• Newsletter
  • صفحہ اول
  • صفحہ اول2
بدھ 2 ستمبر 2026
  • Login
Roznama Quds | روزنامہ قدس
  • صفحہ اول
  • فلسطین
  • حماس
  • غزہ
  • پی ایل او
  • صیہونیزم
  • عالمی یوم القدس
  • عالمی خبریں
  • پاکستان
  • رپورٹس
  • مقالا جات
  • مکالمہ
No Result
View All Result
  • صفحہ اول
  • فلسطین
  • حماس
  • غزہ
  • پی ایل او
  • صیہونیزم
  • عالمی یوم القدس
  • عالمی خبریں
  • پاکستان
  • رپورٹس
  • مقالا جات
  • مکالمہ
No Result
View All Result
Roznama Quds | روزنامہ قدس
No Result
View All Result
Home خاص خبریں

اگست میں 2 ہزار سے زائد وحشیانہ حملے، مغربی کنارے میں جبری انخلا کی صہیونی سازش عروج پر

یہ حملے دو حصوں میں منقسم تھے جن میں سے 1402 حملے قابض اسرائیلی افواج نے کیے اور 628 حملے یہودی آباد کاروں کی غنڈہ گردی کا نتیجہ تھے۔ اس دوران قابض حکام نے فلسطینیوں کی تقریبا سولہ سو انتیس (1629) دونم قیمتی زمین پر غاصبانہ قبضہ کر لیا۔

بدھ 02-09-2026
in خاص خبریں, صیہونیزم, فلسطین
0
اگست میں 2 ہزار سے زائد وحشیانہ حملے، مغربی کنارے میں جبری انخلا کی صہیونی سازش عروج پر
0
SHARES
1
VIEWS

مقبوضہ فلسطین – (روزنامہ قدس ـ آنلائن خبر رساں ادارہ) وال اینڈ سیٹلمنٹ ریزسٹنس کمیشن نے انکشاف کیا ہے کہ قابض اسرائیلی فوج اور یہودی آباد کاروں نے فلسطینیوں کے خلاف گذشتہ ماہ اگست کے دوران 2030 سفاکانہ حملے کیے۔ یہ مجرمانہ کارروائیاں ایک منظم پالیسی کا حصہ ہیں جن کا واضح مقصد فلسطینیوں کے وجود کو مٹانا ہے۔

کمیشن نے منگل کے روز جاری کردہ اپنی تفصیلی رپورٹ میں واضح کیا کہ یہ حملے دو حصوں میں منقسم تھے جن میں سے 1402 حملے قابض اسرائیلی افواج نے کیے اور 628 حملے یہودی آباد کاروں کی غنڈہ گردی کا نتیجہ تھے۔ اس دوران قابض حکام نے فلسطینیوں کی تقریبا سولہ سو انتیس (1629) دونم قیمتی زمین پر غاصبانہ قبضہ کر لیا۔

رپورٹ کے مطابق ان ظالمانہ حملوں کا مرکز نابلس گورنری رہی جہاں 380 حملے ریکارڈ کیے گئے۔ اس کے بعد رام اللہ اور البیرہ میں 353 حملے، الخليل میں275 ، بيت لحم میں 239 ، جنين میں 230 اور مقبوضہ بیت المقدس میں 194 حملے کیے گئے۔

کمیشن نے اس امر کی نشاندہی کی کہ اس تقسیم سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ حملے مسلسل ان گورنریوں میں مرکوز ہیں جہاں یہودی بستیوں کی گھناؤنی توسیع کا سلسلہ جاری ہے اور سڑکوں، نقل و حرکت کے مراکز، زرعی نیز چراگاہوں پر غاصبانہ کنٹرول حاصل کرنے کے لیے سازشیں عروج پر ہیں۔

