فلسطین پالیسی پر حکومت ، دفتر خارجہ اور ماہرین کا نظریاتی انحراف
گذشتہ دنوں پاکستان کے نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے اقوام متحد ہ کے ایک اجلاس میں تقریر کی اور کہا کہ پاکستان ابراہیمی معاہدے کو تسلیم نہیں کرے گا۔
تحریر: ڈاکٹر صابر ابو مریم
سیکرٹری جنرل فلسطین فائونڈیشن پاکستان
(روزنامہ قدس ـ آنلائن خبر رساں ادارہ) گذشتہ دنوں پاکستان کے نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے اقوام متحد ہ کے ایک اجلاس میں تقریر کی اور کہا کہ پاکستان ابراہیمی معاہدے کو تسلیم نہیں کرے گا۔ اس کے ساتھ ساتھ انہوںنے یہ بھی کہا کہ پاکستان کا تاریخی موقف ہے کہ سنہ 1967کی سرحدوں تک اسرائیل پیچھے چلا جائے اور فلسطین کی آزاد ریاست قائم کی جائے جس کا دارلحکومت القدس ہو ۔ اسکے ساتھ ساتھ انہوںنے گذشتہ دنوں امریکی صدر ٹرمپ کی جانب سے پاکستان اور دیگر مسلمان ممالک کے حوالے سے ابراہیمی معاہدے کو تسلیم کرنے کے بیان کے حوالے سے کہا کہ پاکستان ابراہیمی معاہدے کا حصہ نہیں بنے گا۔انہوںنے فلسطینی عوام کے حق خود ارادیت پر بھی زور دیا۔
اقوامِ متحدہ کے حالیہ اعلیٰ سطحی اجلاس میں پاکستان کے نائب وزیرِ اعظم اور وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار صاحب کا ابراہیمی معاہدوں کو واضح طور پر مسترد کرنا اور فلسطینیوں کے حقِ خودارادیت کی وکالت کرنا بلاشبہ ایک جرات مندانہ اور قابلِ تحسین قدم ہے۔ بین الاقوامی فورم پر صیہونی عزائم اور فلسطینیوں کے حقوق کو پسِ پشت ڈالنے والے یکطرفہ معاہدوں کی کھل کر مذمت کرنا پاکستان کے روایتی اصولی مؤقف کی عکاسی کرتا ہے، جس پر وہ مبارکباد کے مستحق ہیں۔تاہم، اس اہم سفارتی پیش رفت کے ساتھ ہی چند ایسے بنیادی اور کلیدی نکات ہیں جن کی طرف وزیرِ خارجہ سمیت مقتدر حلقوں کی توجہ مبذول کروانا وقت کا اہم ترین تقاضا ہے۔
وزیر خارجہ نے خطاب کے دوران 1967ء کی سرحدوں کے تحت ایک آزاد فلسطینی ریاست کے قیام اور دو ریاستی حل پر اصرار کیا۔ یہاں یہ بات سمجھنا انتہائی ضروری ہے کہ دو ریاستی حل کو تسلیم کرنا، درحقیقت بانی پاکستان قائدِ اعظم محمد علی جناح کی وضع کردہ تاریخی اور غیر لچکدار پالیسی سے انحراف کے زمرے میں آتا ہے۔
قائدِ اعظم نے واضح طور پر اسرائیل کو ایک غاصب اور ناجائز ریاست قرار دیا تھا اور پوری فلسطینی سرزمیں پر فلسطینیوں کے حقِ ملکیت کی بات کی تھی۔1967ء کی سرحدوں کو بنیاد بنانے کا مطلب یہ ہے کہ اس سے قبل (1948ء میں) زبردستی قبضے میں لی گئی 78 فیصد فلسطینی زمین پر صیہونی ریاست کے وجود کو قانونی تسلیم کر لیا جائے، جو پاکستان کے اصولی اور نظریاتی مؤقف کے منافی ہے۔
وزیرِ خارجہ نے فلسطینیوں کے حقِ خودارادیت کی بات تو کی، لیکن اس بیانیے میں فلسطینی پناہ گزینوں کے حقِ واپسی کا تذکرہ غائب رہا۔ یہی وہ اصل مشکل اور سفارتی کمزوری ہے جسے دور کرنے کی ضرورت ہے۔صرف حقِ خودارادیت کی بات کرنا اس وقت تک ادھورا ہے جب تک لاکھوں جلاوطن فلسطینیوں کی اپنی آبائی زمینوں پر واپسی کو یقینی نہ بنایا جائے۔
