• Newsletter
  • صفحہ اول
  • صفحہ اول2
منگل 26 مئی 2026
  • Login
Roznama Quds | روزنامہ قدس
  • صفحہ اول
  • فلسطین
  • حماس
  • غزہ
  • پی ایل او
  • صیہونیزم
  • عالمی یوم القدس
  • عالمی خبریں
  • پاکستان
  • رپورٹس
  • مقالا جات
  • مکالمہ
No Result
View All Result
  • صفحہ اول
  • فلسطین
  • حماس
  • غزہ
  • پی ایل او
  • صیہونیزم
  • عالمی یوم القدس
  • عالمی خبریں
  • پاکستان
  • رپورٹس
  • مقالا جات
  • مکالمہ
No Result
View All Result
Roznama Quds | روزنامہ قدس
No Result
View All Result
Home خاص خبریں

اسرائیل سے تعلقات: پاکستان کا نظریاتی موقف کیا ہونا چاہیے ؟

عالمی ذرائع ابلاغ اور پاکستان میں ایک مرتبہ پھر سے اسرائیل کو تسلیم کرنے یا نہ کرنے سمیت ابراہیمی معاہدے سے متعلق بحث شروع ہوچکی ہے۔

منگل 26-05-2026
in خاص خبریں, مقالا جات
0
اسرائیل سے تعلقات: پاکستان کا نظریاتی موقف کیا ہونا چاہیے ؟
0
SHARES
0
VIEWS

تحریر: ڈاکٹر صابر ابو مریم
سیکرٹری جنرل فلسطین فائونڈیشن پاکستان

(روزنامہ قدس ـ آنلائن خبر رساں ادارہ) عالمی ذرائع ابلاغ اور پاکستان میں ایک مرتبہ پھر سے اسرائیل کو تسلیم کرنے یا نہ کرنے سمیت ابراہیمی معاہدے سے متعلق بحث شروع ہوچکی ہے۔ یہ بحث امریکی صدر ٹرمپ کی جانب سے سوشل میڈیا پوسٹ میں پاکستان، سعودی عرب اور قطر سمیت دیگر مسلمان ممالک سے مطالبہ کے بعد سامنے آئی ہے کہ جس میں ٹرمپ نے ایران کے ساتھ ہونے والے مذاکرات میں کسی بھی معاہدے کو مسلمان ممالک کی جانب سے اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کی شرط عائد کی ہے۔ اس مطالبہ میں ٹرمپ نے ایران کو بھی کہاہے کہ وہ اگر معاہدہ کرنا چاہتے ہیں تو پھر اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پرلانے ہوں گے۔

یعنی ٹرمپ نے ایک مرتبہ پھر مسلم دنیا کو یہ بتا دیا ہے کہ فلسطین کی بات نہیں ہو گی اور اسرائیل کو سب کو تسلیم کرنا ہے۔ یعنی امریکہ اور اسرائیل اب تک طوفان الاقصیٰ کے بعد سے خطے میں جو کچھ حاصل نہیں کر پائے اب چاہتے ہیں کہ ایران مذاکرات یا معاہدے کی آڑ میں حاصل کریں۔ جیسا کہ امریکی ذرائع ابلاغ میں مبصرین کا کہنا ہے کہ امریکہ اس وقت ایران کے مقابلہ میں شکست کھا چکاہے اور دوسری طرف اسرائیل بھی غزہ اور لبنان میں حماس اور حزب اللہ کا مقابلہ کرنے میں بری طرح ناکام ہے۔ ایسی صورتحال میں ٹرمپ نے نیتن یاہو کو خوش کرنے کے لئے مسلمان ممالک سے مطالبہ کیا ہے۔

