• Newsletter
  • صفحہ اول
  • صفحہ اول2
جمعرات 1 جنوری 2026
  • Login
Roznama Quds | روزنامہ قدس
  • صفحہ اول
  • فلسطین
  • حماس
  • غزہ
  • پی ایل او
  • صیہونیزم
  • عالمی یوم القدس
  • عالمی خبریں
  • پاکستان
  • رپورٹس
  • مقالا جات
  • مکالمہ
No Result
View All Result
  • صفحہ اول
  • فلسطین
  • حماس
  • غزہ
  • پی ایل او
  • صیہونیزم
  • عالمی یوم القدس
  • عالمی خبریں
  • پاکستان
  • رپورٹس
  • مقالا جات
  • مکالمہ
No Result
View All Result
Roznama Quds | روزنامہ قدس
No Result
View All Result
Home خاص خبریں

خان یونس کے ملبے تلے شہید خاندان کے 25 افراد کی نعشیں نکالی گئیں

خان یونس کے علاقے میں شہید خاندان کی رہائش گاہ مکمل طور پر تباہ ہو گئی، جس کے ملبے سے 25 فلسطینی شہریوں کی لاشیں برآمد ہوئیں

جمعہ 26-12-2025
in خاص خبریں, صیہونیزم, غزہ
0
خان یونس کے ملبے تلے شہید خاندان کے 25 افراد کی نعشیں نکالی گئیں
0
SHARES
26
VIEWS

روزنامہ قدس ـ آنلائن خبر رساں ادارہ

غزہ میں شہری فا ع اعلان کیا ہے کہ جنوبی غزہ کے شہر خان یونس میں ایک تباہ شدہ گھر کے ملبے تلے سے 25 فلسطینیوں کی لاشیں نکال لی گئی ہیں جن میں صحافی ہبہ العبادلہ اور ان کی والدہ بھی شامل ہیں۔ ادارے کے مطابق یہ تمام فلسطینی قابض اسرائیل کی نسل کش جنگ کے دوران شہید ہوئے تھے۔

جاری کیے گئے مختصر بیان میں بتایا گیا کہ خان یونس میں دفاعی شہری ادارے کی ٹیموں نے فرانزک ٹیموں کے تعاون سے السطل خاندان کے گھر کے ملبے سے 25 شہدا کی لاشیں برآمد کیں۔ یہ مکان السطر الغربی کے علاقے میں واقع تھا اور اس کے ملبے تلے صحافی ہبہ العبادلہ اور ان کی والدہ کی باقیات بھی پائی گئیں۔

جمعرات کی صبح شہری دفاع ادارے نے اس گھر کے ملبے سے لاپتا افراد کی لاشیں نکالنے کے لیے کھدائی کا آغاز کیا تھا۔ یہ مکان دو برس قبل قابض اسرائیل کی نسل کش جنگ کے دوران مکمل طور پر تباہ کر دیا گیا تھا۔

شہری دفاع غزہ کی پٹی میں ان فلسطینیوں کی لاشوں کی تلاش کے لیے منظم کارروائیاں انجام دے رہا ہے جو ان گھروں اور عمارتوں کے ملبے تلے دبے ہوئے ہیں جنہیں قابض اسرائیل نے نسل کشی کے دو برسوں کے دوران مسمار کیا۔

شہری دفاع کے مطابق یہ کارروائیاں ریڈ کراس کی بین الاقوامی کمیٹی کی معاونت سے انجام دی جارہی ہیں جن میں غزہ کی تعمیر نو کے لیے عرب اتھارٹی، ہنگامی کمیٹی تیز رفتار ردعمل انتظامیہ فرانزک اور عدالتی طب کی ٹیمیں وزارت صحت اور وزارت اوقاف کے علاوہ شہدا کے لواحقین اور قبائل و خاندانوں کے نمائندے بھی شریک ہیں۔

ادارے نے واضح کیا کہ اس کی ٹیمیں نہایت سادہ اور ابتدائی مشینری کے ساتھ کام کرنے پر مجبور ہیں جبکہ چند پرانی اور خستہ حال بھاری مشینیں بھی استعمال کی جارہی ہیں کیونکہ قابض اسرائیل جدید مشینری کو ملبہ ہٹانے کے لیے غزہ میں داخل ہونے سے روک رہا ہے۔

دفاعی شہری ادارے کے مطابق سنہ 10 اکتوبر کے بعد جب غزہ میں سیز فائر معاہدہ نافذ ہوا تو لاشوں کی تلاش کا عمل طویل عرصے تک غیر منظم رہا۔ اکثر اوقات عام شہری یہ کام انجام دیتے رہے کیونکہ دفاعی شہری ادارے کے پاس ملبہ ہٹانے کے لیے ضروری آلات موجود نہیں تھے۔

قابض اسرائیل اب بھی ملبے کے نیچے دبی لاشوں کو نکالنے کے لیے بھاری مشینری اور آلات کو غزہ میں داخل ہونے کی اجازت دینے سے انکار کر رہا ہے جس کے باعث ہزاروں فلسطینی شہدا کی لاشیں ملبے تلے دفن ہیں۔

غزہ کے سرکاری میڈیا دفتر کے مطابق قابض اسرائیل نے سیز فائر معاہدے کے انسانی پروٹوکول کی کھلی خلاف ورزی کی ہے جن میں ملبے تلے دبی لاشوں کو نکالنے کے لیے درکار سینکڑوں بھاری مشینوں کے داخلے پر پابندی بھی شامل ہے۔

گذشتہ دو ماہ کے دوران قابض اسرائیل نے صرف محدود پیمانے پر بھاری مشینری غزہ میں داخل کرنے کی اجازت دی جو اپنے اسیران کی لاشوں کی تلاش کے لیے استعمال کی گئی جبکہ فلسطینی شہدا کی لاشوں کے لیے ایسی ہی مشینری کے داخلے پر پابندی برقرار رکھی گئی۔

لاشوں کی شناخت کا عمل ان فلسطینی خاندانوں کے ذریعے انجام دیا جارہا ہے جنہوں نے نسل کش جنگ کے آغاز سے اپنے پیاروں کو کھو دیا تھا۔ شناخت باقی ماندہ جسمانی نشانات یا ان کپڑوں کے ذریعے کی جارہی ہے جو شہدا نے لاپتا ہونے سے قبل پہن رکھے تھے جبکہ خصوصی طبی آلات کی عدم موجودگی اس عمل کو مزید کٹھن بنا رہی ہے۔

Tags: Civilian CasualtiesgazaGaza ConflictIsraeli aggressionIsraeli BombingKhan YounisOccupied PalestinePalestine NewsPalestinian FamiliesPalestinian Martyrs
ShareTweetSendSend

ٹوئیٹر پر فالو کریں

Follow @roznamaquds Tweets by roznamaquds

© 2019 Roznama Quds Developed By Team Roznama Quds.

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In
No Result
View All Result
  • Newsletter
  • صفحہ اول
  • صفحہ اول2

© 2019 Roznama Quds Developed By Team Roznama Quds.