مقبوضہ بیت المقدس – (روزنامہ قدس ـ آنلائن خبر رساں ادارہ) قابض اسرائیلی فوج نے اتوار کی شام مقبوضہ بیت المقدس کے شمال میں واقع فلسطینی پناہ گزینوں کے قلندیا کیمپ پر دھاوا بول کر فائرنگ کی جس کے نتیجے میں ایک فلسطینی نو عمر لڑکا زخمی ہو گیا، جبکہ ایمبولینس عملے کو بھی اس تک پہنچنے سے سختی سے روک دیا گیا۔
فلسطینی ہلال احمر سوسائٹی نے اعلان کیا کہ قابض فوج نے قلندیا کیمپ کے اندر چھاپے کے دوران ان کے عملے کو زخمی تک پہنچنے میں رکاوٹ ڈالی، جس کی وجہ سے وہ اسے بروقت ضروری طبی امداد فراہم کرنے سے قاصر رہے۔
مقامی ذرائع نے بتایا کہ قابض فوج نے بھاری فوجی کمک کے ساتھ کیمپ پر دھاوا بولا اور اندھا دھند گولیاں چلائیں، جس کی زد میں آ کر ایک نو عمر لڑکا زخمی ہو گیا، جبکہ تاحال اس کی چوٹ کی نوعیت کے بارے میں کوئی حتمی اطلاع نہیں مل سکی ہے۔
ذرائع نے مزید بتایا کہ قابض فوج کے غنڈے کیمپ کے مختلف محلوں میں پھیل گئے، شہریوں کی گاڑیوں کو روکا اور ابھی حال ہی میں قابض صہیونی عقوبت خانوں میں 25 سال قید کا طویل عرصہ گزار کر آج ہی رہا ہونے والے اسیر احمد خضر کے گھر پر بھی دھاوا بولا۔
قابض فوجیوں نے قلندیا کیمپ کے ساتھ متصل انسٹی ٹیوٹ سٹریٹ میں بڑے پیمانے پر ساؤنڈ بم اور آنسو گیس کے گولے برسائے، جس کے نتیجے میں انروا کے قلندیا ووکیشنل ٹریننگ انسٹی ٹیوٹ کے آس پاس کے درختوں میں آگ بھڑک اٹھی۔
قلندیا کیمپ کو روزانہ کی بنیاد پر قابض فوج کی وحشیانہ یلغار کا سامنا کرنا پڑتا ہے، جس کے دوران گولیاں برسانا، ساؤنڈ اور گیس بم پھینکنا، گھروں میں گھسنا، شہریوں کو گرفتار کرنا اور مکینوں پر تشدد کرنا ان کا معمول بن چکا ہے۔