حمد و ثنا اور شکر کا نغمہ سنا رہی تھی۔ تاریخ میں شہید حسن نصر اللہ جیسے کردار ڈھونڈنے سے بھی نہیں ملتے ۔اسی لئے جب ہم شہید حسن نصر اللہ کی بات کرتے ہیں تو ہم کہتے ہیں کہ وہ ایک امت تھے اور ایک امت ہیں۔وہ اللہ کے وعدوں کے مطابق زندہ ہیں اور اللہ سے رزق پاتے ہیں۔
حزب اللہ کے سیکرٹری جنرل شہید سید حسن نصر اللہ کی شہادت کو دو برس کا عرصہ بیت چکا ہے، لیکن مقاومت و مزاحمت کی تاریخ میں ان کا نام اور بصیرت آج بھی اسی روشنی اور توانائی کے ساتھ موجود ہے۔ ۲۷ ستمبر ۲۰۲۴ء کا دن لبنان اور فلسطین سمیت پوری اسلامی دنیا کے لیے ایک عظیم سانحہ تھا جب صیہونی غاصب رژیم نے بیروت کے جنوبی ضاحیہ میں بلاجواز اور وحشیانہ بمباری کے ذریعے اس عظیم قائد کو ان کے دیگر ساتھیوں کے ساتھ شہید کیا۔ تاہم تاریخ اس بات کی شاہد ہے کہ شہداء کا خون اور ان کے افکار کبھی ضائع نہیں ہوتے، بلکہ یہ خون تحریکوں کی زندگی اور تسلسل کی ضمانت بنتا ہے۔آج یہی تسلسل ہمیں لبنان کے جوانوں میں، فلسطین کے جوانوں میں نظرآ رہاہے۔
سید حسن نصر اللہ کی تمام تر سیاسی اور جہادی زندگی کا محور و مرکز فلسطین اور بیت المقدس کی آزادی کا مقصد تھا۔ ۱۹۹۲ء میں حزب اللہ کی قیادت سنبھالنے کے بعد انہوں نے جس جرات اور عزیمت کے ساتھ صیہونی غاصب فوج کے خلاف مقاومت کی، اس نے خطے کے جغرافیے اور بین الاقوامی سیاسی حرکیات پر گہرے اثرات مرتب کیے۔ مئی ۲۰۰۰ء میں ان کی قیادت میں حزب اللہ نے اسرائیل کو کسی شرط کے بغیر جنوبی لبنان سے پسپائی پر مجبور کیا، جو جدید عرب اور صیہونی تاریخ میں ایک ایسا معرکہ تھا جس نے اسرائیل کی نام نہاد ناقابلِ تسخیر فوج کے غرور کو خاک میں ملا دیا۔ اس کے بعد جولائی ۲۰۰۶ء کی ۳۴ روزہ جنگ میں حزب اللہ کی شاندار کامیابی نے ثابت کر دیا کہ بصیرت، پائیداری اور ایمان کے ساتھ کی جانے والی مزاحمت کے سامنے جدید ترین طاقتیں بھی بے بس ہو جاتی ہیں۔
سید حسن نصر اللہ نے کبھی بھی مقاومت کو صرف لبنانی سرحدوں تک محدود نہیں رکھا، بلکہ ان کا موقف ہمیشہ عالمی اور علاقائی سطح پر صیہونی قبضے کے خلاف واضح اور اصولی رہا۔ انہوں نے فلسطینی عوام کے حقِ خودارادیت، حقِ بازگشت(حق واپسی) اور مسلح مقاومت کی غیر متزلزل حمایت کی۔ خواہ غاصب اسرائیل کا تسلط فلسطین پر ہو، لبنان کے شبعا فارمز پر ہو یا شام کے جولان کی پہاڑیوں پر، سید حسن نصر اللہ کا یکسر موقف تھا کہ غصب شدہ سرزمینوں کا واحد حل محض مقاومت ہے۔ اکتوبر ۲۰۲۳ء میں طوفان الاقصی کے بعد جب انہوں نے غزہ کے مظلوموں کی حمایت کے لیے شروعات کی، تو یہ ان کے اسی پختہ سیاسی و اخلاقی موقف کا عملی مظاہرہ تھا کہ عرب اور اسلامی سرزمین کا کوئی بھی حصہ یا مظلوم قوم تنہا نہیں چھوڑی جائے گی۔
