• Newsletter
  • صفحہ اول
  • صفحہ اول2
بدھ 20 مئی 2026
  • Login
Roznama Quds | روزنامہ قدس
  • صفحہ اول
  • فلسطین
  • حماس
  • غزہ
  • پی ایل او
  • صیہونیزم
  • عالمی یوم القدس
  • عالمی خبریں
  • پاکستان
  • رپورٹس
  • مقالا جات
  • مکالمہ
No Result
View All Result
  • صفحہ اول
  • فلسطین
  • حماس
  • غزہ
  • پی ایل او
  • صیہونیزم
  • عالمی یوم القدس
  • عالمی خبریں
  • پاکستان
  • رپورٹس
  • مقالا جات
  • مکالمہ
No Result
View All Result
Roznama Quds | روزنامہ قدس
No Result
View All Result
Home خاص خبریں

لندن تقریب میں نکبہ کے عینی شاہدین کی دردناک یادیں تازہ

برطانیہ میں قائم فلسطینی فورم نے پیر کی شام برطانوی سیاست دان جرمی کوربن کی سرپرستی میں فلسطینی نکبہ کے عینی شاہدین کو خراجِ تحسین پیش کرنے کے لیے ایک پروقار تقریب کا اہتمام کیا۔

بدھ 20-05-2026
in خاص خبریں, عالمی خبریں, فلسطین
0
لندن تقریب میں نکبہ کے عینی شاہدین کی دردناک یادیں تازہ
0
SHARES
0
VIEWS

لندن – (روزنامہ قدس ـ آنلائن خبر رساں ادارہ) برطانیہ میں قائم فلسطینی فورم نے پیر کی شام برطانوی سیاست دان جرمی کوربن کی سرپرستی میں فلسطینی نکبہ کے عینی شاہدین کو خراجِ تحسین پیش کرنے کے لیے ایک پروقار تقریب کا اہتمام کیا۔ اس تقریب میں سیاسی، حقوقِ انسانی اور فنی شعبوں سے تعلق رکھنے والی مقتدر شخصیات کے ساتھ ساتھ فلسطینی کمیونٹی کے افراد اور برطانوی یکجہتی کاروں نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔

اس موقع پر ہال کے ذرے ذرے میں فلسطینی ثقافت کی یادیں رچی بسی نظر آئیں۔ ہال کے داخلی راستے پر زعتر اور زیتون جبکہ اندر روایتی فلسطینی ’کوفیہ‘ اور ثقافتی ملبوسات جلوہ افروز تھے اور تمام میزوں کو ان فلسطینی دیہات اور شہروں کے ناموں سے منسوب کیا گیا تھا جہاں سے فلسطینیوں کو جبری طور پر بیدخل کیا گیا تھا، جن میں طنطورہ، عسقلان، لوبیا اور عین غزال شامل ہیں۔

اس شام سانحہ نکبہ محض ایک تاریخی واقعہ نہیں تھا جسے صرف اعداد و شمار اور تاریخوں کی زبان میں یاد کیا جاتا، بلکہ یہ ان بزرگوں کی زبانی ایک زندہ حقیقت بن کر سامنے آیا جو اپنے سینوں میں اپنے گھروں، دیہات، ساحلِ سمندر کی یادیں اور اپنے ہاتھوں میں زمین کی اصل دستاویزات تھامے ہوئے تھے۔ یہ ان خاندانی داستانوں کا تسلسل تھا جو سنہ 1948ء سے جاری مسلسل جبری بیدخلی اور مٹانے کی صیہونی سازشوں کے خلاف نسل در نسل منتقل ہو رہی ہیں۔

برطانیہ میں فلسطینی فورم کے صدر عدنان حمیدان نے کہا کہ نکبہ کے عینی شاہدین کو خراجِ تحسین پیش کرنے کا مقصد ان کی گواہیوں کو محفوظ کرنا اور انہیں آنے والی نسلوں تک پہنچانا ہے کیونکہ یہ فلسطینیوں کے حقیقی اور زندہ بیانیے کا ایک بنیادی حصہ ہیں۔