کمیشن نے بیان کیا کہ براہ راست فائرنگ، بہیمانہ تشدد، قیمتی درختوں کو اکھاڑنا، زرعی کھیتوں کو نذر آتش کرنا، زمین تک رسائی کو سختی سے روکنا، املاک لوٹنا، گھروں اور زرعی تنصیبات کو مسمار کرنا ایسے باہم پیوست ہتھکنڈے ہیں جو ذاتی سکیورٹی، روزگار کے ذرائع، رہائش کے حق اور زمین کو آباد رکھنے کی صلاحیت پر کاری ضرب لگاتے ہیں۔

کمیشن نے مزید زور دے کر کہا کہ یہ غاصبانہ اقدامات روزمرہ کی زندگی کو خوف و ہراس اور سنگین خطرات کا ناقابل برداشت سلسلہ بنا دیتے ہیں جن کا مذموم مقصد زمین کے اصل مالکان کو ہجرت پر مجبور کرنا ہے۔

رپورٹ کے مطابق کمیشن نے بتایا کہ یہ اقدامات ایک سنگین تضاد کو بے نقاب کرتے ہیں جہاں ایک طرف مظلوم فلسطینیوں کو ان کی اپنی زمین تک پہنچنے اور اسے استعمال کرنے سے سختی سے روکا جاتا ہے جبکہ دوسری طرف یہودی آباد کاروں کو دندنانے اور اس زمین پر پھیلنے کے لیے ریاستی تحفظ، خصوصی سڑکیں اور تمام ضروری وسائل طشتری میں رکھ کر پیش کیے جاتے ہیں۔

اگست کے دوران یہودی آباد کاروں کے چھ سو اٹھائیس سفاکانہ حملے

کمیشن نے بتایا کہ ماہ اگست کے دوران یہودی آباد کاروں نے 628 حملے کیے جو بنیادی طور پر رام اللہ اور البیرہ گورنری میں157، نابلس میں ایک سو 137 ، الخليل میں 120، بيت لحم میں 73 ، طوباس میں 40، جنين میں 36 اور مقبوضہ بیت المقدس میں 31 حملوں کی صورت میں ڈھائے گئے۔

کمیشن نے اس دلخراش حقیقت کو اجاگر کیا کہ 21 اگست سنہ 2026ء کو یہودی آباد کاروں کی سفاکیت کے نتیجے میں 17 سالہ نونہال کریم سند شلالدہ جام شہادت نوش کر گیا۔ اسے الخليل کے قصبے سعير کے علاقے حمروش پر ہونے والے مجرمانہ حملے کے دوران یہودی آباد کاروں کی طرف سے گولیاں مار کر شہید کیا گیا۔

کمیشن کے اعداد و شمار کے مطابق شہید شلالدہ کی شہادت کے ساتھ ہی سنہ 2026ء کے آغاز سے لے کر اب تک یہودی آباد کاروں کی فائرنگ سے جام شہادت نوش کرنے والے فلسطینیوں کی تعداد بڑھ کر 25ہو گئی ہے۔

کمیشن نے مزید تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ یہودی آباد کاروں کے ان پرتشدد حملوں سے 164 شہری براہ راست متاثر ہوئے جن میں 20 معصوم بچے اور سترہ خواتین شامل ہیں۔ ان میں سب سے بڑی تعداد الخليل گورنری کے مکینوں کی تھی جہاں 68 شہری اس درندگی کا نشانہ بنے جبکہ نابلس میں 50 شہری اور رام اللہ اور البیرہ میں 23 شہری متاثر ہوئے۔

اکیس ہزار سے زائد پھل دار درخت جارحیت کا شکار

وال اینڈ سیٹلمنٹ ریزسٹنس کمیشن نے وضاحت کی کہ ماہ اگست کے دوران فصلوں اور باغات پر یہودی آباد کاروں کی جارحیت کی زد میں 21 ہزار 508 درخت آئے جن میں 19,375 زیتون کے درخت بھی شامل ہیں۔

