• Newsletter
  • صفحہ اول
  • صفحہ اول2
ہفتہ 26 ستمبر 2026
  • Login
Roznama Quds | روزنامہ قدس
  • صفحہ اول
  • فلسطین
  • حماس
  • غزہ
  • پی ایل او
  • صیہونیزم
  • عالمی یوم القدس
  • عالمی خبریں
  • پاکستان
  • رپورٹس
  • مقالا جات
  • مکالمہ
No Result
View All Result
  • صفحہ اول
  • فلسطین
  • حماس
  • غزہ
  • پی ایل او
  • صیہونیزم
  • عالمی یوم القدس
  • عالمی خبریں
  • پاکستان
  • رپورٹس
  • مقالا جات
  • مکالمہ
No Result
View All Result
Roznama Quds | روزنامہ قدس
No Result
View All Result
Home خاص خبریں

عالمی فوج داری عدالت میں فلسطینی اسیران سے متعلق نئے شواہد پیش کر دیے گئے

جنگی جرائم اور انسانیت کے خلاف جرائم کے مقدمات میں فلسطینی متاثرین کی نمائندگی کرنے والے وکلاء کے ایک وفد نے دی ہیگ میں قائم بین الاقوامی فوجداری عدالت کے پراسیکیوٹر کے دفتر میں نئے کوائف اور شواهد پیش کیے۔

ہفتہ 26-09-2026
in خاص خبریں, عالمی خبریں, فلسطین
0
عالمی فوج داری عدالت میں فلسطینی اسیران سے متعلق نئے شواہد پیش کر دیے گئے
0
SHARES
4
VIEWS

واشنگٹن – (روزنامہ قدس – آنلائن خبر رساں ادارہ) جنگی جرائم اور انسانیت کے خلاف جرائم کے مقدمات میں فلسطینی متاثرین کی نمائندگی کرنے والے وکلاء کے ایک وفد نے دی ہیگ میں قائم بین الاقوامی فوجداری عدالت کے پراسیکیوٹر کے دفتر میں نئے کوائف اور شواهد پیش کیے، جن کا مقصد قابض صہیونی عقوبت خانوں میں فلسطینی اسیران اور نظر بندوں سے متعلق جاری تحقیقات کی حمایت کرنا ہے۔

ہیگ میں الجزیرہ کے نامہ نگار عبد اللہ الشامی کے مطابق وفد نے عدالت کو ایسے بین الاقوامی انسانی قانون کی سنگین خلاف ورزیوں کی دستاویزات حوالے کیں جن کے بارے میں ان کا کہنا ہے کہ یہ اسیران اور نظر بند فلسطینیوں کو درپیش زیادتیوں پر احتساب کے حصول کی کوششوں کا حصہ ہیں۔

الشامی نے وضاحت کی کہ عدالت کے اس دورے میں نئے پراسیکیوٹر اور ان کی ٹیم کے ساتھ ایک میٹنگ بھی شامل تھی، جو مقبوضہ فلسطینی سرزمین کی صورتحال پر تحقیقات کو آگے بڑھا رہے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ قانونی ٹیم کے ارکان نے اس ملاقات کے دوران عدالت کی جانب سے فلسطینی فائل پر تحقیقات کا سلسلہ جاری رکھنے کی گہری خواہش محسوس کی، جس کا آغاز سابق پراسیکیوٹر کریم خان نے کیا تھا۔

انہوں نے اشارہ کیا کہ وفد نے نئے پراسیکیوٹر کے دفتر کو ایسے مستند شواهد اور گواہیاں سونپی ہیں جو صرف اسیران اور نظر بندوں کے اہل خانہ تک محدود نہیں ہیں، بلکہ ان میں غزہ پٹی پر قابض اسرائیل کی جنگ کے دوران شہید ہونے والے فلسطینی رشتہ داروں کے بیانات بھی شامل ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ ان دستاویزات میں ایسے متاثرین کے اقارب کے بیانات شامل ہیں جن کی لاشیں گذشتہ ہفتوں کے دوران غزہ پٹی میں نکالی گئیں اور دفنائی گئیں، اس کے علاوہ یہ وہ بیانات ہیں جو قانونی ٹیم نے متاثرین اور نظر بندوں کے اہل خانہ سے میدان میں جا کر جمع کیے۔