دوسری طرف امریکی سینیٹر لنڈسے گراہم جو امریکی صدر کے قریبی ہیں انہوںنے تو پاکستان سمیت سعودی عرب اور دیگر مسلمان ممالک کو دھمکی آمیز لہجے میں کہا ہے کہ اگر ابراہیمی معاہدے میں شامل نہ ہوئے تو مستقبل میں مشکلات کا سامنا کرنا ہو گا۔یعنی یہ ایک طریقے سے حکمرانوں کو دھمکی دی گئی ہے کہ ان کا اقتدار بھی پلٹ دیا جا سکتا ہے۔جیسا کہ امریکہ ہمیشہ دنیا کے متعدد ممالک میں رجیم چینج مداخلت کرتا چلا آیا ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے پاکستان، سعودی عرب اور قطر سمیت دیگر مسلم ممالک کوابراہیمی معاہدے’ (Abraham Accords) میں لازمی شمولیت کا حالیہ مطالبہ مسلم امہ کے سفارتی حلقوں میں ایک نئی بحث چھیڑ چکا ہے۔ جہاں ایک طرف خلیجی ممالک پر امریکی دباؤ بڑھ رہا ہے، وہاں پاکستان میں بھی اس پر گہری تشویش پائی جاتی ہے۔ تاہم، اس پورے مسئلے پر پاکستانی خارجہ پالیسی کے ماہرین اور دفترِ خارجہ کی جانب سے ایک بنیادی فکری مغالطہ سامنے آ رہا ہےاور وہ یہ ہے پاکستان کے مؤقف کو عرب حکومتوں کے فیصلوں کے ساتھ نتھی کرنا۔ پاکستان کو یہ سمجھنا ہوگا کہ اس کا اسرائیل کے حوالے سے کیس عرب ممالک سے بالکل مختلف اور خالصتاً نظریاتی ہے۔

پاکستانی سفارتی حلقوں اور میڈیا میں اکثر یہ بیانیہ اپنایا جاتا ہے کہ اگر سعودی عرب نے اسرائیل کو تسلیم کر لیا، تو پاکستان کے لیے تنہا رہ جانا مشکل ہوگایا پاکستان عرب ممالک کے فیصلوں کا پابند ہے۔ یہ سوچ نہ صرف تاریخی طور پر غلط ہے بلکہ پاکستان کی خود مختار حیثیت کی نفی کرتی ہے۔

عرب ممالک (جیسے متحدہ عرب امارات، بحرین یا مراکش) اور اسرائیل کا تنازع بنیادی طور پر سرحدی، جغرافیائی اور علاقائی بالادستی کا رہا ہے۔ ان کے فیصلے اکثر شاہی خاندانوں کے مفادات، اقتصادی فوائد اور امریکی سیکیورٹی چھتری کے مرہونِ منت ہوتے ہیں۔ اس کے برعکس، پاکستان کا اسرائیل کو تسلیم نہ کرنا کسی جغرافیائی تنازع یا تزویراتی مفاد کا نتیجہ نہیں، بلکہ یہ ایک نظریاتی اور اصولی پابندی ہے۔ پاکستان ایک اسلامی نظریے کے تحت وجود میں آیا تھا، اس لیے اس کا مؤقف کسی دوسرے ملک کی مرضی کے تابع نہیں ہو سکتا۔

پاکستان کے دفترِ خارجہ کا یہ روایتی جملہ کہ جب تک 1967 کی سرحدوں کے مطابق آزاد فلسطینی ریاست قائم نہیں ہو جاتی، پاکستان اسرائیل کو تسلیم نہیں کرے گا، دراصل بانی پاکستان قائدِ اعظم محمد علی جناح کے اصل اور بنیادی مؤقف سے کھلا ٹکراؤ ہے۔موجودہ دفترِ خارجہ اور بعض لبرل تجزیہ نگاروں کا یہ بیانیہ دو ریاستی حل (Two-State Solution) کی حمایت کرتا ہے، جس کا مطلب بالواسطہ طور پر یہ نکلتا ہے کہ اگر فلسطینیوں کو ایک چھوٹا سا خطہ زمین مل جائے، تو پاکستان اسرائیل کے وجود کو جائز تسلیم کر لے گا۔

یہ موقف قائدِ اعظم کے فرمودات کی صریح نفی ہے۔ قائدِ اعظم نے تقسیمِ فلسطین کے برطانوی و امریکی منصوبے کو ہمیشہ غیر منصفانہ، ظالمانہ اور غیر انسانی قرار دیا۔ انہوں نے واشگاف الفاظ میں فرمایا تھا کہ اسرائیل مغربی سامراج کی ناجائز اولاد ہے اور مسلم دنیا کے دل میں خنجر گھونپنے کے مترادف ہے۔ پاکستان کبھی بھی ایک ایسی ریاست کو تسلیم نہیں کر سکتا جو غصب شدہ زمین پر قائم کی گئی ہو۔

