(روزنامہ قدس ـ آنلائن خبر رساں ادارہ) گذشتہ جمعہ امریکی وزارتِ دفاع نے ایک کارروائی میں فوجی اخبار "اسٹارز اینڈ اسٹرائپس” کے ایڈیٹر اور دیگر اعلیٰ عہدیداران کو ملازمت سے برطرف کر دیا۔ یہ اقدام اس اخبار کی جانب سے طیارہ بردار بحری جہاز "یو ایس ایس ابراہام لنکن” کے ملاحوں میں جسمانی و ذہنی بحران اور ان کی جانب سے خودکشی کے اقدامات سے متعلق رپورٹس شائع کیے جانے کے بعد کیا گیا۔ امریکہ کے نیشنل پریس کلب (National Press Club) نے اخبار کے ایڈیٹر ایرک سلاوِن کی برطرفی پر احتجاج کرتے ہوئے اسے پینٹاگون کی جانب سے ادارتی اور میڈیا کی آزادی میں مداخلت قرار دیا ہے۔ نیشنل پریس کلب واشنگٹن ڈی سی میں قائم ایک غیر منافع بخش پیشہ ورانہ ادارہ ہے، جو 1908ء سے کام کر رہا ہے۔ اس کا بنیادی مقصد صحافیوں، آزادیٔ صحافت اور معلومات تک رسائی کا دفاع کرنا ہے۔ یہ امریکہ میں اہم تقاریر، پریس کانفرنسوں، مباحثوں اور میڈیا سے متعلق اہم تقریبات کے انعقاد کا مرکز بھی ہے۔
نیشنل پریس کلب نے امریکی وزارتِ دفاع کی جانب سے ایرک سلاوِن کی برطرفی کو "پینٹاگون کی جانب سے فوج سے متعلق خبروں کی کوریج کا طریقہ خود طے کرنے کی ایک اور ڈھٹائی پر مبنی کوشش” قرار دیتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ اس فیصلے کو فوری طور پر واپس لیا جائے۔ کلب نے ایک ایڈیٹر کو اس وقت برطرف کیے جانے کو، جب اس نے اپنی نیوز روم کی ادارتی آزادی کا کھلے عام دفاع کیا تھا، "انتہائی تشویش ناک‘” قرار دیا۔ کلب نے خبردار کیا کہ یہ معاملہ تمام صحافیوں کے ساتھ ساتھ امریکی فوج کے ان تمام اہلکاروں کے لیے بھی باعثِ تشویش ہونا چاہیئے، جو آزادانہ خبروں پر انحصار کرتے ہیں۔ نیشنل پریس کلب کے صدر مارک شوف جونیئر نے اپنے بیان میں کہا کہ یہ اقدام ایک بنیادی اصول پر حملہ ہے۔ان کے مطابق "صحافیوں کو خوف کے بغیر اور آزادانہ طور پر خبریں کور کرنے کے قابل ہونا چاہیئے، خاص طور پر جب وہ حکومتی عہدیداروں کے بارے میں رپورٹنگ کر رہے ہوں۔ پینٹاگون کو ایک مرتبہ پھر اس اصول کی توثیق کرنی چاہیئے اور واضح کرنا چاہیئے کہ "اسٹارز اینڈ اسٹرائپس” کے صحافیوں کو اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داریاں ادا کرنے کی وجہ سے سزا نہیں دی جائے گی۔”
اس اخبار کے ایڈیٹر کی برطرفی سے کچھ ہی عرصہ قبل میکس لیڈرر، جو "اسٹارز اینڈ اسٹرائپس” کے ناشر تھے، انہوں نے اپنے عہدے سے استعفیٰ دینے کا اعلان کیا تھا۔ انہوں نے اپنے استعفے کے بیان میں واضح کیا تھا کہ میڈیا کے مشن کے بارے میں ان کی اقدار اور تصور "بنیادی نوعیت کے کئی پہلوؤں میں وزارتِ دفاع کی قیادت کے موجودہ راستے اور طرزِ عمل سے مختلف ہیں۔” امریکی وزارتِ دفاع نے بھی اسی روز، یعنی جمعہ کو، ان کے ساتھ تعاون ختم کرنے کا نوٹس جاری کر دیا۔ نیشنل پریس کلب نے اس معاملے کی جانب اشارہ کرتے ہوئے بتایا کہ یہ تشویش ناک سلسلہ اس وقت شروع ہوا، جب رواں سال اپریل میں اس میڈیا ادارے کے آزاد انسپکٹر اور نگران کو بھی برطرف کر دیا گیا۔ یہ عہدہ امریکی کانگریس نے قائم کیا تھا اور اس کی ذمہ داری اخبار کی آزادانہ نگرانی، ادارتی سالمیت اور ادارتی آزادی کا تحفظ کرنا تھی۔
اس سے قبل مارچ میں بھی ایک یادداشت جاری کی گئی تھی، جس میں اخبار میں شائع ہونے والے مواد پر پابندیاں عائد کی گئی تھیں اور نیوز روم پر پینٹاگون کی نگرانی میں اضافہ کر دیا گیا تھا۔ نیشنل پریس کلب کے بیان میں کہا گیا ہے کہ اسٹارز اینڈ اسٹرائپس گذشتہ 150 سال سے زیادہ عرصے سے ایک منفرد اور انتہائی اہم کردار ادا کرتا آ رہا ہے۔ بیان کے مطابق پینٹاگون کے سربراہ کی جانب سے اخبار کے ایڈیٹر کو برطرف کرنے سے یہ تاثر پیدا ہوتا ہے کہ ان کے نزدیک اس میڈیا ادارے کا نیوز روم ایک آزاد میڈیا کا دفتر نہیں ہونا چاہیئے، جس کی رپورٹنگ امریکی فوجیوں کے مفادات کے لیے ہو، بلکہ اسے ایک ایسے ترجمان میں تبدیل ہو جانا چاہیئے، جو صرف پینٹاگون کے اعلیٰ حکام کے مؤقف اور بیانیے کو دہراتا رہے۔