• Newsletter
  • صفحہ اول
  • صفحہ اول2
پیر 21 ستمبر 2026
  • Login
Roznama Quds | روزنامہ قدس
  • صفحہ اول
  • فلسطین
  • حماس
  • غزہ
  • پی ایل او
  • صیہونیزم
  • عالمی یوم القدس
  • عالمی خبریں
  • پاکستان
  • رپورٹس
  • مقالا جات
  • مکالمہ
No Result
View All Result
  • صفحہ اول
  • فلسطین
  • حماس
  • غزہ
  • پی ایل او
  • صیہونیزم
  • عالمی یوم القدس
  • عالمی خبریں
  • پاکستان
  • رپورٹس
  • مقالا جات
  • مکالمہ
No Result
View All Result
Roznama Quds | روزنامہ قدس
No Result
View All Result
Home خاص خبریں

راس الاحمر کا مسلسل محاصرہ، قابض اسرائیل نے 47 خاندانوں کو محصور کر دیا

عاطوف اور راس الاحمر کی ویلج کونسل کے سربراہ عبد اللہ بشارات نے بتایا کہ قابض فوج گزشتہ کئی دنوں سے علاقے کے راستوں کو بند کیے ہوئے ہے اور ایک خندق کھود رہی ہے جو شہریوں اور گاڑیوں کی آمدورفت کو اندر اور باہر جانے سے روکتی ہے۔

پیر 21-09-2026
in خاص خبریں, صیہونیزم, فلسطین
0
راس الاحمر کا مسلسل محاصرہ، قابض اسرائیل نے 47 خاندانوں کو محصور کر دیا
0
SHARES
0
VIEWS

طوباس – (روزنامہ قدس ـ آنلائن خبر رساں ادارہ) قابض اسرائیلی فوج نے مسلسل ساتویں روز بھی شمالی وادی اردن میں طوباس کے جنوب مشرق میں واقع خربہ راس الاحمر پر شدید محاصرہ جاری رکھا ہوا ہے، جب اس نے علاقے کی طرف جانے والا آخری راستہ بند کر کے ایک خندق کھود دی جس نے شہریوں اور گاڑیوں کی نقل و حرکت میں رکاوٹ ڈالی، جس کے نتیجے میں 47 فلسطینی خاندان محصور ہو گئے ہیں، جبکہ پانی، چارے، زرعی اراضی اور روزگار کے ذرائع تک رسائی میں بڑھتی ہوئی مشکلات کا سامنا ہے۔

یہ اقدامات اس وقت سامنے آئے ہیں جب قابض فوج ان ’یکجہتی کارکن‘ پر سختی کر رہی ہے جو علاقے تک پہنچنے اور محصور مکینوں کو امداد فراہم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، دوسری طرف وادی اردن میں فلسطینی وجود کو خطرے میں ڈالنے والے بڑھتے ہوئے اقدامات کے فریم ورک کے اندر کھدائی، مسماری اور پانی و زراعت کے تنصیبات کو تباہ کرنے کے کام جاری ہیں۔

علاقے کو الگ تھلگ کرنے والی خندق

عاطوف اور راس الاحمر کی ویلج کونسل کے سربراہ عبد اللہ بشارات نے بتایا کہ قابض فوج گزشتہ کئی دنوں سے علاقے کے راستوں کو بند کیے ہوئے ہے اور ایک خندق کھود رہی ہے جو شہریوں اور گاڑیوں کی آمدورفت کو اندر اور باہر جانے سے روکتی ہے۔

انہوں نے واضح کیا کہ ان اقدامات نے شہریوں کی اپنی زمینوں اور املاک تک رسائی میں رکاوٹ ڈالی ہے،خاص طور پر کسانوں اور مویشی پالنے والوں کو متاثر کیا ہے، جو اپنی چراگاہوں اور مویشیوں تک پہنچنے اور اپنی بنیادی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے روزانہ کی نقل و حرکت پر انحصار کرتے ہیں۔

مقامی ذرائع کے مطابق پچھلے سات دنوں کے دوران محاصرہ اس وقت کافی حد تک شدید ہو گیا، جب قابض فوج نے اس خندق کو راس الاحمر تک پہنچنے کے لیے دستیاب آخری راستے پر کھود دیا، جو اس کی طرف جانے والے کچے راستوں کی بندش کے دو ماہ سے زیادہ عرصے کے بعد کیا گیا۔

علاقے کے ایک مکین ثائر بشارات نے بتایا کہ محاصرہ تقریباً تین ماہ قبل شدید ہونا شروع ہو گیا تھا، لیکن حالیہ دنوں میں یہ ایک زیادہ خطرناک مرحلے پر پہنچ گیا، جب آخری راستہ خندق کے ذریعے بند کر دیا گیا۔

47 خاندان تنہائی میں

راستے کی بندش نے علاقے میں رہنے والے تقریباً 47 خاندانوں کو الگ تھلگ کر دیا ہے جو بنیادی طور پر مویشی بانی اور زراعت پر انحصار کرتے ہیں، جبکہ چارہ، پانی اور بنیادی ضروریات داخل کرنے میں مشکلات کا سامنا ہے۔

مقامی ذرائع کا کہنا ہے کہ محاصرہ صرف مکینوں کی نقل و حرکت پر پابندی تک محدود نہیں رہا، بلکہ چراگاہوں اور زرعی اراضی تک پھیل گیا، کیونکہ مکینوں کو وسیع رقبوں تک رسائی سے محروم کر دیا گیا جن پر وہ مویشی چرانے کے لیے انحصار کرتے تھے۔

