پاکستان کے عوام نے ہمیشہ بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح کے افکار اور نظریات کے مطابق اسرائیل کو تسلیم نہیں کیا ہے۔ اسی طرح پاکستان کی عوام کا فلسطینی عوام کے ساتھ لگائو اور سرزمین فلسطین کے ساتھ مذہبی لگائو بھی ہے۔
تحریر: ڈاکٹر صابر ابو مریم
سیکرٹری جنرل فلسطین فائونڈیشن پاکستان
(روزنامہ قدس ـ آنلائن خبر رساں ادارہ) پاکستان ہمیشہ سے غاصب صیہونی ریاست اسرائیل کے لئے ایک چیلنج رہاہے۔ صیہونی لابی نے ہمیشہ کوشش کی ہے کہ پاکستان کے اصولی اور نظریاتی موقف کہ جس میں پاکستان اسرائیل کو ایک غاصب اور ناجائز وجود مانتا ہے، تبدیل کیا جائے۔اس چیلنج کے لئے غاصب صیہونی حکومت نے پاکستان میں چند نام نہاد صحافیوں کا استعمال کیا ہے اور ان کی مدد سے ماضی میں وفود کو اسرائیل یاترا بھی کروائی گئی ۔ ماضی میں حکومتی عہدیداروںنے بھی بین الاقوامی فورمز پر اسرائیلی سفیروں اور عہدیداروں سے خفیہ یا اعلانیہ ملاقاتیں کی ہیں۔بہر حال پاکستان غاصب صیہونی گینگ اسرائیل کے لئے ایک چیلنج ہے اور پاکستان کےلئے بھی غاصب صیہونی گینگ ایک چیلنج ہے۔ پاکستان کے عوام نے ہمیشہ بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح کے افکار اور نظریات کے مطابق اسرائیل کو تسلیم نہیں کیا ہے۔ اسی طرح پاکستان کی عوام کا فلسطینی عوام کے ساتھ لگائو اور سرزمین فلسطین کے ساتھ مذہبی لگائو بھی ہے۔
حال ہی میں سوشل میڈیا پر ایک تصویر اور ویڈیو جنگل کی آگ کی طرح پھیل رہی ہے، جس میں صوبہ پنجاب کی معروف سرکاری درسگاہ چکوال یونیورسٹی (University of Chakwal) میں اسرائیلی جھنڈا لہراتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔ پاکستان جیسے مسلم اکثریتی ملک میں، جہاں اسرائیل کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم نہیں کیا جاتا اور فلسطینی عوام پر ڈھائے جانے والے مظالم کے خلاف شدید عوامی جذبات پائے جاتے ہیں، اس واقعے نے انٹرنیٹ صارفین میں شدید غم و غصے کی لہر دوڑا دی۔ سوشل میڈیا پر مختلف آراء سامنے آئیں اور یونیورسٹی انتظامیہ کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔
یہ پورا معاملہ اس وقت شروع ہوا جب یونیورسٹی کے شعبہ بین الاقوامی تعلقات (IR Department) کی جانب سے ایک تزویراتی (Strategic) کانفرنس کا انعقاد کیا گیا۔ اس کانفرنس کے دوران مختلف ممالک کے پرچموں کے ساتھ اسرائیل کا جھنڈا بھی نمائش کے لیے رکھا گیا تھا۔ در اصل یونیورسٹی جیسے مقامات پر اسرائیل کا جھنڈا لگانا اسرائیل کے ساتھ تعلقات کے فروغ اور قومی بیانیے کی خلاف ورزی جیسے جرائم کے زمرے میں آتا ہے۔
