• Newsletter
  • صفحہ اول
  • صفحہ اول2
بدھ 9 ستمبر 2026
  • Login
Roznama Quds | روزنامہ قدس
  • صفحہ اول
  • فلسطین
  • حماس
  • غزہ
  • پی ایل او
  • صیہونیزم
  • عالمی یوم القدس
  • عالمی خبریں
  • پاکستان
  • رپورٹس
  • مقالا جات
  • مکالمہ
No Result
View All Result
  • صفحہ اول
  • فلسطین
  • حماس
  • غزہ
  • پی ایل او
  • صیہونیزم
  • عالمی یوم القدس
  • عالمی خبریں
  • پاکستان
  • رپورٹس
  • مقالا جات
  • مکالمہ
No Result
View All Result
Roznama Quds | روزنامہ قدس
No Result
View All Result
Home خاص خبریں

نتین یاہو کے حامی صیہونی آبادکار، کل کے اتحادی آج کا دردِ سر

انتہا پسند آبادکاروں کی تحریک اور انتہائی دائیں بازو کی جماعتیں، جو گزشتہ برسوں کے دوران ان کی سیاسی قوت کا ایک اہم ستون بن چکی تھیں، آج مغربی کنارے میں بڑھتے ہوئے تشدد کے باعث صہیونی حکومت کے وزیرِاعظم کے لیے اندرونِ ملک اور بیرونِ ملک دباؤ کے سنگین ترین ذرائع میں تبدیل ہوگئی ہیں۔

بدھ 09-09-2026
in خاص خبریں, مقالا جات
0
نتین یاہو کے حامی صیہونی آبادکار، کل کے اتحادی آج کا دردِ سر
0
SHARES
0
VIEWS

(روزنامہ قدس ـ آنلائن خبر رساں ادارہ) بنیامین نیتن یاہو اس وقت اپنی وزارتِ عظمیٰ کے دور کے ایک پیچیدہ ترین سیاسی تضاد کا سامنا کر رہے ہیں۔ انتہا پسند آبادکاروں کی تحریک اور انتہائی دائیں بازو کی جماعتیں، جو گزشتہ برسوں کے دوران ان کی سیاسی قوت کا ایک اہم ستون بن چکی تھیں، آج مغربی کنارے میں بڑھتے ہوئے تشدد کے باعث صہیونی حکومت کے وزیرِاعظم کے لیے اندرونِ ملک اور بیرونِ ملک دباؤ کے سنگین ترین ذرائع میں تبدیل ہوگئی ہیں۔ حالیہ ہفتوں کے دوران مغربی کنارے میں فلسطینیوں کے خلاف اسرائیلی آبادکاروں کے تشدد میں شدت آئی ہے اور اس صورتحال پر امریکی اور یورپی حکام کی جانب سے بھی سخت ردعمل سامنے آیا ہے۔

اسی دوران امریکہ کے 45 ڈیموکریٹ سینیٹرز نے نیتن یاہو کے نام ایک خط میں آبادکاروں کے تشدد کے خلاف کارروائی اور امریکی شہریوں کی ہلاکت کے واقعات کی تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔ یہ دباؤ ایسے وقت میں بڑھ رہا ہے جب صہیونی حکومت کے پارلیمانی انتخابات اکتوبر 2026 میں ہونے والے ہیں اور نیتن یاہو کو اقتدار برقرار رکھنے کے لیے اسی انتہائی دائیں بازو کے دھڑے کی حمایت درکار ہے۔

اتحادی جو دردِ سر بن گئے:
نیتن یاہو نے 2022 میں دوبارہ اقتدار میں واپسی کے بعد مخلوط حکومت تشکیل دینے کے لیے انتہائی دائیں بازو اور مذہبی جماعتوں پر انحصار کیا۔ ایتامار بن گویر اور بتسلئیل اسموتریچ جیسی شخصیات، جن کے آبادکاروں کے دھڑے کے ساتھ قریبی سیاسی اور نظریاتی روابط ہیں، نیتن یاہو کے اتحاد کے بنیادی ستون بن گئے۔ اسی دوران نیتن یاہو کی کابینہ نے بھی مغربی کنارے میں یہودی بستیوں کی توسیع کی پالیسی کو بے مثال سطح تک وسعت دی۔ ہیومن رائٹس واچ کی ایک رپورٹ کے مطابق، دسمبر 2022 میں موجودہ کابینہ کے اقتدار میں آنے کے بعد سے آبادکاروں کے تشدد میں نمایاں اضافہ ہوا ہے اور 2026 میں ان کے حملے بے مثال سطح تک پہنچ گئے ہیں۔