اقوامِ متحدہ کی قرارداد نمبر 194 واضح طور پر فلسطینی پناہ گزینوں کے اپنے گھروں کو واپس لوٹنے اور معاوضے کے حق کو تسلیم کرتی ہے۔ لہٰذا، پاکستانی سفارت کاری کو محض حقِ خودارادیت تک محدود رہنے کے بجائے قرارداد 194 کے تحت حقِ واپسی کو اپنے بیانیے کا بنیادی حصہ بنانا چاہیے۔پاکستان کو بین الاقوامی سطح پر اب ہچکچاہٹ کا شکار ہونے کے بجائے ایک واشگاف اور مضبوط مؤقف اپنانا چاہیے۔دو ریاستی حل کو مکمل مسترد کیا جائے کیونکہ دو ریاستی حل عملاً دم توڑ چکا ہے اور یہ فلسطینی کاز کو مستقل نقصان پہنچانے کا ذریعہ ہے۔
پاکستان کو یہ مؤقف اختیار کرنا چاہیے کہ تمام فلسطینی پناہ گزینوں کو ان کے گھروں کو واپس لایا جائے اور اس کے بعد پوری فلسطینی سرزمین (دریا سے سمندر تک) پر ایک آزادانہ اور منصفانہ ریفرنڈم (حقِ خودارادیت) کرایا جائے، جس میں وہاں کے تمام اصل باشندے اپنے مستقبل کا فیصلہ خود کریں۔
اسحاق ڈار صاحب کی جانب سے ابراہیمی معاہدوں کی مذمت ایک اچھا نقطہ آغاز ہے، لیکن ضرورت اس امر کی ہے کہ خارجہ پالیسی کو قائدِ اعظم کے اصولوں کے سانچے میں ڈھالتے ہوئے آدھے ادھورے حل کے بجائے مکمل انصاف اور تاریخی سچائی کا ساتھ دیا جائے۔
خلاصہ یہ ہے کہ عرصہ دراز سے پاکستا ن میں یہ بات مشاہدے میںآئی ہے کہ اسرائیل کو تسلیم کرنے کی بحث کو چھیڑا جاتا ہے اور پھر اس کے جواب میں حکومتی حلقوں سمیت دفتر کارجہ، ماہرین اور سابق سفارتکاروں سمیت اہم مقتدر حلقے میڈیا پر آ کر یہ بیان دیتے ہیں کہ پاکستان اس وقت تک اسرائیل کو تسلیم نہیں کرے گا جب تک فلسطین کی آزاد ریاست قائم نہیں ہو جاتی یعنی کون سی ریاست جو سنہ 1967 کی سرحدوں کے مطابق ہو یعنی 22 فیصد فلسطین باقی 78 فیصد اسرائیل ۔ ایسے بیانات سے واضح طور پر ابہام پیدا ہوتا ہے کہ حکومت نے بانی پاکستان قائد اعظم محمدعلی جناح کی غیر متزلزل پالیسی میں بدلائو پیدا کرنے کی کوشش کی ہے۔ یعنی متواتر یہ کہتے رہنا کہ جب تک آزاد فلسطینی ریاست قائم نہ ہو جائے۔ مطلب یہ ہے کہ ہم دو ریاستوں کی بات کرتے ہیں ایک فلسطین اور دوسری اسرائیل ۔
یہاں تک بات ٹھیک ہے اگر اسرائیل اتنا ہی سب کے لئے ضرور ی ہے تو پھر اسرائیل کو فلسطین پر اپنا قبضہ ختم کر کے گرین لیڈ جیسے جزیروں پر آباد کیا جائے اور دنیا بھر سے صیہونیوں کو لا کر اسرائیل نام کی ریاست قائم کی جائے تا کہ پھر پاکستان سمیت سب اسے تسلیم کریں۔یہاں مسئلہ یہ ہے کہ فلسطین پر پہلے قبضہ کیا گیا، ریاست کے اوپر ریاست بنادی گئی اور اب کہا جاتا ہے کہ اسرائیل کو تسلیم کیا جائے۔ قائد اعظم نے اصولی موقف اپنایا تھا جس میں کوئی اگر اور مگر موجود نہیں تھا۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت پاکستان سمیت دفتر خارجہ اور مقتدر حلقے بھی بانی پاکستان کے بتائے ہوئے راستے پر عمل کریں اور کسی بھی طرح کے نظریاتی انحراف سے گریز کریں۔