ابو ظہبی – (روزنامہ قدس ـ آنلائن خبر رساں ادارہ) ایک انتہائی خفیہ اور برق رفتار دورے کے دوران قابض اسرائیلی حکومت کا سربراہ بنیامن نتن یاھو اتوار کے روز متحدہ عرب امارات کے دارالحکومت ابوظبی پہنچا، جہاں اس نے اماراتی صدر محمد بن زاید سے ملاقات کی۔ یہ ایک ایسی ملاقات ہے جس کی تفصیلات منظر عام پر نہیں لائی گئیں اور اس دورے کے محرکات اور وقت کے حوالے سے سوالات پیدا ہو گئے ہیں، بالخصوص اس لیے کہ یہ دورہ اسرائیلی انتخابات سے تقریبا ایک ماہ قبل ہو رہا ہے۔
عبرانی چینل 12 نے انکشاف کیا کہ نتن یاھو اتوار کی صبح ایک نجی طیارے پر سوار ہو کر امارات روانہ ہوا، اور سارا دن وہیں رہا، اس کے بعد وہ شام کو ’’قابض اسرائیل‘‘ واپس آگیا۔ اس نے اس بات کی تصدیق کی کہ دورہ خفیہ طور پر انجام پایا، نتن یاھو اور ان کے عملے نے کئی نجی طیاروں کا استعمال کیا۔
چینل کے مطابق دورے کا بیشتر حصہ نتن یاھو اور محمد بن زاید کے درمیان تنہا ئی میں ہونے والی گفت و شنید کے لیے وقف کیا گیا، جبکہ قابض حکومت کے سربراہ کے دفتر نے ملاقات کے مشمولات یا اس کے مقاصد کے بارے میں تفصیلات فراہم کرنے سے انکار کر دیا۔
یہ دورہ نیویارک سے نتن یاھو کی واپسی کے محض دو دن بعد سامنے آیا ہے، جہاں اس نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاسوں میں شرکت کی تھی۔
موجودہ دورہ اس رپورٹ کی روشنی میں اضافی اہمیت اختیار کر لیتا ہے جو ستمبر کے اوائل میں اسرائیلی اخبار ’’ہارٹز‘‘ کی طرف سے شائع کی گئی تھی، جس میں محمد بن زاید اور نتن یاھو کے درمیان سات اکتوبر کے واقعات سے پہلے ہونے والے ایک ٹیلیفونک مکالمے کے بارے میں بات کی گئی تھی۔
رپورٹ کے مطابق بن زاید نے نتن یاھو کو خبردار کیا تھا کہ غزہ میں اسلامی تحریک مزاحمت ’حماس‘ کے رہنما یحییٰ السنوار ’’اسرائیل‘‘ کے خلاف ایک بڑی کارروائی کرنے کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں اور انہوں نے اس خطرے سے سنجیدگی سے نمٹنے کی دعوت دی تھی۔
اخبار کی طرف سے پیش کی گئی خبر کے مطابق یہ بات چیت تقریباً 45 منٹ تک جاری رہی، جس کے دوران اماراتی صدر نے اپنے ان خدشات کا اظہار کیا کہ کوئی بھی بڑی کشیدگی خطے کو غیر مستحکم کرنے اور نارملائزیشن کے معاہدوں کو نقصان پہنچانے کا سبب بن سکتی ہے۔
نتن یاھو کے دفتر نے اس روایت کے درست ہونے کی تردید کی تھی، اور اسے ’’سفاکانہ جھوٹ‘‘ قرار دیا تھا، اس نے کہا تھا نیتن یاھو کی محمد بن زاید سے کوئی بات نہیں کی تھی اور نہ ہی انہیں ممکنہ حملے کے حوالے سے کوئی انتباہ موصول ہوا تھا۔
اس کے ساتھ ساتھ اماراتی اخبار ’’دی نیشنل‘‘ نے ایک نامعلوم سرکاری ذریعے کے حوالے سے،’’ہارٹز‘‘ کی رپورٹ شائع ہونے کے بعد یہ نقل کیا کہ امارات متعلقہ فریقوں کے ذریعے دیگر ممالک کے ساتھ سکیورٹی کے امور پر تبادلہ خیال کرتا ہے اور رہنماؤں کی سطح پر اس پر بحث نہیں کرتا۔
خفیہ دورہ اور سابقہ کشیدگی
امارات کا نتن یاھو کا خفیہ دورہ اپنی نوعیت کا پہلا دورہ نہیں ہے، اس سے پہلے قابض حکومت کے سربراہ کے دفتر نے گذشتہ مئی کے مہینے میں امارات کے لیے نتن یاھو کے ایک خفیہ دورے کا اعلان کیا تھا، اس وقت اسے یہ کہتے ہوئے بیان کیا گیا تھا کہ اس نے دونوں فریقوں کے درمیان تعلقات میں ایک نام نہاد ’’تاریخی پیش رفت‘‘ حاصل کرنے میں تعاون کیا تھا۔
عبرانی چینل 12 کی ایک سابقہ رپورٹ کے مطابق ابوظبی کی خواہش کے برعکس اس دورے کا انکشاف دونوں فریقوں کے درمیان کشیدگی کا سبب بنا تھا۔
موجودہ دورہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب اسرائیلی میدان ایک بڑھتی ہوئی سیاسی بحث کا مشاہدہ کر رہا ہے اور انتخابات کی تاریخ قریب آ رہی ہے، جبکہ نتن یاھو اور محمد بن زاید کے درمیان ملاقات کی تفصیلات ابھی تک صیغہ راز میں ہیں۔
اسرائیلی میڈیا کی طرف سے ملاقات کے انعقاد کی تصدیق کے باوجود تاحال نتن یاھو کے دفتر یا اماراتی فریق کی طرف سے کوئی باضابطہ اعلان سامنے نہیں آیا ہے جو بات چیت کے مندرجات یا ان فائلوں کو بے نقاب کرے جن پر دونوں فریقوں نے بحث کی۔
دورے کے اردگرد علاقائی حالات اور حساس وقت کے سائے میں بند دروازوں کے پیچھے نتن یاھو اور محمد بن زاید کی طرف سے زیر بحث لائے جانے والے امور کی نوعیت نامعلوم ہے۔