درحقیقت، نیتن یاہو گزشتہ برسوں کے دوران اس سیاسی دھڑے کے قریب اس لیے ہوئے تاکہ اپنے دائیں بازو کے اتحاد کو برقرار رکھ سکیں، لیکن اب یہی اتحادی ان کے لیے بھاری سیاسی قیمت کا باعث بن رہے ہیں۔ کیونکہ نیتن یاہو کا مسئلہ صرف آبادکاروں کے دہشت گردانہ اقدامات نہیں بلکہ ان اقدامات کے بین الاقوامی اثرات بھی ہیں۔ فلسطینی دیہاتوں پر آبادکاروں کے حملوں، گھروں اور زرعی زمینوں کو نذرِ آتش کرنے اور فلسطینیوں پر تشدد کی تصاویر پہلے سے کہیں زیادہ عالمی میڈیا میں نمایاں ہو رہی ہیں۔

ہیومن رائٹس واچ کے مطابق، جنوری 2023 سے آبادکاروں کے حملوں کے نتیجے میں 107 فلسطینی آبادیوں کے مکین مکمل یا جزوی طور پر بے گھر ہو چکے ہیں۔ حالیہ پیش رفت میں امریکہ نے بھی آبادکاروں کے حوالے سے غیر معمولی سخت لہجہ اختیار کیا ہے۔ صہیونی حکومت میں امریکی سفیر مائیک ہکابی نے بعض انتہا پسند آبادکاروں کو ’’دہشت گرد‘‘ قرار دیا ہے، جس سے نیتن یاہو کی کابینہ پر سیاسی دباؤ مزید بڑھ گیا ہے۔

اسی دوران فرانس، برطانیہ، جرمنی، اٹلی، ناروے اور نیدرلینڈز نے بھی یہودی بستیوں کی توسیع اور مغربی کنارے میں جاری تشدد کے حوالے سے خبردار کیا ہے اور نام نہاد ’’ای-1‘‘ (E1) علاقے میں بستیوں کی توسیع کے منصوبے کو ناقابلِ قبول قرار دیا ہے۔ چنانچہ نیتن یاہو اس وقت ایک مشکل سیاسی معادلے کا سامنا کر رہے ہیں۔ ایک طرف وہ انتہائی دائیں بازو کے آبادکاروں سے آسانی سے فاصلہ اختیار نہیں کرسکتے، جبکہ دوسری جانب ان کے اقدامات کی مسلسل حمایت صہیونی حکومت اور نیتن یاہو کی کابینہ کے لیے بین الاقوامی سطح پر سیاسی قیمت میں اضافہ کر رہی ہے۔

نیتن یاہو بن گویر اور آبادکاروں سے مکمل فاصلہ کیوں نہیں اختیار کرتے؟
نیتن یاہو کو اپنی آئندہ حکومت تشکیل دینے کے لیے دائیں بازو کے اتحاد کی ضرورت ہے اور انتہائی دائیں بازو کی جماعتوں کے ووٹوں میں کسی بھی قسم کی کمی ان کے لیے اگلی حکومت تشکیل دینا مشکل بنا سکتی ہے۔ حالیہ انتخابی جائزے بھی ظاہر کرتے ہیں کہ مذہبی دائیں بازو کے اتحاد کی کامیابی نیتن یاہو کے سیاسی مستقبل کے لیے انتہائی اہم ہے۔ اس تناظر میں بن گویر اور آبادکاروں کا دھڑا نیتن یاہو کے لیے محض ایک نظریاتی گروہ نہیں، بلکہ ان کی انتخابی مشینری اور سیاسی اتحاد کا اہم حصہ ہے۔

اسی وجہ سے آبادکاروں کے تشدد کے حوالے سے نیتن یاہو کا ردعمل، کم از کم بہت سے معاملات میں، اسرائیل کے اندر اور بیرونِ ملک ناقدین کی توقعات کے مقابلے میں انتہائی محدود رہا ہے۔ انہوں نے حال ہی میں آبادکاروں کے تشدد کی مذمت کی، لیکن ساتھ ہی یہ تاثر دینے کی کوشش بھی کی کہ ’’قانون کی پابندی کرنے والے آبادکاروں کی اکثریت‘‘ اور ’’انتہا پسندوں کے ایک چھوٹے سے گروہ‘‘ میں فرق کیا جانا چاہیے۔ یہ طرزِ بیان نیتن یاہو کو یہ موقع فراہم کرتا ہے کہ وہ ایک طرف عالمی رائے عامہ کو اپنا پیغام پہنچائیں اور دوسری جانب انتہائی دائیں بازو کے ساتھ اپنے سیاسی پل مکمل طور پر منہدم ہونے سے بھی بچائیں۔

