بیروت – (روزنامہ قدس ـ آنلائن خبر رساں ادارہ) حزب اللہ کے جنرل سیکرٹری نعیم قاسم نے کہا ہے کہ قابض اسرائیل کے ساتھ براہ راست مذاکرات "لبنان کے لیے کچھ حاصل نہیں کریں گے” اور یہ تل ابیب کے لیے "خالص فائدہ” ہیں، انہوں نے یہ بات اگلے ماہ کے شروع میں واشنگٹن میں ہونے والے چوتھے دور کے متوقع مذاکرات سے قبل کہی۔
نعیم قاسم کے یہ بیانات "عیدِ مزاحمت اور آزادی” کے موقع پر ایک ٹیلی ویژن خطاب میں سامنے آئے جسے لبنانی میڈیا نے نشر کیا، جس کے دوران انہوں نے لبنانی ریاست سے قابض اسرائیل کے ساتھ براہ راست مذاکرات سے الگ ہونے کی اپیل کی اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ "مزاحمت کی پیٹھ میں چھرا نہ گھونپیں”۔
انہوں نے کہا کہ قابض اسرائیل کا منصوبہ "مزاحمت کی نسل کشی اور لبنان پر بتدریج قبضہ کرنے” پر مبنی ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ "مزاحمت فوج اور عوام کے ساتھ ایک ایسے تثلیث میں شامل تھی جس نے آزادی کی کامیابی حاصل کی”۔
حزب اللہ کے ہتھیاروں کے حوالے سے نعیم قاسم نے اس بات پر زور دیا کہ انہیں چھیننے کا مطلب "نسل کشی” ہے، انہوں نے کہا: "ہتھیار چھیننا لبنان کی دفاعی صلاحیت اور مزاحمت و اس قوم کی طاقت کو ختم کرنا ہے تاکہ نسل کشی کی راہ ہموار کی جا سکے۔ صاف اور فصیح الفاظ میں سمجھ لیں، نہتے کرنا نسل کشی ہے اور یہ ایسی چیز ہے جسے ہم کبھی قبول نہیں کر سکتے”۔ انہوں نے لبنانی حکام کی طرف سے صرف ریاست کے پاس ہتھیار رکھنے کے مطالبات کو بھی "ایک اسرائیلی منصوبہ قرار دیا جو مزاحمت کو نشانہ بناتا ہے”۔
سیکرٹری جنرل نے لبنانی حکومت پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا: "اگر حکومت خودمختاری کو یقینی بنانے سے عاجز ہے تو اسے مستعفی ہو جانا چاہیے اور عوام کا یہ حق ہے کہ وہ اسے گرانے اور امریکی اسرائیلی منصوبے کا مقابلہ کرنے کے لیے سڑکوں پر نکلیں”، انہوں نے مزید کہا کہ "ہم ریاست سے امریکی اسرائیلی منصوبے کا مقابلہ کرنے کا مطالبہ نہیں کر رہے لیکن اسے اس منصوبے کو آسان بنانے کا آلہ کار بھی نہیں بننا چاہیے”۔
نعیم قاسم نے سوال اٹھایا: "لبنانی انتظامیہ خودمختاری اور تحفظ کی ذمہ دار ہے تو کیا وہ اس بارے میں آئین میں درج شقوں پر عمل پیرا ہے؟” انہوں نے لبنانی حکام پر زور دیا کہ وہ "مزاحمت کو مجرم ٹھہرانے” سے باز آئیں اور اس بات کی تصدیق کی کہ حالیہ امریکی پابندیاں حزب اللہ کو مزید مضبوط بنائیں گی۔
اسی تناظر میں نعیم قاسم نے امید ظاہر کی کہ امریکہ اور تہران کے درمیان جنگ ختم کرنے کے لیے کسی بھی ممکنہ معاہدے میں لبنان بھی شامل ہوگا، انہوں نے کہا: "ان شاء اللہ یہ معاہدہ طے پا جائے گا اور اس کے مکمل ہونے کے آثار موجود ہیں، لہذا ہم بھی ان لوگوں میں شامل ہوں گے جنہیں یہ معاہدہ اپنے دائرے میں لے گا، یعنی دشمنی کی کارروائیوں کو مکمل طور پر روکنے کا معاہدہ”۔
نعیم قاسم نے اس بات پر زور دیا کہ "قابض اسرائیل جو کچھ کر رہا ہے وہ مستقل نہیں رہے گا اور فلسطین ہی ہمارا اصل رخ ہے اور ہم ہمیشہ اس کے شانہ بشانہ کھڑے رہیں گے”، انہوں نے عزم ظاہر کیا کہ "مزاحمت کے ڈرون طیارے قابض اسرائیلی دشمن کے فوجیوں کا تعاقب جاری رکھیں گے”۔
انہوں نے مزید کہا کہ قابض اسرائیل "کبھی بھی اپنے نقصانات کا اعتراف نہ کرتا اگر ڈرون طیاروں کی فلم بندی نہ ہوتی”، انہوں نے اشارہ کیا کہ دشمن کی طرف سے شہریوں اور مکانات کو نشانہ بنانے کے مقابلے میں جنوب لبنان میں قابض اسرائیل کا حقیقی نقصان ہوا ہے۔
حالیہ عرصے کے دوران حزب اللہ کے ڈرون طیارے قابض اسرائیل کے اندر بڑھتی ہوئی تشویش کا باعث بن چکے ہیں، خاص طور پر جب غاصب صہیونی دشمن ریاست کے وزیر اعظم بنجمن نیتن یاھو نے انہیں ایک "بڑا خطرہ” قرار دیا اور قابض فوج سے ان کا مقابلہ کرنے کے لیے حل تلاش کرنے کا مطالبہ کیا، جبکہ ان حملوں کے نتیجے میں ہونے والے نقصانات کے حجم پر مسلسل اسرائیلی سنسرشپ اور بلیک آؤٹ جاری ہے۔
یہ ڈرون طیارے فائبر آپٹک کی ایک باریک تار پر انحصار کرتے ہیں جو پرواز کے دوران اس پر لگی ایک چرخی سے بتدریج کھلتی جاتی ہے، جس سے جامنگ کے قابل ریڈیو لہروں کے بجائے اس تار کے ذریعے احکامات اور تصاویر براہ راست منتقل کرنے کی سہولت ملتی ہے۔
اس کے علاوہ ان ڈرون طیاروں کو گلوبل پوزیشننگ سسٹم "جی پی ایس” یا وائرلیس سگنلز کی ضرورت نہیں ہوتی، جس کی وجہ سے ان کا الیکٹرانک نشان بہت مدہم ہوتا ہے اور ان کا پتہ لگانا انتہائی مشکل ہو جاتا ہے۔
حزب اللہ جنوب لبنان اور شمالی اسرائیل میں قابض اسرائیل کے فوجی ٹھکانوں اور گاڑیوں پر اپنے حملے جاری رکھے ہوئے ہے جو کہ گذشتہ 17 اپریل سے نافذ العمل اور اگلے جولائی کے شروع تک بڑھائے گئے سیز فائر (یا جنگ بندی) کے معاہدے کی اسرائیلی خلاف ورزیوں کے جواب میں ہیں۔