چکوال یونیورسٹی نے اپنی غلطی ماننے کی جگہ ایک وضاحت پر مبنی پریس ریلیز جاری کی جس میں کہا گیا تھا کہ یونیورسٹی آف چکوال واضح طور پر بیان کرتی ہے کہ مذکورہ کانفرنس میں اسرائیلی جھنڈے کا موجود ہونا ہرگز اسرائیل کے تشخص کو اجاگر کرنا یا اس کی تائید کرنا نہیں تھا۔ بلکہ طلبہ و طالبات کو اس حقیقت سے آگاہ کرنا تھا کہ اسرائیل امت مسلمہ کے لیے، بالخصوص پاکستان کے لیے ایک سنگین خطرہ ہے اور وہ غزہ کے مظلوم مسلمانوں پر سنگین ظلم و جبر کر رہا ہے۔ کانفرنس کا بنیادی مقصد طلبہ میں شعور اجاگر کرنا اور انہیں موجودہ جیو پولیٹیکل صورتحال کی درست تناظر میں سمجھ بوجھ فراہم کرنا تھا۔ اس کانفرنس میں امریکہ، چین، بھارت، ایران سمیت پاکستان کی بھی دفاعی قوت کا تجزیہ کیا گیا تھا تاکہ انٹرنیشنل ریلیشنز کے طلبہ اور طالبات دوست مُمالک سمیت دشمنوں کی دفاعی قوت سے بھی آگاہ رہیں۔
سوشل میڈیا پر اس سے متعلق گردش کردہ خبریں حقائق سے لاعلمی کے نتیجے میں پیدا ہونے والی غلط فہمی کا نتیجہ ہیں لہذا درست حقائق کو عوام الناس کے علم میں لانا اور ادارے کا واضح موقف پیش کرنا یونیورسٹی انتظامیہ اپنی اہم ذمہ داری سمجھتی ہے۔
یونیورسٹی آف چکوال اس موقف پر پوری طرح واضح ہے کہ قوم بانئِ پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح کے اسرائیل سے متعلق بیان کے ساتھ سیسہ پلائی ہوئی دیوار کی مانند کھڑی ہے۔ قائد اعظم نے واضح طور پر فلسطینی ریاست کیلئے مسلمانوں کے حقِ خود ارادیت کی حمایت کی اور فلسطین میں یہودی ریاست کے قیام کی مخالفت کی تھی۔ اور جامعہ چکوال کا بھی یہی موقف ہے کہ ایسی ریاست کا قیام مسلمانوں کے حقوق پر ڈاکہ ڈالنے کے مترادف ہے۔ یونیورسٹی بھی اسی اصول پر قائم ہے اور آئندہ بھی بابائے قوم کے اس تاریخی موقف کی پاسداری کرتی رہے گی۔
مزید براں یونیورسٹی آف چکوال طلبہ و طالبات کو تعلیم کے ساتھ ساتھ درست تاریخی اور سیاسی شعور دینے کا عزم رکھتی ہے۔ ہم اپنے طلبہ کو ایسے حقائق سے روشناس کرواتے ہیں جو انہیں باخبر اور ذمہ دار شہری بنائیں۔
بہر حال یونیورسٹی کا وضاحتی موقف کمزور اور بے بنیاد پایا گیا ہے کیونکہ پاکستان کے پاسپورٹ پر واضح طور پر درج ہے کہ یہ پاسپورٹ اسرائیل کے علاوہ تمام دنیا کے ممالک کے لیے کارآمد ہے۔ جب ریاستِ پاکستان اسرائیل کو ایک غاصب اور غیر قانونی صیہونی وجود مانتی ہے، تو یونیورسٹی انتظامیہ نے کس قانون یا ضابطے کے تحت پاکستان کی دھرتی پر اس غاصب حکومت کے جھنڈے کو (خواہ وہ کسی بھی مقصد کے لیے ہو) سرکاری طور پر لہرانے یا آویزاں کرنے کی اجازت دی؟کیا تعلیمی مقاصد کے نام پر پاکستان کی نظریاتی سرحدوں اور ریاستی پالیسی کو پسِ پشت ڈالا جا سکتا ہے؟
دنیا بھر کی جامعات میں دشمن ممالک، ان کی جارحیت اور دفاعی قوت کا تجزیہ کیا جاتا ہے، لیکن کیا دشمن کی جارحیت سکھانے کے لیے اس کے قومی پرچم کا باقاعدہ ڈسپلے کرنا لازمی ہوتا ہے؟اگر یہ صرف دفاعی قوت کا موازنہ تھا، تو اس کانفرنس میں تائیوان یا دنیا کے دیگر متنازع خطوں کے جھنڈے کیوں نہیں لگائے گئے؟ اسرائیل کو ایک خود مختارریاست کے طور پر پیش کرنے والے جھنڈے کو دیگر تسلیم شدہ ممالک (امریکہ، چین، بھارت) کے جھنڈوں کے برابر جگہ دینا کیا خود اسرائیل کو لاشعوری طور پر ایک جائز ریاست تسلیم کرنے کے مترادف نہیں ہے؟
