نیویارک (روزنامہ قدس ـ آنلائن خبر رساں ادارہ) اردن کے شاہ عبداللہ دوم نے خبردار کیا ہےکہ اسرائیلی وزیر اعظم بینجمن نتن یاھو کے دور میں اسرائیل کے توسيع پسندانہ عزائم اب علاقائی خطرہ بن چکے ہے۔ العربیہ اردو کے مطابق اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیلی حکومت کے توسیع پسندانہ عزائم اب ایک علاقائی خطرہ بن چکے ہے ۔
انہوں نے شام میں مسلسل دراندازی اور پھیلتے ہوئے جغرافیائی پھیلائو سے خبردار کیا جہاں اسرائیل نے گزشتہ مہینوں کے دوران ملک کے جنوبی حصے میں مزید رقبے پر قبضہ کر لیا ہے۔ اردن کے بادشاہ نے کہا کہ کئی دہائیوں سے فلسطین اسرائیل تنازعےکا حل کے بغیر جاری رہنا بین الاقوامی برادری کی جانب سے تنازع کو حل کرنے کا مقابلہ کرنے کی بجائے اسے قابو میں رکھنے کا انتخاب کرنے کا نتیجہ ہے۔
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ غزہ اور مغربی کنارے میں جو کچھ ہو رہا ہے اسے الگ تھلگ واقعات کے طور پر نہیں دیکھا جا سکتا۔ شاہ عبداللہ نے اس بات پر زور دیا کہ غزہ میں جو کچھ ہو رہا ہے اسے اب عارضی فوجی اقدامات یا جنگ کے اثرات نہیں سمجھا جا سکتا جبکہ مغربی کنارے میں ایک بڑی تبدیلی دیکھنے میں آ رہی ہے جو آباد کاروں کے بڑھتے ہوئے تشدد، زمینوں پر قبضہ، بستیوں کی توسیع اور فلسطینیوں کی بے دخلی کی شکل میں ہے، انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ غزہ اور مغربی کنارے میں اسرائیلی پالیسیاں اسرائیلی حکمت عملی کے دو رُخ ہیں۔
اردن کے شاہ عبداللہ دوم نے اس بات کی طرف اشارہ کیا کہ بین الاقوامی برادری کے پاس حرکت میں آنے کے آلات موجود ہیں جن میں پابندیاں عائد کرنا ، اثاثے منجمد کرنا اور سفارتی تنہائی شامل ہے، لیکن اسرائیل سے متعلق فیصلے صرف کاغذ کی سیاہی بن کر رہ جاتے ہیں۔ ایک اور تناظر میں شاہ عبداللہ نے اس بات پر زور دیا کہ اردن کی شمالی سرحد یا اس کی آبی سلامتی کو کوئی بھی خطرہ ملکی سلامتی کے لیے خطرہ ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہم اپنی سلامتی، اپنے پانیوں اور اپنے عوام کے مفادات کا دفاع کریں گے۔ انہوں نے دہشت گردی اور منشیات کی سمگلنگ کی روک تھام ، اپنی دفاعی صلاحیتوں کو مضبوط کرنے اور خطے کے ساتھ اپنے معاشی، تجارتی اور تکنیکی تعلقات کو استوار رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا۔ اردن کے شاہ عبداللہ دوم نے منصفانہ امن کے عزم، فلسطینی عوام اور ’انروا‘ کی استقامت کی حمایت، مقبوضہ بیت المقدس میں اسلامی اور مسیحی مقدسات کے تاریخی اور قانونی موجودہ مقام کو برقرار رکھنے کے عزم کی تجدید کی۔ انہوں نے کہا کہ سفارت کاری سے اردن کی وابستگی انسانی اقدار کے لیے اس کے عزم سے بالاتر نہیں ہے اور نہ ہی اسے کمزوری کے طور پر غلط سمجھا جانا چاہیے۔