یہ برباد کیے جانے والے درخت مختلف گورنریوں میں منقسم تھے جن میں سلفیت میں 4892، جنين میں 4241، نابلس میں 3718، قلقيليہ میں 3530 ، الخليل میں 2311، رام اللہ اور البیرہ 1652، طوباس میں 802 ، بيت لحم میں 362 درخت برباد کیے گئے۔

32 نئی غیر قانونی بستیوں کے قیام کی مذموم کوششیں

کمیشن نے انکشاف کہ ماہ اگست کے دوران یہودی آباد کاروں نے 32 نئی غیر قانونی بستیوں کو مسلط کرنے کی کوشش کی۔ ان ناپاک عزائم کا مرکز بنیادی طور پر رام اللہ اور البیرہ گورنری رہی جہاں نو کوششیں کی گئیں جبکہ الخليل اور نابلس گورنریوں میں چھ کوششیں کی گئیں۔ جنين میں تین اور مقبوضہ بیت المقدس، بيت لحم نیز طوباس میں ہر ایک جگہ دو دو کوششیں کی گئیں۔ اس کے علاوہ طولكرم اور قلقيليہ میں ایک ایک کوشش کی گئی۔

فلسطینیوں کی 1629دونم اراضی پر غاصبانہ قبضہ

وال اینڈ سیٹلمنٹ ریزسٹنس کمیشن نے بتایا کہ قابض حکام نے اگست کے دوران درجنوں فوجی احکامات کی آڑ میں فلسطینیوں کی 1629 دونم زمین پر جبراً قبضہ کر لیا۔ ان میں سب سے نمایاں وہ ظالمانہ اعلانات تھے جنہیں نام نہاد ریاست کی اراضی کا نام دیا گیا اور اس کے ذریعے سنجل، مشرقی اللبن اور قريوت کی 1152 دونم زمین کو نشانہ بنایا گیا جبکہ ابو ديس اور عرب السواحرہ کی 370.28 دونم زمین بھی اس غاصبانہ قبضے کی بھینٹ چڑھ گئی۔

کمیشن نے اس بات کی نشاندہی کی کہ نام نہاد ریاست کی اراضی کے عنوان سے براہ راست اراضی ہتھیانے کا یہ گھناؤنا رقبہ اس ماہ کے دوران بڑھ کر 1628.5 دونم ہو گیا ہے اور واضح کیا کہ اس تازہ ترین اعلان سے المنطار بدوی برادری کا پورا جغرافیائی خطہ اور بقا شدید خطرے کی زد میں آ گئی ہے۔

قابض حکام نے ماہ اگست کے دوران نو ایسے کالے احکامات بھی صادر کیے جن کے تحت 106 دونم سے زائد زمین پر زبردستی قبضہ کیا گیا۔ ان میں بیتونيا کی37.481 دونم، طوباس کی 19.30 دونم، الجيب کی 15.580 دونم، البيرہ کی 15.342 دونم اور جبع کی11.970 دونم زمین کے علاوہ مرکہ، مردہ، جينصافوط اور اريحا کے علاقے بھی اس ظلم کی زد میں آئے۔

کمیشن نے مزید انکشاف کیا کہ قابض حکام نے نام نہاد سکیورٹی اقدامات کے نفاذ کے عنوان سے آٹھ دیگر احکامات بھی جاری کیے جن کے شکنجے میں تین 317.086 دونم وسیع رقبہ آیا۔ ان سفاکانہ احکامات کے تحت جنگلی پودوں کو صاف کرنے اور صدیوں پرانے زیتون کے درختوں کو جڑ سے اکھاڑنے کی کھلی چھوٹ دی گئی جن میں اکیلے جنين گورنری کے 310.868) دونم بھی شامل ہیں۔