چکوال یونیورسٹی نے اپنے دفاع میں قائد اعظم محمد علی جناح کے تاریخی موقف کا حوالہ دیا ہے۔ قائد اعظم نے تو اسرائیل کو ایک ناجائز بچہ اور صیہونی جارحیت کا مظہر قرار دیا تھا۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جس اسرائیل کے وجود کو بانی پاکستان سرے سے تسلیم ہی نہیں کرتے، اسے ایک بین الاقوامی کانفرنس میں دیگر اقوام کے برابر سفارتی پروٹوکول (پرچم کی صورت میں) دینا قائد اعظم کے موقف کی پاسداری ہے یا اس کی نفی؟
غزہ میں جاری حالیہ بدترین نسل کشی اور مظالم کے اس حساس دور میں، جب پاکستانی عوام کے دل فلسطینی بہن بھائیوں کے ساتھ دھڑک رہے ہیں، یونیورسٹی انتظامیہ اتنی بے حس کیسے ہو سکتی ہے کہ وہ طلبہ کے سامنے اسی قاتل حکومت کا پرچم لہرا دے؟ کیا یونیورسٹی یہ نہیں سمجھتی کہ یہ اقدام غزہ کے شہداء کے خون اور پاکستانی عوام کے جذبات کی توہین ہے؟
یونیورسٹی کا کہنا ہے کہ اس کا مقصدطلبہ میں شعور بیدار کرنا تھا۔ سوال یہ ہے کہ کیا یونیورسٹی کے اساتذہ اور IR ڈیپارٹمنٹ اتنے نااہل ہیں کہ وہ بغیر جھنڈا لگائے، نقشوں، دستاویزی فلموں یا لیکچرز کے ذریعے اسرائیل کے مظالم اور اس کے خطرات سے طلبہ کو آگاہ نہیں کر سکتے تھے؟ کیا صیہونی علامت کو نمایاں کیے بغیر جیو پولیٹیکل صورتحال نہیں سمجھائی جا سکتی تھی؟
یونیورسٹی نے جھنڈا لگانے کو دشمن کی شناخت قرار دے کر چھپانے کی کوشش کی ہے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ پرچم کسی ملک کی خودمختاری اور اس کے قانونی وجود کی علامت ہوتا ہے۔ جب پاکستان اسرائیل کے وجود کو ہی تسلیم نہیں کرتا، تو یونیورسٹی کا یہ اقدام تعلیمی نہیں بلکہ صیہونی وجود کو (خواہ نادانی میں ہی سہی) ایک "ریاست” کے طور پر قبول کرنے کی فکری پسپائی کا عکاس ہے۔
اب دیکھتے ہیں کہ آئین پاکستان اس معاملہ پر کیا کہتا ہے ؟ چکوال یونیورسٹی نے ایک طرف غلطی کی اور دوسری طرف غلطی پر معافی مانگنے کی بجائے اس کی غلط اور بے بنیاد توضیحات پیش کر کے اسرائیل کے لئے نرم گوشہ پیدا کرنے کی ناکام کوشش کی ہے۔
آئینِ پاکستان کی روشنی میں کسی بھی سرکاری یا نیم سرکاری ادارے (بشمول جامعات) کی یہ آئینی ذمہ داری ہے کہ وہ ریاست کی نظریاتی بنیادوں اور خارجہ پالیسی کے رہنما اصولوں کی پاسداری کرے۔ آئین پاکستان 1973 کا آرٹیکل 40 کہتا ہے کہ مسلم دنیا کے ساتھ تعلقات اور بین الاقوامی امن قائم کرنا پاکستان کی خارجہ پالیسی کا بنیادی ستون ہے اور براہِ راست نظریاتی سرحدوں کا احاطہ کرتا ہے۔آرٹیکل 40 میں گیا ہے کہ ریاست اسلامی یکجہتی کے پیشِ نظر مسلم ممالک کے ساتھ برادرانہ تعلقات کو برقرار رکھنے اور مضبوط بنانے کی کوشش کرے گی، اور بین الاقوامی امن و سلامتی کو فروغ دے گی۔