مقبوضہ بیت المقدس – (روزنامہ قدس ـ آنلائن خبر رساں ادارہ) قابض اسرائیلی افواج نے مقبوضہ بیت المقدس کے رہائشی ایک مظلوم فلسطینی جمعہ محمد قراعین کو مسجد اقصیٰ مبارک کے جنوب میں واقع قصبہ سلوان کے محلہ البستان میں اپنا گھر خود اپنے ہاتھوں سے مسمار کرنے پر مجبور کر دیا۔
جمعه محمد قراعین نے اپنے آشیانے کو اپنے ہی ہاتھوں سے صرف اس لیے مسمار کیا تاکہ وہ ان بھاری اور ظالمانہ جرمانوں سے بچ سکیں جو قابض دشمن کی بلدیہ اس صورت میں عائد کرتی ہے اگر اس کا اپنا عملہ مسماری کی یہ سفاکانہ کارروائی انجام دیتا۔
یہ مظلوم فلسطینی گھر دو کمروں اور ایک غسل خانے پر مشتمل تھا جو تقریباً پانچ سو مربع میٹر کے رقبے پر پھیلی ہوئی زمین کے ایک ٹکڑے پر واقع تھا، اس کے ساتھ ہی قراعین کو زبردستی اس بات پر بھی مجبور کیا گیا کہ وہ وہاں لگے ہوئے درختوں کو جڑ سے اکھاڑ پھینکیں اور جگہ کے ارد گرد لگی ہوئی لوہے کی چادریں بھی ہٹا دیں۔
مقبوضہ بیت المقدس کے فلسطینی شہری قابض دشمن کے جابرانہ احکامات کے تحت اپنے گھروں کو خود مسمار کرنے پر مجبور ہو جاتے ہیں کیونکہ انہیں خوف ہوتا ہے کہ قابض حکام ان پر بھاری جرمانے عائد کر دیں گے جن میں خود اس تباہی اور بربادی کے عمل پر آنے والی لاگت بھی شامل ہوتی ہے۔