اس قانونی اقدام کو متعدد یورپی اداروں کی حمایت حاصل ہے جنہوں نے قانونی عملے میں اپنی نمائندگی پر رضامندی ظاہر کی ہے، جبکہ اس کے ساتھ اسیران اور انسانی حقوق کے شعبے میں کام کرنے والے فلسطینی اداروں کی تائید بھی شامل ہے۔

یہ قدم فلسطینی فائل سے متعلق بین الاقوامی عدالتی راستے کے سیاق و سباق میں اٹھایا گیا ہے، خصوصاً اس کے بعد جب بین الاقوامی فوجداری عدالت نے 21 نومبر سنہ 2024ء کو غزہ پٹی میں فلسطینیوں کے خلاف جنگی جرائم اور انسانیت کے خلاف جرائم کے ارتکاب کے الزامات کے تحت قابض اسرائیل کے وزیراعظم اور جنگی مجرم بنجمن نتن یاھو کے خلاف گرفتاری کا وارنٹ جاری کیا تھا۔

رہائی پانے والے اسیران کی گواہیاں

شواهد کی پیشکش کا یہ واقعہ قابض افواج کی طرف سے رہا کیے جانے والے فلسطینی اسیران کی نئی گواہیوں کے ساتھ سامنے آیا ہے، جنہوں نے عقوبت خانوں کے اندر اسیری کے حالات اور اسیران کی بگڑتی ہوئی صورتحال پر کھل کر بات کی۔

انتظامی اسیری کے تحت بغیر کسی الزام یا مقدمے کے خفیہ فائل کی بنیاد پر 2 سال قید کاٹنے کے بعد قابض افواج نے گذشتہ اتوار کو رام الله کے شمال مغرب میں واقع قصبے قراوہ بنی زيد سے تعلق رکھنے والے لؤی عرار کو رہا کیا، جنہوں نے اسیری کے ان حالات کا ذکر کیا جن کے بارے میں انہوں نے تصدیق کی کہ وہ ان کی زندگی کے ان 10 برسوں کی سختیوں سے بھی بڑھ کر تھے جو انہوں نے اسرائیلی جیلوں میں گزارے تھے۔

عرار نے الجزیرہ کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اسیران کے حالات کو اس ایک جملے میں سمویا جا سکتا ہے کہ وہاں کھانا ہے اور نہ علاج۔

رہائی پانے والے اسیر نے اس واقعے کو یاد کیا جب ان کے ساتھ کمرے میں موجود ایک اسیر کو شدید طبی خرابی کا سامنا کرنا پڑا، جس کے دوران وہ خون کی الٹیاں کرنے لگا اور مدد کی پکار لگانے لگا۔ جب اسیران نے جیل انتظامیہ سے علاج کی درخواست کے لیے کمرے کا دروازہ کھٹکھٹایا تو ان کا کہنا تھا کہ انتظامیہ کی طرف سے یہ جواب ملا کہ مرنے کے بعد ہمیں بتانا اور جب وہ مر جائے گا تو ہم ڈاکٹر کو بلا لیں گے۔

فلسطینی انسانی حقوق کی رپورٹس کے مطابق اس وقت اسرائیلی جیلوں میں تقریباً 9500 فلسطینی اسیران قید ہیں، جن م 94 خواتین اسیران اور 350 سے زائد بچے بھی شامل ہیں۔

سنہ 2022ء کے آخر میں عہدہ سنبھالنے کے بعد سے قابض اسرائیل کے وزیرِ سکیورٹی ایتمار بن گویر نے فلسطینی اسیران کے اسیری کے حالات کو مزید سخت بنانے کے لیے اقدامات نافذ کیے، جن میں ان کے معیارِ زندگی اور دی جانے والی خدمات میں کٹوتی کرنا شامل ہے، جبکہ انسانی حقوق کے ادارے ان پر بھوک، طبی غفلت، تنہائی اور تشدد کی پالیسیاں اپنانے کے الزامات عائد کرتے ہیں۔

Tags: #WarCrimesICCInternationalCriminalCourtIsraeliPrisonspalestinePalestineNewsPalestinianDetaineesPalestinianPrisonersPalestinianRightsPrisonerAbuse
ShareTweetSendSend

ٹوئیٹر پر فالو کریں

Follow @roznamaquds Tweets by roznamaquds

© 2019 Roznama Quds Developed By Team Roznama Quds.

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In
No Result
View All Result
  • Newsletter
  • صفحہ اول
  • صفحہ اول2

© 2019 Roznama Quds Developed By Team Roznama Quds.