• Newsletter
  • صفحہ اول
  • صفحہ اول2
ہفتہ 30 مئی 2026
  • Login
Roznama Quds | روزنامہ قدس
  • صفحہ اول
  • فلسطین
  • حماس
  • غزہ
  • پی ایل او
  • صیہونیزم
  • عالمی یوم القدس
  • عالمی خبریں
  • پاکستان
  • رپورٹس
  • مقالا جات
  • مکالمہ
No Result
View All Result
  • صفحہ اول
  • فلسطین
  • حماس
  • غزہ
  • پی ایل او
  • صیہونیزم
  • عالمی یوم القدس
  • عالمی خبریں
  • پاکستان
  • رپورٹس
  • مقالا جات
  • مکالمہ
No Result
View All Result
Roznama Quds | روزنامہ قدس
No Result
View All Result
Home پاکستان

فلسطین کو تسلیم کیے بغیر ابراہم معاہدے پر کوئی نرمی نہیں ہوگی: پاکستان

پاکستان نے ایک بار پھر کہا ہے کہ جب تک فلسطین کو تسلیم نہیں کیا جاتا، تب تک وہ ابراہم معاہدے کا حصہ نہیں بنے گا۔

ہفتہ 30-05-2026
in پاکستان, خاص خبریں, فلسطین
0
فلسطین کو تسلیم کیے بغیر ابراہم معاہدے پر کوئی نرمی نہیں ہوگی: پاکستان
0
SHARES
0
VIEWS

اسلام آباد – (روزنامہ قدس ـ آنلائن خبر رساں ادارہ) پاکستان نے ایک بار پھر کہا ہے کہ جب تک فلسطین کو تسلیم نہیں کیا جاتا، تب تک وہ ابراہم معاہدے کا حصہ نہیں بنے گا۔

یہ بات پاکستانی وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے واشنگٹن میں امریکی سیکریٹری خارجہ مارکو روبیو سے ملاقات کے بعد ایک نیوز کانفرنس کے دوران کہی۔

اسحاق ڈار کا کہنا تھا: ’افواہیں گردش کر رہی ہیں کہ پاکستان کو کہا گیا ہے کہ وہ معاہدہ ابراہیمی کا حصہ بنے۔ پاکستان کی اس حوالے سے ہمیشہ بہت واضح پالیسی رہی ہے کہ جب تک فلسطین کو تسلیم نہیں کیا جاتا، وہ سنہ 1967 سے پہلے والے ماڈل پر واپس نہیں جاتا اور قدس الشریف (یروشلم) اس کا دارالحکومت نہیں بن جاتا، تب تک اس معاملے پر کوئی لچک نہیں آ سکتی۔‘

ابراہم معاہدے کے تحت مسلم اکثریتی ممالک اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کرتے ہیں۔

یہ معاہدہ 2020 میں صدر ٹرمپ کے پہلے دور صدارت میں سامنے آیا تھا، جب متحدہ عرب امارات اور بحرین نے اسرائیل کو تسلیم کیا۔

بعد میں مراکش اور سوڈان نے بھی تعلقات معمول پر لانے کی جانب پیش رفت کی۔ تب سے واشنگٹن مزید ممالک کو اس معاہدے کا حصہ بنانا چاہتا ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے چند روز قبل ایک سوشل میڈیا پوسٹ میں کہا تھا کہ انہوں نے پاکستان، سعودی عرب، قطر، ترکی، مصر اور اردن سمیت کئی مسلم اور عرب ممالک سے کہا ہے کہ وہ اس معاہدے میں شامل ہوں۔

انہوں نے اس پورے عمل کو ایران کے ساتھ جنگ کے خاتمے اور خطے میں امن کی کوششوں سے جوڑنے کی کوشش کی۔

اس پر پاکستانی وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا تھا کہ صدر ٹرمپ کی جانب سے پیش کیا گیا ابراہم معاہدہ قابل قبول نہیں کیوں کہ ’یہ ہمارے بنیادی نظریات سے متصادم ہے۔‘

نجی نیوز چینل سما سے گفتگو میں انہوں نے کہا ’میرا نہیں خیال کہ ہم کسی ایسے معاہدے میں شامل ہوں گے جو ہمارے بنیادی نظریات سے متصادم ہوں۔

’میرے ذاتی خیال میں اس وقت ہم نے کوئی اقدام لیا ہے نہ کسی نے ہمیں (باضابطہ اس میں شامل ہونے کو) کہا ہے۔ اس وقت بھی غزہ (فائر بندی) معاہدے کی خلاف ورزی ہو رہی ہے تو ان لوگوں کے ساتھ کیسے بیٹھا جا سکتا ہے جن پر ایک دن کا بھی اعتبار نہ ہو۔‘

انہوں نے مزید کہا تھا ’ہمارا واضح موقف ہے کہ یہ (ابراہم معاہدہ) ہمارے لیے قابل قبول نہیں اور ہم واحد ملک ہیں جس کے پاسپورٹ پر اسرائیل کا نام ہی شامل نہیں (اسرائیل کے لیے کارآمد نہیں)۔‘

پاکستانی دفتر خارجہ بھی ماضی میں کئی بار واضح کر چکا ہے کہ اسلام آباد ابراہم معاہدےکا حصہ نہیں بنے گا اور وہ القدس شریف کو دارالحکومت بنانے والی آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کی حمایت جاری رکھے گا۔

Tags: Abraham Accordsbreaking newsDiplomacyforeign policyinternational relationsisraelMiddle EastPakistanpalestinePolitics
ShareTweetSendSend

ٹوئیٹر پر فالو کریں

Follow @roznamaquds Tweets by roznamaquds

© 2019 Roznama Quds Developed By Team Roznama Quds.

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In
No Result
View All Result
  • Newsletter
  • صفحہ اول
  • صفحہ اول2

© 2019 Roznama Quds Developed By Team Roznama Quds.