جبکہ دوسری طرف چکوال یونیورسٹی نے اس کے برعکس کام کیایعنی جب ریاستِ پاکستان کا یہ واضح آئینی عزم ہے کہ وہ مسلم امہ کے حقوق اور یکجہتی کے لیے کام کرے گی، تو ایک سرکاری جامعہ میں اس غاصب اور ناجائز وجود (اسرائیل) کا پرچم آویزاں کرناجو مسلم امہ (فلسطین) پر مظالم کا سب سے بڑا مرکز ہےآرٹیکل 40 کی روح اور پاکستان کی نظریاتی خارجہ پالیسی کی صریح خلاف ورزی ہے۔
آئین پاکستان 1973 کا آرٹیکل 31 کہتا ہے کہ ریاست کی ذمہ داری ہے کہ وہ اسلامی طرزِ زندگی کو فروغ دے اور یہ آرٹیکل ریاست کو پابند کرتا ہے کہ وہ شہریوں کو اسلام کے بنیادی تصورات سمجھنے میں مدد فراہم کرے۔یعنی اس آرٹیکل کی رو سے پاکستان کے مسلمانوں کو انفرادی اور اجتماعی طور پر اپنی زندگیوں کو اسلام کے بنیادی اصولوں اور تصورات کے مطابق ڈھالنے کے قابل بنانے کے لیے اقدامات کیے جائیں گے۔جبکہ دوسری طرف اگر چکوال یونیورسٹی کے اسرائیلی جھنڈا لہرانے والے اقدامات کا مشاہدہ کیا جائے تو بالکل برعکس ہے۔کیونکہ اسلام ظلم کے خلاف آواز اٹھانے اور مظلوم کا ساتھ دینے کا درس دیتا ہے۔ طلبہ کوبین الاقوامی تعلقات سکھانے کے نام پر غاصب اور ناجائز صیہونی ریاست کا پرچم لہرانا طلبہ کی اسلامی و فکری تربیت کے منافی ہے، جس کا تحفظ کرنا آرٹیکل 31 کے تحت ہر سرکاری تعلیمی ادارے کی ذمہ داری ہے۔
آئین پاکستان 1973 کا آرٹیکل 5 ریاست سے وفاداری اور آئین کی فرمانبرداری سے متعلق ہے۔یہ آرٹیکل ریاست کے تمام اداروں سمیت پاکستان کے ہر شہری پر لاگو ہونے والا سب سے بنیادی آرٹیکل ہے۔آرٹیکل 5(1) میں ریاست سے وفاداری ہر شہری کا بنیادی فرض بتایا گیا ہے جبکہ آرٹیکل 5(2) میں آئین اور قانون کی فرمانبرداری ہر شہری، اور ہر اس شخص کا واجباتی فرض ہے جو پاکستان میں ہو۔
ریاستِ پاکستان کا سرکاری، قانونی اور سفارتی موقف یہ ہے کہ اسرائیل ایک غاصب اور ناجائز وجود ہے۔ چکوال یونیورسٹی انتظامیہ ریاست کے اندر رہ کر ریاست کی مجموعی پالیسی سے انحراف نہیں کر سکتی۔ قائد اعظم کے اصول اور ریاست کا آفیشل موقف ہی پاکستان کی نظریاتی وفاداری کا معیار ہیں، اور اس سے انحراف آرٹیکل 5 کے تحت ریاست سے وفاداری کے تقاضوں کو مجروح کرتا ہے۔یعنی چکوال یونیورسٹی نے سرکاری جامعہ میں ایک ایسی ناجائز ریاست کا جھنڈا لگا کر آرٹیکل 5 کی روح کو مجروح کیا ہے جو ریاست اور آئین سے وفاداری کی بات کرتا ہے۔
خلاصہ یہ ہے کہ اسرائیلی لابی کے لئے کام کرنے والے عناصر کہیں صحافیوں ، کہیں دانشوروں اور کہیں علماء اور کہیں جامعات کے اساتذہ کی شکل میں موجود ہیں لہذا ہر پاکستانی شہری کی ذہ داری ہے کہ پاکستان کی نظریاتی سرحدوں کا دفاع کرنے کے لئے ایسے تمام عناصر کے خلاف آواز بھی بلند کی جائے اور حکومت ایسے تمام اقدامات کے خلاف موثر کاروائی بھی کرے۔