سید حسن نصر اللہ ایک ذمہ دار شخصیت کا نام ہے۔ انہوںنے اکتبور 2023 میں غزہ پر شروع ہونے والی اسرائیلی جارحیت کے زور کوتوڑنے اور غاصب صیہونی دشمن کو سزا دینے کے لئے جنوبی لبنان کے ساتھ مقبوضہ فلسطین کی تقریبا 120 کلو میٹر کی سرحد پر معرکہ کا آغاز کیا ۔ اگر وہ اس معرکہ کا آغاز نہ کرتے تو شاید لبنان میں جنگ نہ ہوتی لیکن انہوںنے اس انسانی اوراسلامی اصول کے تحت کہ اگر ہمارے پاس استطاعت ہو اور ہم اس کا استعمال نہ کریں تو یقینا یہ ظلم اور گناہ ہے۔ سید حسن نصر اللہ کے نزدیک ایسا ہر گز ممکن نہیں تھا کہ غزہ میں تو معصوم بچوں پر جارحیت ہوتی رہے اور لبنان میں حزب اللہ اپنی صلاحیتوں کا اسرائیل کے خلاف استعمال نہ کرے۔ سید حسن نصر اللہ کی حکمت عملی نے فلسطین کے مظلوم عوام کو ریلیف فراہم کیا، غاصب صیہونی فوج کو بڑے پیمانہ پر نقصان اٹھانا پڑا، آج بھی شمالی فلسطین میں صیہونی آباد کاروں کی بڑی تعداد واپس آنے کے لئے اس لئے تیار نہیں کیونکہ سید حسن نصر اللہ نے قانون بنایا تھا کہ اگر فلسطینیوں کو بے گھر کیاجائے گا تو پھر صیہونی آباد کار بھی اپنے گھروں میں آرام سے نہیں رہ پائیں گے۔ سیدحسن نصر اللہ نے کہا تھا کہ اگر ہمارے ایئرپورٹ تباہ ہوں گے تو اسرائیل کے ایئرپورٹس بھی تباہ ہوں گے۔ یہ سب کچھ حقیقت میں بدلنے والی شخصیت کا نام ہی سید حسن نصر اللہ ہے۔
شہید حسن نصر اللہ کی شہاد ت کے بعدغاصب صیہونی اور مغربی میڈیا کے ذریعے حزب اللہ کے خلاف زبردست اور منظم منفی پروپیگنڈا کیا گیا کہ شاید قیادت کے خاتمے سے یہ تنظیم ختم ہو جائے گی یا اس کا تنظیمی ڈھانچہ بکھر جائے گا۔ لیکن زمینی حقائق نے ان تمام منفی افواہوں کو رد کر دیا ہے۔ حزب اللہ کی مضبوطی کسی ایک فرد کی مرہونِ منت نہیں تھی بلکہ سید حسن نصر اللہ نے ایک ایسا منظم، ادارہ جاتی اور پائیدار نظام قائم کیا جو قیادت کی غیر موجودگی میں بھی مکمل فعالیت کے ساتھ کام کر رہا ہے۔ آپریشنل اور سیاسی میدانوں میں حزب اللہ کی مسلسل کامیابیوں، نظم و ضبط اور مزاحمتی صلاحیتوں نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ یہ تنظیم ایک ایسا تناور درخت ہے جس کی جڑیں لبنانی عوام اور حق و صداقت کے اصولوں میں گہری ہیں۔آج حزب اللہ کی قیادت شیخ نعیم قاسم کے ہاتھوں میں ہے اور حزب اللہ اسی طرح میدان میں موجود ہے جس طرح سید حسن نصر اللہ کی قیادت میں موجود رہی۔
تاریخ انسانی اس سچائی پر گواہ ہے کہ نظریاتی اور اصولوں پر مبنی تحریکیں شخصیات کی شہادت یا رحلت سے ختم نہیں ہوا کرتیں۔ مقاومت ایک فکر، عقیدہ اور حق کی جنگ کا نام ہے جو کسی ایک وجود کے ساتھ شروع ہوئی اور نہ ہی کسی ایک کی شہادت پر ختم ہو سکتی ہے۔ سید عباس موسوی کی شہادت کے بعد حزب اللہ جس طرح مزید مضبوط ہو کر سامنے آئی، اسی طرح سید حسن نصر اللہ کی قربانی نے بھی مقاومت کی صفوں میں ایک نیا روح، ولولہ اور تسلسل پیدا کیا ہے۔ شہادتیں تحریکی سفر کا اختتام نہیں بلکہ نئی فتح اور بیداری کا آغاز ثابت ہوتی ہیں۔