قائدِ اعظم کا مؤقف زمین کے کسی ٹکڑے کے سودے پر مبنی نہیں تھا، بلکہ وہ اسرائیل کے پورے وجود کو ہی غیر قانونی اور غاصبانہ مانتے تھے۔ اس لیے پاکستانی بیانیے کوفلسطینی ریاست کے قیام کی شرط کے بجائے اسرائیل کے ناجائز وجودکے بنیادی نکتے پر مرکوز ہونا چاہیے۔

پاکستان کی عوام کا فلسطین کے ساتھ رشتہ محض سیاسی نہیں بلکہ عقیدت اور انسانیت کا رشتہ ہے۔ پاکستانی عوام غزا اور فلسطین پر ہونے والے مظالم کو اپنے جسم پر زخم کی طرح محسوس کرتے ہیں۔ اس دلی لگاؤ کے پیچھے مضبوط عقلی اور اخلاقی دلائل موجود ہیں۔ دنیا کا کوئی بھی قانون یا اخلاقی ضابطہ اس بات کی اجازت نہیں دیتا کہ دنیا بھر سے ایک مخصوص نسل کے لوگوں کو لا کر ایک قدیم ہنستی بستی قوم کو ان کے گھروں سے بے دخل کر دیا جائے۔ اسرائیل کا قیام ہی اخلاقی بیساکھیوں پر ہوا ہے۔بیت المقدس مسلمانوں کا قبلہ اول ہے۔ اس زمین کی آزادی مسلمانوں کے ایمان کا حصہ ہے۔ پاکستانی عوام کا یہ ماننا ہے کہ جو غاصب اور ناجائز وجود انبیاء کی سرزمین پر معصوم بچوں کے خون سے ہولی کھیل رہاہو، اس کے ساتھ نارملائزیشن یا سفارتی تعلقات قائم کرنا انسانیت کی توہین ہے۔

پاکستان اگر اسرائیل کے غاصبانہ قبضے کو کسی بھی دباؤ یا لالچ کے تحت تسلیم کرتا ہے، تو وہ اخلاقی طور پر کشمیر پر اپنے مؤقف سے دستبردار ہو جائے گا۔ دونوں مسائل کا بنیادی نکتہ ایک ہی ہے یعنی کسی بیرونی طاقت کا مقامی آبادی پر زبردستی کا قبضہ۔ اگر اسرائیل جائز ہے، تو پھر بھارت کا کشمیر پر قبضہ بھی جائز قرار پائے گا۔

خلاصہ یہ ہے کہ ڈونالڈ ٹرمپ یا سینیٹر لنڈسے گراہم جیسے امریکی سیاست دانوں کا دباؤ اپنی جگہ، لیکن پاکستان کو اپنی خارجہ پالیسی کی بنیاد عرب ممالک کے رویوں پر رکھنے کے بجائے اپنے بانی کے اصولوں پر رکھنی ہوگی۔ پاکستان کو کسی معذرت خواہانہ رویے یا دو ریاستی حل کی آڑ لینے کے بجائے دنیا کو یہ بتانا ہوگا کہ ہمارا مؤقف قائدِ اعظم کا مؤقف ہے کہ ایک غاصب اور نسل پرست ریاست کے لیے پاکستان کی لغت میںتسلیم کا کوئی لفظ موجود نہیں ہے۔

Tags: Diplomacyforeign policyIdeologyinternational relationsisraelMiddle EastPakistanPolicy AnalysisPoliticsPublic Debate
ShareTweetSendSend

ٹوئیٹر پر فالو کریں

Follow @roznamaquds Tweets by roznamaquds

© 2019 Roznama Quds Developed By Team Roznama Quds.

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In
No Result
View All Result
  • Newsletter
  • صفحہ اول
  • صفحہ اول2

© 2019 Roznama Quds Developed By Team Roznama Quds.