کمیشن نے وضاحت کی کہ یہ وسیع رقبہ اگرچہ براہ راست ضبطی کے روایتی اعداد و شمار میں شامل نہیں ہے لیکن یہ زمین کے مالکان کے حقوق پر انتہائی ظالمانہ پابندی اور اس کی قدرتی فضا کو مسخ کرنے کی غمازی کرتا ہے۔ اس طرح ماہ اگست کے دوران قبضے کے احکامات، ریاست کی اراضی کے اعلانات اور سکیورٹی اقدامات کے ہتھکنڈوں سے نشانہ بننے والا کل رقبہ خوفناک حد تک بڑھ کر 1945.597 دونم تک جا پہنچا ہے۔

155 تنصیبات مسمار اور چوالیس ظالمانہ نوٹس جاری

وال اینڈ سیٹلمنٹ ریزسٹنس کمیشن نے بتایا کہ قابض حکام نے ماہ اگست کے دوران سفاکیت کا مظاہرہ کرتے ہوئے 71 مسماری کی کارروائیاں انجام دیں جن کے نتیجے میں 155 تنصیبات ملبے کا ڈھیر بن گئیں۔ یہ ظالمانہ کارروائیاں 47 آباد رہائش گاہوں، آٹھ غیر آباد رہائش گاہوں، 33 روزگار کے انمول ذرائع پر مشتمل تنصیبات، اکسٹھ 61 زرعی تنصیبات اور چھ دیگر تنصیبات کے خلاف کی گئیں۔

کمیشن نے اشارہ کیا کہ مسماری کے ان المناک ریکارڈز میں سرفہرست جنين گورنری رہی جہاں 29 تنصیبات کو خاکستر کیا گیا۔ اس کے بعد اريحا اور الخليل میں ہر ایک جگہ 24 تنصیبات، نابلس میں 21، رام اللہ اور البیرہ میں 16، مقبوضہ بیت المقدس میں 15 ، بيت لحم میں 13 ، طوباس میں نو ، طولكرم میں تین اور قلقيليہ میں ایک تنصیب کو ملبے کا ڈھیر بنا دیا گیا۔

کمیشن نے مزید بتایا کہ قابض حکام نے اس پورے مہینے کے دوران 44 ایسے ڈراؤنے نوٹس جاری کیے جن کا واحد ہدف فلسطینی تنصیبات اور املاک کو تہس نہس کرنا تھا۔ ان میں الخليل کے حصے میں 11 نوٹس آئے، مقبوضہ بیت المقدس اور بيت لحم میں آٹھ آٹھ نوٹس دیے گئے جبکہ جنين اور طولكرم میں پانچ پانچ نوٹس جاری کیے گئے۔

کمیشن نے واضح کیا کہ مسماری کی کارروائیوں سے کم از کم200 بے گناہ شہری براہ راست متاثر ہوئے جن میں75 معصوم بچے اور چھپن ،56 خواتین شامل ہیں۔

اگست کے دوران بارہ غاصبانہ منصوبے اور آباد کاری کی یلغار

کمیشن برائے امور اسیران نے انکشاف کیا کہ قابض حکام نے ماہ اگست کے دوران مغربی کنارے اور مقبوضہ بیت المقدس میں 12 خطرناک آبادکاری کے منصوبوں اور سکیموں کو عملی جامہ پہنانے کے لیے آگے بڑھایا جن میں چھ جمع کروائی گئی سکیمیں، چار منظور شدہ سکیمیں اور تعمیراتی ٹینڈرز سے متعلق دو منصوبے شامل ہیں۔

ان غاصبانہ اقدامات میں تین ہزار آٹھ سو انیس (3819) یہودی بستیوں کے ناپاک یونٹس شامل تھے جبکہ ان جمع کروائی گئی اور منظور شدہ سکیموں کا کل رقبہ پانچ ہزار چار سو بہتر اعشاریہ بائیس (5472.22) دونم تھا۔

ہیئت نے اس گھناؤنی سازش کی وضاحت کی کہ مغربی کنارے کے حصے میں نو (9) منصوبے آئے جن میں چار (4) جمع کروائی گئی سکیمیں شامل تھیں۔ ان میں اوجال، حنانيت، بساغوت اور جفعات زئيف کی غاصبانہ بستیوں میں چار سو چھہتر اعشاریہ چھ ایک آٹھ (476.618) دونم رقبے پر نو سو بارہ (912) یہودی بستیوں کے یونٹس شامل تھے۔

