رام اللہ – (روزنامہ قدس ـ آنلائن خبر رساں ادارہ) فلسطینی اسیران کے میڈیا آفس نے قابض صہیونی عقوبت خانوں کے اندر جولائی کے مہینے کے دوران اسیران کو درپیش مظالم میں وسیع پیمانے پر اضافے کی نئی تفصیلات پر مبنی رپورٹ جاری کی ہے، اس رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ جولائی کےدوران صہیونی عقوبت خانوں میں پابند سلاسل فلسطینی قیدیوں کو ٹارچر، بھوکا رکھنا، طبی غفلت اور قیدِ تنہائی کے ہتھکنڈوں کا سامنا کرنا پڑا۔
آفس نے جاری کردہ ایک تحقیقی مقالے میں واضح کیا کہ اسیران کی کل تعداد بانوے سو تک پہنچ گئی ہے، جن میں چونانوے قیدی خواتین، 350 بچے، 3244 انتظامی قیدی اور 1320 ایسے افراد شامل ہیں جنہیں نام نہاد "غیر قانونی جنگجو قانون” کے تحت حتمی کیا گیا ہے، جب کہ غزہ پٹی پر جنگ کے آغاز سے لے کر اب تک گرفتاری کے کیسز 24600 سے تجاوز کر چکے ہیں۔
مقالے میں جیلوں کے اندر ظلم و ستم کے آپریشنز میں اضافے کی نشاندہی کی گئی، جن میں وارڈوں پر دھاوے بولنا، اسیران پر تشدد کرنا، ربڑ کی گولیاں اور شکاری کتے استعمال کرنا، اس کے علاوہ تنہائی میں ڈالنا اور توہین آمیز تلاشی لینا شامل ہیں۔
اس بات کی تصدیق کی گئی کہ الدامون جیل میں قیدی خواتین کے خلاف زیادتیاں جاری ہیں، جہاں بیماریاں اور طبی غفلت بڑے پیمانے پر پھیلی ہوئی ہیں، اور جسمانی و جنسی تشدد کے لرزہ خیز مظاہر کی دستاویزی تصدیق کی گئی ہے، بالخصوص غزہ پٹی کے قیدیوں کے معاملے میں۔
مقالے میں اس جانب اشارہ کیا گیا کہ قابض حکام انتظامی گرفتاری کی گھناؤنی پالیسی پر مسلسل عمل پیرا ہیں، نام نہاد "غیر قانونی جنگجو قانون” کے اطلاق میں وسعت لا رہے ہیں، اسیر تحریک کے رہنماؤں کو تنہائی اور تشدد کا نشانہ بنا رہے ہیں، ایسے حالات میں جب بیمار اسیران کی طبی حالت دن بہ دن بگڑ رہی ہے، جن میں سب سے نمایاں نام اسیر ڈاکٹر حسام أبو صفيہ کا ہے۔
رہائی پانے والے اسیران کی گواہیوں سے یہ بات کھل کر سامنے آئی کہ انہیں گرفتاری کے پہلے لمحے سے ہی مار پیٹ، تذلیل، ٹارچر اور برہنہ تلاشی کا سامنا کرنا پڑتا ہے، اور یہ سفاکانہ حربے تفتیش اور ایک جیل سے دوسری جیل منتقلی کے دوران بھی جاری رہتے ہیں۔
گواہیوں نے بھوک کی پالیسی کے تسلسل، کھانے کے خراب معیار، لباس اور صفائی ستھرائی کے سامان سے محرومی، کھلے صحن میں چہل قدمی کے وقت میں کمی کو بے نقاب کیا، جس نے اسیران کے کٹھن حالاتِ زندگی اور صحت کے بگاڑ کو مزید سنگین بنا دیا۔
مقالے میں جلد کی بیماریوں، جن میں سب سے نمایاں سکیابیوس یعنی خارش کا مرض ہے، کے پھیلاؤ کی طرف توجہ مبذول کرائی گئی، جبکہ علاج اور طبی نگہداشت سے مسلسل محرومی کا سلسلہ جاری ہے، اس کے علاوہ اس نے غزہ پٹی کے قیدیوں کو درپیش سخت تفتیش، بار بار ہونے والے تشدد، اور غیر انسانی حالات میں قید رکھے جانے کے معاملے کو بھی اجاگر کیا۔
اس امر پر زور دیا گیا کہ ٹارچر کے اثرات صرف جسمانی نقصان تک محدود نہیں رہتے، بلکہ نفسیاتی پہلوؤں تک محیط ہوتے ہیں، جو اسیران کے اندر لگاتار صدمات، خوف اور ڈراونے خوابوں کی کیفیات چھوڑ جاتے ہیں اور اس نے عالمی برادری سے پرزور مطالبہ کیا کہ وہ ان زیادتیوں کو رکوانے اور فلسطینی قیدیوں کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے فوری طور پر حرکت میں آئے۔