غزہ – (روزنامہ قدس ـ آنلائن خبر رساں ادارہ) غزہ کی پٹی کے جنوبی شہر خان یونس میں 50 فلسطینیوں پر مشتمل 15واں قافلہ پہنچ گیا ہے، یہ ہم وطن رفح بارڈر کے ذریعے واپس لوٹے ہیں جسے حال ہی میں محدود نقل و حرکت کے لیے دوبارہ کھولا گیا ہے۔
وطن واپسی کا یہ سفر طے کرنے والے مسافر ناصر ہسپتال میں داخل کیے گئے جہاں طویل جدائی کے بعد اپنے اہل خانہ اور رشتہ داروں سے ملاقات کے دوران انتہائی جذباتی اور رقت آمیز مناظر دیکھنے کو ملے۔
کئی واپس آنے والوں نے بتایا کہ مصرکی جانب سے گزرنے کا عمل خوش اسلوبی سے مکمل ہوا، تاہم انہیں سرحد پر غاصب اسرائیلی فوج کی جانب سے گھنٹوں انتظار اور کڑی تفتیش و تحقیقات کا سامنا کرنا پڑا۔
انتہائی کٹھن اور طویل سفر کے باوجود فلسطینیوں نے غزہ واپسی اور اپنے پیاروں سے ملنے پر بے پناہ خوشی کا اظہار کیا اور تمام تر چیلنجز کے باوجود اپنی سرزمین سے جڑے رہنے کے عزم کا اعادہ کیا۔
سرکاری میڈیا آفس کے اعداد و شمار کے مطابق بیرون ملک موجود تقریباً 80 ہزار فلسطینیوں نے غزہ واپسی کے لیے اپنے نام درج کروائے ہیں، مبصرین کا خیال ہے کہ فلسطینیوں کا یہ غیر متزلزل عزم غاصب اسرائیل کے فیصلہ سازوں کے حساب کتاب کو الجھا رہا ہے جنہوں نے بارہا غزہ پٹی کو اس کے باشندوں سے خالی کرنے کے ارادوں کا اظہار کیا ہے۔
اعداد و شمار یہ بھی بتاتے ہیں کہ 2 سے 15 فروری کے درمیان رفح کراسنگ سے گزرنے والوں کی تعداد کے حوالے سے غاصب حکام کی پابندی کی شرح 29 فیصد سے زیادہ نہیں رہی، کیونکہ تقریباً 2800ء میں سے صرف 811 مسافر ہی دونوں طرف سے گزرنے میں کامیاب ہو سکے۔
فلسطینی تخمینوں کے مطابق نظام صحت کی مکمل تباہی کے باعث 22 ہزار سے زائد زخمی اور بیمار ایسے ہیں جنہیں علاج کے لیے فوری طور پر غزہ پٹی سے باہر منتقل کرنے کی ضرورت ہے۔
جنگ سے پہلے رفح بارڈر پر روزانہ سینکڑوں مسافروں کی معمول کی آمد و رفت غاصب اسرائیل کی براہ راست مداخلت کے بغیر جاری رہتی تھی، لیکن جنگ کے آغاز کے ساتھ ہی یہ طریقہ کار معطل ہو کر رہ گیا ہے۔
واضح رہے کہ امریکی سرپرستی میں غاصب اسرائیل نے سات اکتوبر سنہ 2023ء سے غزہ پٹی پر ایک وسیع تر جنگ شروع کی تھی جو اب تقریباً دو سال سے جاری ہے، اس وحشیانہ نسل کشی کے نتیجے میں اب تک 72 ہزار سے زائد فلسطینی شہید اور 1 لاکھ 71 ہزار سے زائد زخمی ہو چکے ہیں جن میں اکثریت خواتین اور بچوں کی ہے، جبکہ شہری انفراسٹرکچر کا تقریباً 90 فیصد حصہ مکمل تباہ کیا جا چکا ہے۔