مقامی بیانات کے مطابق اس علاقے کی طرف سے استعمال ہونے والی چراگاہوں کا رقبہ تقریباً 360 ہزار دونم ہے، جبکہ قابض فوج کے اقدامات اور نقل و حرکت پر عائد پابندیوں کی وجہ سے اس کے تقریباً 90 فیصد حصے تک رسائی ناممکن ہو چکی ہے۔

اس طرح مویشی پالنے والوں پر دباؤ بڑھ گیا ہے، جو راستوں کی مسلسل بندش اور نقل و حرکت پر پابندیوں کے سائے میں چارہ اور پانی فراہم کرنے اور اپنے ریوڑ کی دیکھ بھال کرنے میں مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔

’یکجہتی کارکن‘ پر سختی

محاصرہ صرف علاقے کے مکینوں تک محدود نہیں رہا، کیونکہ قابض فوج نے ان غیر ملکی ’یکجہتی کارکن‘ پر بھی پابندیاں عائد کر دیں جو حالات کا جائزہ لینے اور انہیں امداد فراہم کرنے کے لیے راس الاحمر تک پہنچنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

کچھ غیر ملکی ’یکجہتی کارکن‘ اتوار کے روز علاقے میں پہنچے اور مکینوں سے ملاقات کی اور ان کے حالات کا جائزہ لیا، اس کے علاوہ انہوں نے خوارکی اشیاء اور پانی پر مشتمل امداد بھی فراہم کی۔

بشارت نے کہا کہ ’یکجہتی کارکن‘ نے اگلے ہفتے کے دوران دوبارہ واپس آنے اور قابض اسرائیل کی کنیست کے ارکان کو مکینوں کے حالات اور جن سختیوں کا انہیں سامنا ہے، کا میدانی جائزہ لینے کے لیے ساتھ لانے کے لیے کام کرنے کا وعدہ کیا۔

یہ سرگرمیاں علاقے پر مسلط کردہ تنہائی کو توڑنے کی کوشش کے فریم ورک کے اندر سامنے آ رہے ہیں، جب کہ امداد اور بنیادی ضروریات کا وہاں تک پہنچنا مشکل ہے۔

کھدائی، مسماری اور نشانہ بننے والے پانی کے ذرائع

راس الاحمر کا محاصرہ مہینوں سے جاری اقدامات سے الگ تھلگ نہیں ہے، کیونکہ یہ علاقہ اغوار سے گزرنے والی ایک عسکری سڑک کی تعمیر کے لیے بڑے پیمانے پر کھدائی کے عمل کا مشاہدہ کر رہا ہے۔

مقامی اعداد و شمار کے مطابق منصوبہ بند سڑک تقریباً 22 کلومیٹر طویل ہے اور اس کی چوڑائی 50 میٹر تک ہے، جو طوباس کے جنوب مشرق میں عین شبلی چیک پوسٹ کے علاقے سے لے کر شہر کے مشرق میں تیاسیر چیک پوسٹ تک جاتی ہے، اور عاطوف اور راس الاحمر کے سہل کے حصوں سے گزرتی ہے۔

کھدائی کے کاموں کے ساتھ ساتھ پانی کے کنوؤں اور زرعی گرین ہاؤسز کی تباہی اور آبپاشی کے نظام اور پانی کی نقل و حمل کی لائنوں کو نقصان پہنچایا گیا، جس نے مکینوں کے روزگار کے ذرائع اور زراعت و مویشی بانی کی ان کی صلاحیت کو براہ راست نقصان پہنچایا۔

قابض فوج نے ستمبر کے آغاز میں راس الاحمر میں دو خاندانوں سے تعلق رکھنے والے رہائشی تنصیبات اور مویشیوں کے باڑوں کو مسمار کر دیا، جو مسلسل مسماری اور کھدائی کے کارروائیوں کے سیاق و سباق میں ہے۔

گذشتہ جولائی کے دوران قابض فوج نے راس الاحمر میں تین آرٹیزین کنوؤں کو پاٹ دیا، جبکہ کھدائی کے کاموں کے نتیجے میں پانی کے دیگر ذرائع بھی نقصان کا شکار ہوئے۔

گرفتاریاں اور دھمکیاں

مکینوں اور مویشی پالنے والوں پر حملوں میں بھی اضافہ ہوا ہے، کیونکہ قابض فوج نے ہفتے کے روز تین فلسطینیوں کو حراست میں لے لیا جو علاقے میں اپنے مویشی چرا رہے تھےاور راس الاحمر میں موجود ہر شخص کو گرفتار کرنے کی دھمکی دی۔

علاقے نے گزشتہ مدت کے دوران یہودی آباد کاروں کے حملوں کا بھی مشاہدہ کیا، جن میں وہ افراد بھی شامل تھے جنہوں نے قابض اسرائیلی عسکری یونیفارم پہن رکھی تھی، جن میں فلسطینی گاڑیوں کو حراست میں لینا، رہائشی اور زرعی تنصیبات کو مسمار کرنا اور پانی کی نلکیاں کاٹنا شامل ہے۔

گذشتہ اگست کے دوران پانی کی مرکزی ترسیلی لائن کو نقصان پہنچا، جس کے نتیجے میں مویشی پالنے والے تقریباً تیس خاندانوں کا پانی منقطع ہو گیا، اس کے علاوہ زرعی اراضی کے بڑے رقبوں کے لیے پانی کی سپلائی بھی متاثر ہوئی۔

Tags: IsraeliArmyIsraeliOccupationIsraeliSiegePalestinianCiviliansPalestinianFamiliesRasAlAhmarwestbank
ShareTweetSendSend

ٹوئیٹر پر فالو کریں

Follow @roznamaquds Tweets by roznamaquds

© 2019 Roznama Quds Developed By Team Roznama Quds.

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In
No Result
View All Result
  • Newsletter
  • صفحہ اول
  • صفحہ اول2

© 2019 Roznama Quds Developed By Team Roznama Quds.