نیتن یاہو زوال کے دہانے پر:
نیتن یاہو اس وقت دو متضاد خطرات سے دوچار ہیں۔ اگر وہ انتہائی دائیں بازو کے آبادکاروں کے بہت زیادہ قریب ہوجاتے ہیں تو صہیونی حکومت کے خلاف بین الاقوامی دباؤ میں اضافہ ہوگا اور حتیٰ کہ تل ابیب کے مغربی اتحادیوں کے ساتھ تعلقات بھی متاثر ہوسکتے ہیں۔ لیکن اگر وہ ان سے حد سے زیادہ فاصلہ اختیار کرتے ہیں تو اپنا سیاسی اتحاد کھو سکتے ہیں۔ یہ معاملہ اس وقت مزید اہم ہوجاتا ہے جب یہ حقیقت سامنے ہو کہ نیتن یاہو کے حریف بھی آبادکاروں کے بڑھتے ہوئے تشدد کو حکومت کے خلاف سیاسی حملوں کے لیے استعمال کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

نیتن یاہو کے اہم مخالف رہنماؤں میں شامل گادی آئزن کوٹ نے حال ہی میں آبادکاروں کے تشدد میں اضافے پر اسموتریچ اور بن گویر کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ دوسری جانب دائیں بازو کے کیمپ میں بھی بحران سنگین ہوتا جارہا ہے۔ رائٹرز نے رپورٹ کیا ہے کہ اسموتریچ کو اپنی سیاسی پوزیشن برقرار رکھنے کے لیے انتخابی مشکلات کا سامنا ہے، جبکہ نیتن یاہو کو پارلیمان میں دائیں بازو کی اکثریت برقرار رکھنے کے لیے ایک ایک نشست کی ضرورت ہوگی۔

درحقیقت نیتن یاہو انتہائی دائیں بازو کے آبادکاروں کو مکمل طور پر نظرانداز نہیں کرسکتے، کیونکہ اس کے نتیجے میں صہیونی حکومت کے دائیں بازو اور مذہبی کیمپ کا ایک اہم حصہ ان سے دور ہوجائے گا۔ دوسری جانب وہ ان کے اقدامات کا غیر مشروط دفاع بھی نہیں کرسکتے، کیونکہ آبادکاروں کا تشدد اب صہیونی حکومت کے خلاف بڑھتے ہوئے بین الاقوامی دباؤ کے بنیادی عوامل میں شامل ہوچکا ہے۔

اسی لیے آبادکاروں کے حوالے سے نیتن یاہو کی پالیسی کو ’’رسی پر چلنے‘‘ سے تعبیر کیا جاسکتا ہے؛ یعنی عالمی رائے عامہ کو مطمئن کرنے اور مغربی اتحادیوں کے ساتھ تعلقات برقرار رکھنے کے لیے محدود مذمت، لیکن بن گویر اور آبادکاروں کے دھڑے کے ساتھ کسی سنجیدہ محاذ آرائی سے گریز تاکہ دائیں بازو کا اتحاد بکھرنے سے بچایا جاسکے۔ حقیقت میں نیتن یاہو کا بنیادی مسئلہ یہ ہے کہ انتہائی دائیں بازو کے آبادکار کبھی ان کے لیے اقتدار برقرار رکھنے کا ایک ذریعہ تھے، لیکن اب وہ ان کی طاقت کے لیے خطرات میں تبدیل ہوگئے ہیں۔ انتخابات قریب آتے ہی صہیونی حکومت کے وزیرِاعظم کو انتہائی دائیں بازو کے اتحادیوں کو برقرار رکھنے اور آبادکاری کی پالیسی کی بین الاقوامی قیمت کم کرنے میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنا ہوگا؛ ایسا انتخاب جس کے دونوں راستے ان کے سیاسی مستقبل کے لیے مہنگے ثابت ہوسکتے ہیں اور حتیٰ کہ صہیونی سیاسی منظرنامے میں ان کے زوال کا سبب بھی بن سکتے ہیں۔

Tags: israelIsraeli politicsIsraeli SettlersNetanyahuSettler MovementSettler Violence
ShareTweetSendSend

ٹوئیٹر پر فالو کریں

Follow @roznamaquds Tweets by roznamaquds

© 2019 Roznama Quds Developed By Team Roznama Quds.

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In
No Result
View All Result
  • Newsletter
  • صفحہ اول
  • صفحہ اول2

© 2019 Roznama Quds Developed By Team Roznama Quds.