سید حسن نصر اللہ کی شخصیت گہرے فہم، زبردست بصیرت اور عالمی و علاقائی معاملات کے باریک بینی سے تجزیے کا مظہر تھی۔ وہ صرف ایک عسکری یا سیاسی قائد نہیں تھے بلکہ ایک ایسے دانشور تھے جن کا خطبہ پوری دنیا اور بالخصوص دشمن کی سیکیورٹی پالیسیوں پر براہِ راست اثر انداز ہوتا تھا۔ ان کے سیاسی و اسٹراٹیجک تجزیے اس قدر درست اور معروضی ہوتے تھے کہ صیہونی دفاعی ماہرین اور سیاسی تجزیہ کار بھی ان کی گفتگو کے ایک ایک لفظ پر تحریریں لکھتے تھے۔ یہاں تک کہ اسرائیلی ماہرین اور نفسیات دانوں نے کئی مرتبہ علی الاعلان اعتراف کیا کہ حسن نصر اللہ کی نفسیاتی جنگ، سچائی اور زبانی وعدوں کا پاس رکھنے کی صلاحیت صیہونی حکام کے بیانات سے کہیں زیادہ مستند اور اثر انگیز ہوتی تھی۔
خلاصہ یہ ہے کہ سید حسن نصر اللہ کا قتل اور ان کے قریبی ساتھیوں کی شہادت حزب اللہ کے لیے زوال یا کمزوری کا سبب نہیں، بلکہ اس کی سچائی، استقامت اور اخلاقی و عسکری قوت کی روشن علامت ہے۔ دشمن کی یہ بھول تھی کہ وہ گراؤنڈ پر ناکامی کے بعد ہدف بنا کر قتل کی پالیسی کے ذریعے مقاومت کا سانس روک سکے گا۔ شہید کی قربانی نے حزب اللہ کے گرد عوامی اعتماد، عزت اور عالمی یکجہتی کا وہ الحاق قائم کر دیا ہے جو کسی بھی فوجی فتح سے کہیں زیادہ پائیدار ہے۔ سید حسن نصر اللہ کا نام اور ان کی جدوجہد آزادی کے خواہاں تمام مظلوموں کے لیے مشعلِ راہ ہے اور ان کا راستہ القدس کی مکمل آزادی تک پوری طاقت کے ساتھ جاری رہے گا۔
آج دو برس گزر جانے کے بعد بھی سید الشہداء المقاومہ، سید حسن نصر اللہ کی یادوں کی خوشبو اور ان کے افکار کی تابندگی ہمارے دلوں میں ویسے ہی زندہ و جاوید ہے۔27 ستمبر کا دن صرف ایک قائد کی جدائی کا دن نہیں، بلکہ عزم و استقلال، ایمان و عقیدت اور راہِ حق میں سرخرو ہونے کی ایک لازوال داستان کی تجدید کا دن ہے۔اے ہمارے عزیز سید! آپ کی پرخلوص مسکراہٹ، آپ کی للکار، آپ کی مظلوموں سے بے پناہ محبت اور بیت المقدس کی آزادی کے لیے آپ کا غیر متزلزل یقین آج بھی ہماری رگوں میں گرم لہو بن کر دوڑ رہا ہے۔ دشمن نے یہ سمجھا تھا کہ بارود کے دھوئیں میں وہ آپ کی آواز کو خاموش کر دے گا، لیکن وہ نادان یہ نہ سمجھ سکا کہ شہید کی سانسیں تاریخ کا سب سے بلند آہنگ نعرہ بن جایا کرتی ہیں۔
ہم آپ کی دوسری برسی پر بادۂ عقیدت پیش کرتے ہوئے اس عزم کا اعادہ کرتے ہیں کہ آپ کا سکھایا ہوا درسِ مقاومت، آپ کا اخلاص اور آپ کا راستہ کبھی فراموش نہیں ہوگا۔ جب تک قدس کی سرزمین پر آزادی کا سورج طلوع نہیں ہوتا اور جب تک ظالم کے ہاتھ قلم نہیں ہوتے، آپ کی فکر اور آپ کا کردار ہمارے لیے مشعلِ راہ رہے گا۔ سلام ہو آپ پر، آپ کے باوفا ساتھیوں پر، اور اس سرخ راستے پر جو آپ نے اپنے پاکیزہ خون سے منور کیا۔