فلسطینی تاریخ برطانوی تعلیمی نصاب سے غائب ہے

برطانوی سیاست دان جرمی کوربن نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ نکبہ کے عینی شاہدین کا براہِ راست عوام کے سامنے گفتگو کرنا ایک "نہایت نایاب موقع” ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ان بزرگوں کی گواہیاں ایک "حقیقی اور جھیلا ہوا تجربہ” ہیں جو گہرے فہم اور احترام کی مستحق ہیں۔

جرمی کوربن نے فلسطین کے دیرینہ مروجہ مسئلے پر برطانیہ کو اس کی تاریخی ذمہ داری کا حصہ دار ٹھہرایا، جس کا آغاز سائیکس پیکو معاہدے اور غاصبانہ بلفور اعلامیے سے ہوا، جو برطانوی استبدادسے گزرتا ہوا قابض اسرائیل کو ہتھیاروں کی مسلسل فراہمی تک پہنچتا ہے۔

انہوں نے "العربی الجدید” سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ برطانوی عوام کو سکولوں میں فلسطین کی تاریخ نہیں پڑھائی جاتی۔ انہوں نے مزید کہا کہ روایتی طور پر جو بیانیہ پیش کیا جاتا رہا ہے وہ صرف قابض اسرائیل کو ایک ایسی ریاست کے طور پر دکھانے پر مرکوز تھا جو عرب ممالک کا سامنا کر رہی ہے، جبکہ اس دوران فلسطینیوں پر ڈھائے جانے والے مظالم اور ان کی زمین کی چوری کا سرے سے کوئی ذکر ہی نہیں کیا جاتا۔

انہوں نے برطانوی نصاب میں فلسطینی تاریخ کی تعلیم کو فروغ دینے اور فلسطینی ثقافتی ورثے بشمول ادب، شاعری، فن اور موسیقی کو تسلیم کرنے کا پرزور مطالبہ کیا اور اسے فلسطینیوں کے ساتھ حقیقی یکجہتی کا ایک لازمی حصہ قرار دیا۔

زندہ گواہیاں

دوسری جانب الشیخ خلیل النورسی نے کہا کہ فلسطین کے بارے میں ان کی یادیں ان کے والد کی زبانی سنی گئی داستانوں اور فلسطین کی تاریخ کے مطالعے سے پروان چڑھی ہیں۔ انہوں نے فلسطین کو "زیتون، لیموں، انجیر اور لازوال محبت کا وطن” قرار دیا۔

انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ فلسطینیوں کو اپنی مٹی سے اکھاڑ پھینکنے کی تمام صیہونی کوششیں، چاہے وہ گھروں کو مسمار کرنا ہو یا زیتون کے قدیم درختوں کو کاٹنا، کبھی کامیاب نہیں ہوں گی کیونکہ فلسطینی حقیقت میں ایک "جبار اور عظیم ترین استقامت والی قوم” ہیں۔

ادھر ڈاکٹر فواد صالح المزینی نے سانحہ نکبہ کو زمین اور ملکیت کے چھن جانے کے دردناک واقعے سے جوڑتے ہوئے سنہ 1973ء کی وہ یاد تازہ کی جب انہوں نے اپنے والد کے ہمراہ بئر السبع میں اپنی خاندانی زمینوں کا دورہ کیا تھا اور یہ دیکھ کر ان کا دل خون کے آنسو رویا تھا کہ غاصب دشمن نے ان کی آبائی زمین پر صیہونی کارخانے قائم کر دیے ہیں۔

ڈاکٹر المزینی نے کہا کہ وہ آج بھی اپنی زمین کی ملکیت کی اصل دستاویزات اپنے پاس محفوظ رکھے ہوئے ہیں اور وہ انہیں اپنے بچوں اور پوتوں کے حوالے کرنے کا پختہ ارادہ رکھتے ہیں کیونکہ یہ ایک خاندانی وصیت اور تاریخی حق ہے۔

