• Newsletter
  • صفحہ اول
  • صفحہ اول2
جمعہ 6 نومبر 2026
  • Login
Roznama Quds | روزنامہ قدس
  • صفحہ اول
  • فلسطین
  • حماس
  • غزہ
  • پی ایل او
  • صیہونیزم
  • عالمی یوم القدس
  • عالمی خبریں
  • پاکستان
  • رپورٹس
  • مقالا جات
  • مکالمہ
No Result
View All Result
  • صفحہ اول
  • فلسطین
  • حماس
  • غزہ
  • پی ایل او
  • صیہونیزم
  • عالمی یوم القدس
  • عالمی خبریں
  • پاکستان
  • رپورٹس
  • مقالا جات
  • مکالمہ
No Result
View All Result
Roznama Quds | روزنامہ قدس
No Result
View All Result
Home خاص خبریں

قابض حکام کی پابندیاں، فلسطینیوں کے لیے زیتون کی فصل سمیٹنا دشوار

جمعہ 06-11-2026
in خاص خبریں, صیہونیزم, فلسطین
0
قابض حکام کی پابندیاں، فلسطینیوں کے لیے زیتون کی فصل سمیٹنا دشوار
0
SHARES
0
VIEWS

مقبوضہ مغربی کنارہ – (روزنامہ قدس ـ آنلائن خبر رساں ادارہ) مغربی کنارے میں زیتون کا موسم اب وہ موقع نہیں رہا جس کا فلسطینی باشندے اپنے درختوں کے پھل چننے اور نسل در نسل منتقل ہونے والی زمین کی یادوں کو تازہ کرنے کے لیے انتظار کرتے تھے، بلکہ قابض حکام اور یہودی آباد کاروں کے بڑھتے ہوئے حملوں کے سایہ میں یہ تعاقب، خوف، آگ لگانے اور چوری کے موسم میں تبدیل ہو چکا ہے، جہاں کسان اپنے پھل توڑنے کے آلات اٹھا کر زمین کی طرف نکلتا ہے تو اسے نہیں معلوم ہوتا کہ وہ اپنی فصل کے ساتھ واپس لوٹے گا یا ایک نئے زخم کے ساتھ، یا وہ ان درختوں کو پائے گا جو اسے اپنے آبا و اجداد سے ورثے میں ملے تھے کہ وہ آگ کی نذر ہو چکے ہیں یا ان کی جڑوں سے اکھاڑ دیے گئے ہیں۔

ایک ایسے منظر میں جو روزانہ دہرایا جاتا ہے، زیتون چننے والوں اور ان کی زمینوں پر حملے فلسطینی کہانی کا ایک حصہ بن چکے ہیں جو خلاف ورزیوں کے بوجھ تلے دبی ہوئی ہے، یہاں تک کہ روزانہ کے اعداد و شمار ایک ایسے سانحے کے کھلے ریکارڈ میں بدل گئے ہیں جس کے ابواب تجدید ہوتے رہتے ہیں اور یہ سب ایک ایسے بین الاقوامی سکوت کے درمیان ہو رہا ہے جو ان جرائم کے حجم تک نہیں پہنچتا جن کا کسانوں کو سامنا ہے۔

وال اینڈ سیٹلمنٹ ریزسٹنس کمیشن نے قابض افواج اور یہودی آباد کاروں کی طرف سے مغربی کنارے کے آٹھ اضلاع میں زیتون چننے والوں اور ان کی زمینوں کے خلاف صبح چھ بجے سے شام چھ بجے تک صرف 12 گھنٹوں کے دوران 13 حملوں کی نگرانی کی۔

ان حملوں میں کسانوں کو مار پیٹ اور پیپر اسپرے سے زخمی کرنا، شہریوں کو خوفزدہ کرنے کے لیے برارہ راست گولیاں چلانا، درجنوں قدیم زیتون کے درختوں کو نظرِ آتش کرنا، فصلوں کے سامان کی چوری، اس کے ساتھ ساتھ زرعی زمینوں کو بلڈوز کرنا، درختوں کو اکھاڑنا اور کسانوں کو حراست میں لے کر انہیں ان کی زمینوں تک پہنچنے سے روکنا شامل تھا۔

کسانوں کی مار پیٹ اور درختوں کو آگ لگانا

سلفیت گورنری میں یہودی آباد کاروں کے ایک بڑے گروہ نے ضلع کے شمال مغرب میں دير استيا اور قراوہ بني حسان کے قصبوں کے درمیان واد عباس اور الواد القبلی کے علاقوں میں زیتون چننے والوں پر حملہ کیا، ان پر لاٹھیوں سے تشدد کیا اور ان کی طرف پیپر اسپرے چھڑکا، جس کے نتیجے میں تین فلسطینی چوٹیں آنے سے زخمی ہو گئے۔

مقبوضہ بیت المقدس میں قابض فوج نے شہر کے شمال مغرب میں واقع قصبے بيت کسا پر چھاپہ مارا اور قصبے کے داخلے پر قائم عسکری چیک پوسٹ کے ارد گرد زمینوں کو بلڈوز کرنے اور درختوں کو اکھاڑنے کی کارروائی کی، جو زرعی زمینوں کو نشانہ بنانے اور ان کے مالکان کی ان تک رسائی کو محدود کرنے کا ایک نیا حملہ ہے۔

الخلیل میں قابض افواج نے يطا کے مشرق میں خلہ عمیرہ کے علاقے میں زیتون چنتے وقت العدرہ خاندان کے افراد کو حراست میں لے لیا اور انہیں اپنے زرعی کاموں کو جاری رکھنے سے روک دیا، جبکہ مسلح یہودی آباد کاروں نے طولکرم کے مشرق میں رامین کے میدان میں زیتون چننے والوں پر اس وقت حملہ کر دیا جب وہ رکشہ قسم کی تین گاڑیوں پر سوار ہو کر آئے اور انہوں نے فصل، سامان اور زرعی ترپالیں چوری کرنے کی کوشش کی۔

