بیروت – (روزنامہ قدس ـ آنلائن خبر رساں ادارہ) حزب اللہ کے سیکرٹری جنرل نعیم قاسم نے جنگ بندی کے کسی بھی ایسے فارمولے کو مسترد کر دیا جو قابض اسرائیل کو لبنانی سرزمین کے اندر فوجی کارروائی کی آزادی دیتا ہو۔ انہوں نے واضح کیا کہ اس طرح کی کوئی بھی صورتِ حال جنگ کا خاتمہ نہیں بلکہ جارحیت کا تسلسل ہے۔
ایک ٹیلی ویژن خطاب میں نعیم قاسم نے کہا کہ "انہوں نے کہا کہ جنگ بندی کا مطلب یہ ہے کہ حزب اللہ فائرنگ نہ کرے، لیکن اسرائیل کو اپنی مرضی کرنے کی آزادی ہو، وہ جہاں چاہے قتل و غارت کرے اور جہاں چاہے پیش قدمی کرے۔” انہوں نے مزید کہا: "یہ جارحیت کا تسلسل ہے اور ہم اسے ہرگز قبول نہیں کریں گے”۔
انہوں نے وضاحت کی کہ جنگ بندی کے حقیقی مفہوم کا تقاضا ہے کہ فضائی، زمینی اور سمندری راستوں سے جارحیت مکمل طور پر بند کی جائے، انہدام کا سلسلہ روکا جائے اور قابض علاقوں میں اسرائیلی وجود کو مسلط ہونے سے روکا جائے۔
انہوں نے لبنانی سرزمین پر قابض اسرائیلی فوج کی موجودگی یا کسی بھی سکیورٹی زون کے قیام کو سختی سے مسترد کیا۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ لبنانی فوج ہی خودمختاری کی حفاظت اور لبنانی سرزمین پر تعیناتی کی واحد ذمہ دار ہے اور حزب اللہ اس حوالے سے فوج کے ساتھ تعاون کر رہی ہے۔
سیاسی امور پر بات کرتے ہوئے نعیم قاسم نے لبنانی حکومت پر زور دیا کہ وہ حال ہی میں دستخط شدہ امریکی ایرانی مفاہمت کی یادداشت کے عمل سے فائدہ اٹھائے اور امریکہ و دیگر عرب ممالک کی تقلید کرتے ہوئے ایران کے ساتھ اپنے تعلقات کو بہتر بنائے۔
نعیم قاسم کے یہ بیانات قابض اسرائیل کے وزیراعظم بنجمن نیتن یاھو کی جانب سے آج کیے گئے اس دعوے کے بعد سامنے آئے ہیں جس میں انہوں نے لبنانی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی ضمانت دینے والے ایرانی امریکی معاہدے کے باوجود جنوبی لبنان میں نام نہاد "سکیورٹی بیلٹ” پر قبضہ برقرار رکھنے کا اعلان کیا۔
اس سے قبل گذشتہ دو دنوں کے دوران اسرائیلی حکام، بشمول وزیر دفاع یسرائیل کاٹز اور چیف آف اسٹاف ایال زامیر نے بھی اعلان کیا تھا کہ قابض اسرائیل جنوبی لبنان میں بفر زون سے انخلا کا کوئی ارادہ نہیں رکھتا۔
یاد رہے کہ ایران اور امریکہ نے 14 جون سنہ 2026ء کو پاکستانی ثالثی کے ذریعے 14 نکاتی مفاہمت تک پہنچنے کا اعلان کیا تھا، جس کا مقصد جنگ کا خاتمہ اور بات چیت و مذاکرات کے ذریعے دونوں فریقین کے درمیان اختلافات کو حل کرنا ہے۔
"اسلام آباد مفاہمت” کے نام سے موسوم یہ یادداشت 18 جون سنہ 2026ء کو ایرانی صدر مسعود پزشکیان اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے الیکٹرانک دستخط کے بعد نافذ العمل ہو گئی تھی۔
اس مفاہمت میں جنگ کے خاتمے، بشمول لبنان کی صورتحال، آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے اور ایران پر امریکہ کی جانب سے عائد کردہ بحری ناکہ بندی ختم کرنے سے متعلق شقیں شامل ہیں۔
واضح رہے کہ دو مارچ سنہ 2026ء سے اسرائیل لبنان پر اپنی جارحیت جاری رکھے ہوئے ہے، جس کے نتیجے میں لبنانی وزارت صحت کے اعداد و شمار کے مطابق اب تک 4106 افراد شہید اور 12153 زخمی ہو چکے ہیں، جبکہ دس لاکھ سے زائد افراد نقل مکانی پر مجبور ہوئے ہیں۔