انہوں نے قابض دشمن کے خلاف مزاحمت کرنے اور غاصب صیہونی فوج میں اپنے قبیلے کے نوجوانوں کی زبردستی بھرتی کو یکسر مسترد کرنے کے حوالے سے قبیلہ تیاہا کے سربراہ اور بئر السبع کے میئر الشیخ سلمان الہزیل کے تاریخی کردار کو بھی شاندار الفاظ میں خراجِ تحسین پیش کیا۔

ایک اور انتہائی رقت آمیز گواہی میں، نکبہ کے عینی شاہد ڈاکٹر محمود الحاج علی نے ایک پودا لہرایا جس کے بارے میں انہوں نے بتایا کہ یہ وحشیانہ جنگ کے دوران بھی غزہ کی پٹی میں ان کے ساتھ رہا۔ انہوں نے اسے فلسطینیوں کے صمود، لازوال استقامت اور زندگی سے وابستگی کی ایک عظیم علامت قرار دیا۔

86 سالہ الحاج علی نے بتایا کہ ان کی یادیں ان کے بچپن کے اس دور کی طرف لے جاتی ہیں جب انہوں نے اپنی آنکھوں سے طیاروں کو عسقلان پر بمباری کرتے دیکھا تھا جس کے نتیجے میں 69 فلسطینی بے دردی سے شہید ہو گئے تھے۔ انہوں نے اس ہولناک منظر کو غاصب دشمن کی اس سفاکانہ پالیسی کا حصہ قرار دیا جس کا مقصد مقامی آبادی کو خوفزدہ کر کے اپنی مٹی چھوڑنے پر مجبور کرنا تھا۔

نکبہ آغاز تھا انجام نہیں

اس تناظر میں ممتاز فلسطینی مصنفہ اور ماہرِ نفسیات ڈاکٹر غادہ الکرمی نے کہا کہ نکبہ کوئی عارضی یا معمولی واقعہ نہیں تھا بلکہ یہ ایک ایسا "مسلسل صدمہ اور المیہ” ہے جس کا آغاز فلسطینیوں کے اپنے گھروں کو چھوڑ کر ان جگہوں پر منتقل ہونے سے ہوا جو ان کے پیارے وطن سے بالکل مختلف تھیں۔

انہوں نے اپنے خاندان کی فلسطین سے دمشق اور پھر وہاں سے لندن منتقلی کی داستان سناتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ سنہ 1948ء میں معصوم فلسطینیوں کو یہ اندازہ نہیں تھا کہ یہ نکبہ تو محض "ایک ہولناک آغاز تھا انجام نہیں”۔

ڈاکٹر غادہ الکرمی نے موجودہ لمحے کو سنہ 1948ء کے دور سے بھی "کہیں زیادہ تاریک اور سنگین” قرار دیا اور مغربی ممالک کو قابض اسرائیل کی ہر سطح پر سیاسی و عسکری پشت پناہی کرنے اور اسے عالمی احتساب سے بچانے کا براہِ راست ذمہ دار ٹھہرایا۔ تاہم انہوں نے پختہ لہجے میں واضح کیا کہ فلسطینیوں کے وجود کو مٹانے کی کوئی بھی صیہونی سازش کبھی کامیاب نہیں ہو سکے گی کیونکہ لندن میں طویل برس گزارنے کے باوجود مقبوضہ بیت المقدس آج بھی ان کے دل کی ہر دھڑکن میں زندہ ہے۔

Tags: EventHistoryHuman RightsJeremy CorbynlondonMiddle EastNakbapalestineRefugeesTestimony
ShareTweetSendSend

ٹوئیٹر پر فالو کریں

Follow @roznamaquds Tweets by roznamaquds

© 2019 Roznama Quds Developed By Team Roznama Quds.

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In
No Result
View All Result
  • Newsletter
  • صفحہ اول
  • صفحہ اول2

© 2019 Roznama Quds Developed By Team Roznama Quds.