اسلام آباد – (روزنامہ قدس ـ آنلائن خبر رساں ادارہ) پاکستان کے وزیر دفاع نے کہا ہے کہ صدر ٹرمپ کا پیش کردہ ابراہم معاہدہ قابل قبول نہیں کیوں کہ یہ ہمارے بنیادی نظریات سے متصادم ہے۔
پاکستان کے وزیر دفاع خواجہ آصف نے پیر کو کہا کہ صدر ٹرمپ کی جانب سے پیش کیا گیا ابراہم معاہدہ قابل قبول نہیں کیوں کہ ’یہ ہمارے بنیادی نظریات سے متصادم ہے۔‘
نجی نیوز چینل ’سما‘ سے بات کرتے ہوئے خواجہ آصف نے کہا ’میرا نہیں خیال کہ ہمیں کسی ایسے معاہدے میں شامل ہوں گے جو ہمارے بنیادی نظریات سے متصادم ہوں۔
’اس وقت ہم نے کوئی اقدام لیا ہے نہ کسی نے ہمیں (باضابطہ اس میں شامل ہونے کو) کہا ہے۔ اس وقت بھی غزہ (فائر بندی) معاہدے کی خلاف ورزی ہو رہی ہے تو ان لوگوں کے ساتھ کیسے بیٹھا جا سکتا ہے جن پر ایک دن کا بھی اعتبار نہیں کیا جا سکتا۔‘
انہوں نے مزید کہا ’ہمارا واضح موقف ہے کہ یہ (ابراہم معاہدہ) ہمارے لیے قابل قبول نہیں اور ہم واحد ملک ہیں جس کے پاسپورٹ پر اسرائیل کا نام ہی شامل نہیں۔‘
خواجہ آصف کا یہ بیان صدر ٹرمپ کی سوشل میڈٰیا پوسٹ کے بعد سامنے آیا جس میں انہوں نے کہا تھا کہ پاکستان، سعودی عرب، قطر، ترکی، مصر، اردن سمت دیگر مسلم ممالک ایران کے ساتھ معاہدے کے بعد ابراہم معاہدے میں شامل ہوں۔