یہ واقعات دوسرے اضلاع میں ریکارڈ کیے گئے حملوں کے ساتھ ساتھ اس نشانہ بنانے کے دائرہ کار کی وسعت کو ظاہر کرتے ہیں جو ایک سے زائد علاقوں میں کسانوں کا تعاقب کر رہا ہے، اور ان کی اپنی زمینوں تک پہنچنے اور زیتون کے موسم سے فائدہ اٹھانے کی صلاحیت کو خطرے میں ڈال رہا ہے۔

زمین، یادداشت اور روزی کے ذرائع پر جنگ

ان حملوں کی سنگینی صرف ان براہ راست نقصانات پر ختم نہیں ہوتی جو کسانوں اور ان کی فصلوں کو پہنچتے ہیں، کیونکہ فلسطینی وجدان میں زیتون کا درخت صرف روزی کا ذریعہ نہیں ہے، بلکہ یہ زمین کے ساتھ تاریخی تعلق اور انسان اور اس کی جگہ کے درمیان ایک متوارث رشتے کی توسیع کو ظاہر کرتا ہے اور قدیم درخت ان خاندانوں اور نسلوں کی یادداشت کو اپنے اندر سمیٹے ہوئے ہیں جنہوں نے ایک کے بعد دوسرے اس کی کاشت اور دیکھ بھال کی۔

اسی بنا پر درختوں کو جلانا، انہیں اکھاڑنا، زمینوں کو بلڈوز کرنا اور فصلوں کو چوری کرنا صرف ایک زرعی موسم پر حملہ نہیں ہے، بلکہ یہ ان خاندانوں کی اقتصادی اور سماجی زندگی کے مقومات پر ضرب لگاتا ہے جو اپنی سالانہ ضروریات کو پورا کرنے کے لیے زیتون اور اس کے تیل پر انحصار کرتے ہیں۔

نقصانات اس وقت دوگنے ہو جاتے ہیں جب کسان کو دیکھ بھال اور انتظار کے ایک پورے سال کے بعد اپنی زمین تک پہنچنے سے محروم کر دیا جاتا ہے، یا وہ اپنے ان درختوں کو کھو دیتا ہے جنہیں تلافی کرنے اور دوبارہ پیداوار پر لانے کے لیے طویل سالوں کی ضرورت ہوتی ہے، جو ان حملوں کو زمین کے مستقبل اور اس کے مالکان کی روزی کے ذرائع کے خلاف ایک حملہ بناتا ہے۔

اعداد و شمار دہرائے جا رہے ہیں اور دنیا صرف دیکھ رہی ہے

ایک حصار اور دوسرے کے درمیان وہی کہانی دہرائی جاتی ہے، ایک کسان جو اپنی زمین تک پہنچنے کی کوشش کرتا ہے اور ایک مسلح یہودی آباد کار جو اس کا تعاقب کرتا ہے اور وہ درخت جو حملے کی قیمت چکاتے ہیں اور وہ خاندان جو اپنی روزی کا ایک حصہ کھو دیتے ہیں، جبکہ دستاویزات کی کارروائیاں جاری رہتی ہیں بغیر اس کے کہ ان کے مقابلے میں کوئی موثر بین الاقوامی تحرک آئے جو فلسطینیوں کو تحفظ فراہم کرے اور ان خلاف ورزیوں کا خاتمہ کرے۔

زیتون کے موسم کا سانحہ اب صرف حملوں کی تعداد میں نہیں رہا، بلکہ اس کے ایک روزمرہ کی حقیقت میں بدلنے میں ہے جو کسانوں کی زندگیوں کو خطرے میں ڈالتی ہے، اور اپنی زمین کی کاشت کرنے اور اپنی فصلیں چننے کے ان کے طبیعی حق کے استعمال کو خطرات سے گھرا ہوا بناتی ہے، جن میں حملوں کا تسلسل اور محاسبے کا فقدان شامل ہے۔

اس طرح مغربی کنارے میں زیتون کا موسم اب صرف پھل چننے کا موسم نہیں رہا، بلکہ زمین، درختوں اور زندگی کے مقومات کی حفاظت کے لیے ایک روزمرہ کی جنگ بن چکا ہے، اور فلسطینی انسان کو اس کی روزی، اس کے وجود اور اس کی زمین کے ساتھ تعلق کے حوالے سے نشانہ بنانے کی ایک نئی شہادت ہے۔

فلسطین میں اب کسان کا ہاتھ صرف زیتون کی شاخ تک نہیں پھیلتا، بلکہ اس پر لازم ہو چکا ہے کہ وہ درخت کو آگ سے بچائے، فصل کو چوری سے، اپنی زمین کو حملے سے اور اپنی زندگی کو یہودی آباد کاروں کی سفاکیت سے بچائے، جبکہ دنیا صرف خلاف ورزیوں کو شمار کرنے اور اگلے دن کی حصار کا انتظار کرنے پر اکتفا کرتی ہے۔

Tags: IsraeliOccupationIsraeliSettlersOliveHarvestOliveTreesPalestinianFarmersSettlerAttackswestbank
ShareTweetSendSend

ٹوئیٹر پر فالو کریں

Follow @roznamaquds Tweets by roznamaquds

© 2019 Roznama Quds Developed By Team Roznama Quds.

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In
No Result
View All Result
  • Newsletter
  • صفحہ اول
  • صفحہ اول2

© 2019 Roznama Quds Developed By Team Roznama Quds.