اسلام آباد – (روزنامہ قدس ـ آنلائن خبر رساں ادارہ) پاکستانی سیاسی ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ اسلام آباد امریکہ سے اس بات کی ٹھوس ضمانتیں چاہتا ہے کہ بین الاقوامی استحکام فورس کے فریم ورک کے تحت غزہ بھیجی جانے والی ممکنہ پاکستانی افواج صرف قیامِ امن کے مشن تک محدود رہیں گی۔ پاکستان نے واضح کیا ہے کہ اس کی افواج فلسطینی مزاحمت کو غیر مسلح کرنے کے کسی بھی عمل کا حصہ نہیں بنیں گی۔
خبر رساں ادارے رائیٹرز نے وزیراعظم شہباز شریف کے قریبی ذرائع کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ ہم فوج بھیجنے کے لیے تیار ہیں، لیکن یہ واضح کر دیں کہ ہماری افواج غزہ میں صرف امن مشن کا حصہ ہو سکتی ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہم کسی اور کردار، جیسے حماس کے عسکری ونگ کو غیر مسلح کرنے کی کارروائیوں میں شریک نہیں ہوں گے، یہ بات خارج از امکان ہے۔
وزیراعظم شہباز شریف کل بروز جمعرات واشنطن میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے شروع کیے گئے امن کونسل کے پہلے باضابطہ اجلاس میں کم از کم 20 دیگر ممالک کے وفود کے ہمراہ شرکت کریں گے۔ توقع ہے کہ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ غزہ کی بحالی کے لیے اربوں ڈالر کے منصوبے کا اعلان کریں گے اور فلسطینی علاقے (غزہ کی پٹی) کے لیے اقوام متحدہ کے مینڈیٹ کے تحت استحکام فورس کے قیام کی تفصیلات پیش کریں گے۔
تین حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ شہباز شریف اپنے دورہ امریکہ کے دوران بین الاقوامی استحکام فورس کے مقاصد، اس کی انتظامی اتھارٹی اور کمانڈ کے ڈھانچے کے بارے میں وضاحت طلب کریں گے تاکہ فوج کی تعیناتی سے متعلق حتمی فیصلہ کیا جا سکے۔
غزہ کے حوالے سے ڈونلڈ ٹرمپ کے 20 نکاتی منصوبے میں ایک ایسی فورس کی تشکیل کی تجویز دی گئی ہے جو اسلامی ممالک پر مشتمل ہو اور تباہ حال فلسطینی علاقے میں بحالی و معاشی استحکام کے عبوری دور کی نگرانی کرے۔ امریکہ اس فورس میں شمولیت کے لیے اسلام آباد پر دباؤ ڈال رہا ہے۔ تجزیہ نگاروں کا ماننا ہے کہ پاکستان کی شمولیت سے اس کثیر القومی فورس کو ایک ایسی تجربہ کار فوج کی مدد حاصل ہو جائے گی جو روایتی جنگوں اور شورش پسندی سے نمٹنے کی بھرپور صلاحیت رکھتی ہے۔ ذرائع کے مطابق ہم کسی بھی وقت چند ہزار فوجی بھیج سکتے ہیں، لیکن ہمیں پہلے ان کے مخصوص کردار کے بارے میں جاننے کی ضرورت ہے۔
دو ذرائع نے رائیٹرز کو بتایا کہ وزیراعظم شہباز شریف، جنہوں نے رواں سال کے آغاز میں ڈاووس اور گذشتہ سال کے آخر میں وائٹ ہاؤس میں ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات کی تھی، ممکنہ طور پر امن کونسل کے اجلاس کے موقع پر یا اگلے روز دوبارہ امریکی صدر سے ملاقات کریں گے۔
واشنگٹن میں آج جمعرات امن کونسل کا پہلا افتتاحی اجلاس منعقد ہونے جا رہا ہے جس کا اعلان ڈونلڈ ٹرمپ نے کیا تھا۔ اس اقدام نے عالمی سطح پر ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے؛ حامی اسے تنازعات کے حل کا نیا فریم ورک قرار دے رہے ہیں جبکہ ناقدین کا کہنا ہے کہ یہ اقوام متحدہ کے کردار کو کمزور کرنے اور عالمی معاملات میں یکطرفہ رسائی کو فروغ دینے کی کوشش ہے۔