مقبوضہ بیت المقدس – (روزنامہ قدس ـ آنلائن خبر رساں ادارہ) فلسطین میں اعلیٰ فتویٰ کونسل نے اذان پر پابندی کو قانونی حیثیت دینے کے مقصد سے تیار کردہ نام نہاد اسرائیلی قانون کے مضمرات کے بارے میں خبردار کیا ہے۔ کونسل نے زور دے کر کہا ہے کہ اذان ایک ثابت شدہ اسلامی شعیرہ ہے جسے کسی بھی فریق کو مسخ کرنے یا محدود کرنے کا حق نہیں ہے۔
کونسل نے ایک بیان میں کہا کہ یہ رجحانات مساجد اور عبادت گاہوں پر بڑھتے ہوئے حملوں کے سائے میں سامنے آئے ہیں۔ اس نے یہودی آباد کاروں کے ہاتھوں جلجلیہ کی بڑی مسجد اور مزارع النوبانی گاؤں کی ایک اور مسجد کو نذر آتش کیے جانے کی طرف اشارہ کیا۔
کونسل نے واضح کیا کہ یہ حملے فلسطینی مساجد اور عبادت گاہوں کے خلاف مسلسل خلاف ورزیوں کا ایک حصہ ہیں، جن میں نذر آتش کرنا، بے حرمتی اور مقدس مقامات پر حملہ شامل ہے۔
کونسل نے اس بات پر زور دیا کہ عبادت گاہوں کے خلاف قابض اسرائیل کی کارروائیاں مذہبی آزادی اور عبادات کی ادائیگی کے حق کی سنگین خلاف ورزی ہیں، جن کی ضمانت آسمانی شریعتوں اور بین الاقوامی قوانین میں دی گئی ہے۔
اسی تناظر میں کونسل نے مسجد اقصیٰ اور اس کے گردونواح کے خلاف جاری خلاف ورزیوں کی مذمت کی، جس میں یہودی آباد کاروں کی بار بار یلغار، اجتماعی تلمودی رسومات کی ادائیگی اور احاطے کے اندر سجدہ ریزی شامل ہے۔
کونسل نے نشاندہی کی کہ یہ اقدامات مسلمانوں کے جذبات کو بھڑکانے اور مسجد اقصیٰ کے دفاع میں موجود فلسطینیوں کے لیے چیلنج ہیں، ساتھ ہی اس نے مقبوضہ بیت المقدس کی صورتحال پر اس کے خطرناک اثرات سے خبردار کیا۔
کونسل نے زور دے کر کہا کہ ان اقدامات کا سب سے خطرناک پہلو مسجد اقصیٰ پر قابض اسرائیل کی حاکمیت مسلط کرنے کی کوشش ہے، خاص طور پر مسلسل خلاف ورزیوں کے حوالے سے عالمی خاموشی اور بے رخی کے ماحول میں۔
کونسل نے عربوں اور مسلمانوں سے دوبارہ اپیل کی کہ وہ مقبوضہ بیت المقدس اور مسجد اقصیٰ کی حمایت کریں، فلسطینیوں کے شانہ بشانہ کھڑے ہوں اور ان کے وجود اور مقدس مقامات کو نشانہ بنانے والے حملوں کے خلاف ان کی استقامت کو مضبوط بنائیں۔ انہوں نے ان لوگوں سے بھی اپیل کی جو مسجد اقصیٰ تک پہنچنے کی استطاعت رکھتے ہیں کہ وہ اسے آباد کریں، اس کی طرف سفر کریں اور اس کے تحفظ میں اپنا کردار ادا کریں۔
دوسری جانب کونسل نے مقبوضہ بیت المقدس کے محلہ باب السلسلہ میں 15 سے 20 تاریخی جائیدادوں پر قبضہ کرنے کے قابض اسرائیلی حکام کے منصوبے کی منظوری کی شدید مذمت کی۔
کونسل نے واضح کیا کہ نشانہ بنائی جانے والی جائیدادیں مقدسی خاندانوں کی ملکیت ہیں اور ان میں ایوبی، مملوکی اور عثمانی دور کی اسلامی عمارتیں اور اوقاف شامل ہیں۔
کونسل نے اس منصوبے کو مسجد اقصیٰ کے پہلو میں یہودی آباد کاری کے سب سے خطرناک اور بڑے منصوبوں میں سے ایک قرار دیا اور کہا کہ یہ مسجد کے گردونواح کو فلسطینی باشندوں سے خالی کرنے اور مقبوضہ بیت المقدس کو مکمل طور پر یہودی بنانے کی پالیسی کا حصہ ہے۔
کونسل نے ان اقدامات کے فلسطینیوں اور ان کی املاک پر یہودی آباد کاروں کے بڑھتے ہوئے حملوں کے ساتھ مماثلت کی طرف بھی اشارہ کیا۔ بیان کے مطابق یہ خلاف ورزیوں کی سطح خطرناک حد تک پہنچ چکی ہے اور یہ سب قابض اسرائیل کی افواج اور پولیس کی سرپرستی میں کیا جا رہا ہے۔