اس میں تین (3) منظور شدہ غاصبانہ سکیمیں بھی شامل تھیں جن میں چار ہزار آٹھ سو اکہتر اعشاریہ چار صفر دو (4871.402) دونم وسیع رقبے پر ایک سو چھپن (156) یونٹس شامل تھے۔ ان میں سب سے نمایاں مذموم منصوبہ تفوح چوراہے اور برطانوی پولیس چوراہے کے درمیان اٹھارہ کلومیٹر طویل اور چھیالیس تیاانوے (4693) دونم رقبے پر پھیلی سڑک نمبر ساٹھ کی ظالمانہ توسیع کا تھا۔

قابض حکام نے اٹھارہ سو اکسٹھ (1861) یہودی بستیوں کے یونٹس کی تعمیر کے لیے دو بڑے ٹینڈر بھی جاری کیے۔ ان میں کوخاف يعقوب میں چھ سو ستائیس (627) یونٹس اور انتہائی خطرناک ای ون کے علاقے میں بارہ سو چونتیس (1234) یونٹس شامل ہیں۔ اس طرح ای ون کے اس غاصبانہ منصوبے کو عملی نفاذ کے آخری مرحلے میں داخل کر دیا گیا ہے جس کا بنیادی اور خطرناک مقصد معالیہ ادومیم بستی کو مقبوضہ بیت المقدس کے ساتھ جوڑنا اور فلسطینیوں کے شمالی، وسطی اور جنوبی حصوں کے درمیان جغرافیائی رابطے کو ہمیشہ کے لیے کاٹنا ہے۔

مقبوضہ بیت المقدس کے اندر قابض حکام نے تین (3) بڑے آبادکاری کے منصوبوں کا ڈھول پیٹا جن میں دو (2) جمع کروائی گئی سکیمیں شامل ہیں۔ ان میں صور باهر کے مغربی داخلی راستے پر واقع نئی غاصبانہ بستی نوفي راحیل میں چھ سو پچاس (650) یونٹس اور جيلو میں دو سو چالیس (240) یونٹس شامل ہیں جو تیس اعشاریہ ایک سات چھ (30.176) دونم رقبے پر محیط ہیں۔

اس کے علاوہ جيلو کے جنوب میں چورانوے اعشاریہ صفر دو چار (94.024) دونم رقبے پر انفراسٹرکچر کے ایک اور تباہ کن منصوبے کی بھی منظوری دے دی گئی۔

کمیشن نے اس انتہائی تشویشناک امر پر زور دیا کہ آبادکاری کے ان یونٹس کے منصوبوں کا سڑکوں کے غاصبانہ منصوبوں، بنیادی ڈھانچے اور ای ون کے ٹینڈرز کے ساتھ بیک وقت ہونا اس بات کا غماز ہے کہ فلسطینی جغرافیے کو مٹانے اور یہودی بستیوں کے ٹکڑوں کو آپس میں جوڑنے کے لیے ایک جامع اور خطرناک راستہ اپنایا جا رہا ہے تاکہ فلسطینی بستیوں کو مکمل طور پر ٹکڑے ٹکڑے کر کے الگ تھلگ کر دیا جائے۔

Tags: forced displacementHuman RightsIsraeli AttacksIsraeli OccupationMiddle East ConflictPalestine NewsPalestinian DisplacementPalestinian TerritoriesSettler ViolenceWest Bank
ShareTweetSendSend

ٹوئیٹر پر فالو کریں

Follow @roznamaquds Tweets by roznamaquds

© 2019 Roznama Quds Developed By Team Roznama Quds.

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In
No Result
View All Result
  • Newsletter
  • صفحہ اول
  • صفحہ اول2

© 2019 Roznama Quds Developed By Team Roznama Quds.