غزہ -(روزنامہ قدس ـ آنلائن خبر رساں ادارہ) قابض اسرائیلی حکومت کے وزیراعظم بنجمن نیتن یاھو نے اعلان کیا ہے کہ قابض اسرائیل اس وقت غزہ کی پٹی کے تقریباً 60 فیصد رقبے پر کنٹرول حاصل کر چکا ہے۔ اس نے اشارہ کیا کہ ان کی ہدایات کے مطابق اس تسلط کو بڑھا کر 70 فیصد تک پہنچایا جائے گا۔ یہ اقدام محصور پٹی کے اندر ایک نئے فوجی اور جغرافیائی واقعے کو مستقل شکل دینے کی بڑھتی ہوئی صہیونی پالیسی کو ظاہر کرتا ہے۔
بنجمن نیتن یاھو کے یہ بیانات ایک ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب غزہ کی پٹی پر قابض اسرائیل کی وحشیانہ فوجی جارحیت بدستور جاری ہے اور اس کے ساتھ ہی زمینی تسلط کے دائرے کو وسیع کیا جا رہا ہے۔ اس سفاکیت کے تحت شہریوں کی نقل و حرکت پر سخت ترین پابندیاں عائد کی جا رہی ہیں تاکہ ایک ایسی اسکیم پر عمل کیا جا سکے جس کا مقصد فلسطینیوں کے لیے دستیاب جگہ کو کم کر کے اور انہیں تنگ و گنجان آباد علاقوں میں محصور کر کے پٹی کا جغرافیائی اور آبادیاتی نقشہ دوبارہ تیار کرنا ہے۔
گذشتہ مہینوں کے دوران قابض دشمن کی فوج نے غزہ کی پٹی کے اندر بفر زون اور فاصلاتی لکیریں بنانے کاعمل تیز کر دیا ہے جن میں نام نہاد "پیلی لکیر” اور "نارنجی لکیر” شامل ہیں۔ یہ لکیریں عارضی فوجی اقدامات سے بدل کر اب حقیقی زمینی سرحدوں کی شکل اختیار کر چکی ہیں جو شہریوں کی آمد و رفت پر وسیع پابندیاں عائد کرتی ہیں اور پناہ گزینوں کو اپنے علاقوں خصوصاً غزہ کی پٹی کے شمال اور مشرق میں واپس آنے سے روکتی ہیں۔
اقوامِ متحدہ اور انسانی حقوق کی رپورٹس نے پہلے ہی خبردار کیا تھا کہ ان اقدامات کے نتیجے میں عملی طور پر غزہ کی پٹی کے باسیوں کے لیے دستیاب جگہ سکڑ کر پٹی کے کل رقبے کے نصف سے بھی کم رہ گئی ہے۔ یہ سب کچھ مسلسل بمباری، فوجی چڑھائی اور تعمیرِ نو پر پابندی کے سائے میں ہو رہا ہے جس نے انسانی بحران کو شدید تر کر دیا ہے اور لاکھوں فلسطینیوں کو ایسے عارضی پناہ گزین کیمپوں اور مراکز میں پناہ لینے پر مجبور کر دیا ہے جو زندگی کی ادنیٰ ترین سہولیات سے بھی یکسر محروم ہیں۔
میدانی صورتحال کی بات کی جائے تو آج جمعرات کے روز ایک فلسطینی شہری ان شدید زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے جامِ شہادت نوش کر گیا جو اسے دو دن قبل وسطی غزہ کی پٹی کو نشانہ بنانے والی اسرائیلی بمباری کے نتیجے میں آئے تھے۔ دوسری طرف پٹی کے شمال میں واقع قصبے بیت لاہیا کے مغرب میں السلاطین کے علاقے میں قابض افواج کی فائرنگ سے متعدد دیگر شہری زخمی ہو گئے۔
اسی طرح بدھ کی شام غزہ شہر کو نشانہ بنانے والی اسرائیلی بمباری کے شہدا کی تعداد ملبے کے نیچے سے مزید لاشیں نکالنے کے بعد بڑھ کر 10 ہو گئی ہے جبکہ پٹی کے متفرق علاقوں پر فضائی حملوں اور توپ خانے کی گولہ باری کا سلسلہ بدستور جاری ہے۔
قابض فوج غزہ کی پٹی کے مختلف حصوں پر اپنی شدید بمباری کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہے جبکہ تباہی کے پھیلاؤ اور سویلین شہدا کی تعداد میں اضافے کے ساتھ انسانی بحران بدترین شکل اختیار کر چکا ہے۔ زمین پر بتدریج قبضے کی اس بڑھتی ہوئی پالیسی کا مقصد پٹی میں مستقل حقائق مسلط کرنا ہے جبکہ دوسری طرف سیز فائر اور تعمیرِ نو کی کوششیں اب تک تعطل کا شکار ہیں۔